روشنی

9843e2d314c0bf4795419b7052131007
by Georges de la Tour

چلو یہ مانا

کہ ہمیں رواجوں کی بقا کیلئے

محبت کو فنا کرنا ہے

فصیل اجتناب کی الگنی پر لٹکتی

مجبوری کو تاعمر

فیصلوں کے گلے کا ہار کرنا ہے

رگ بصارت پر مصلحتوں کے خنجر سے

یوں حد لگانی ہے

کہ خواہشوں کے جسم

ان میں مقید ہو جائیں

اور بغاوتیں کوئی چور دروازہ

نہ تلاش کر پائیں

چلو یہ بهی مانا

کہ ہم تم چاہ کر بهی

وفا نہیں کر سکتے

بے جان دھڑکنوں میں

کوئی ریشہ حیات

نہیں ٹانک سکتے

مگر ایک سچ یہ بهی ہے جاناں

کہ محبت فانی وجود نہیں

یہ تو کوئی آسمانی روح ہے

جو زندگی کی اماوس راتوں کو

امید کے چراغاں سے آباد کرتی ہے

تیرگی کی بستی برباد کرتی ہے

تمام دیواریں پهلانگتی ہے

سب زنجیریں کهولتی ہے

ساری حدیں مٹاتی ہے

خوابوں کو ازن رہائی دیتی

علم بغاوت لہراتی

شعور کی سلطنت فتح کرتی ہے

چند لحظوں کو ہی سہی

چلو ایک بار اس مشعل سچائی کی تابانی

سےنگاھیں خیرہ کریں

ان راستوں پر جائیں

جہاں اندهے رواجوں کی پہرےداری ہے

اور وہ دروازے

جو ہماری بزدلی نے مقفل کر رکهے ہیں

زمانے سے نظر بچا کے ان کے پار ہو آئیں

کوئی ابدی قسم کوئی دوام لمحہ

وہاں سے چرا لائیں

اور جب راہ زیست سے

جدائی موڑ کاٹ جائے

تاریکی غالب آ جائے

سب کچھ بےمعنی ہو جائے

وہ جگمگاتی قسم وہ چمکتا لمحہ تهامے

باقی کا سفر جیون پورا کر لیں

Media file taken from en.m.Wikipedia.org

Advertisements

16 thoughts on “روشنی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s