بہار

cf2e4aad24611cfdc90920d45516bac1
spring mood by Nuno Milheiro

جاتے فروری کی یہ سرکش شام

       اتراتی ہوئی در فلک سے جهانکتی ہے

سورج کا الوداعی بوسہ

آسمان پر گلنار ہے

اور دو وقت ایک دوسرے کی باہوں میں

شفق رچے سرمئ مکالمے گنگناتے ہیں

یہ ہم آغوشی گہری ہوتے ہوتے

ایک ہی قالب میں ڈهل جائے گی

سیاہ..ستاروں کے ملبوس میں

چاند کو ماتهے پہ مہراب کئیے

بہار آدهے کهلے پهولوں کی

اوٹ سے جهانکتی ہے

اور مہکتی ہواؤں کے جال یوں پهینکتی ہے

کہ مدفن دلوں کے لئیے

امنگیں، دھڑکنیں ڈهونڈ لاتی ہے

کیا یہ ممکن ہے کہ دل زندہ ہو

اور تمہارے خیال کی لہریں

مجھے اپنی محبت کے

سمندر میں نہ کھینچ لے جائیں؟

تو اچانک سے یہ پگڈنڈی

مجھے راہ جنت سے بهی ارفع

لگنے لگی ہے

تمهارے قدموں کی ماوراءدنیا چاپ

میری حسیات میں

سفید کنول کی مانند

کهلنے لگی ہے

آؤ سامنے آؤ

روح ونظر کے باب بیتاب

منتظر منتشر ہم مثال سیماب

آؤ کہ تمہارا آیتوں سا سواگت کروں

سجدہ چشم سلام شنگرفی لب

یقین کامل کی آنچ میں پگهلے ہوئے نزرانے تمہارے

آؤ کہ غالب کے شعروں سا سراہوں تمہیں

ہر لفظ ہزار داستان

ہر غزل اسرار کائنات جیسی

اک خوشگوار حیرت میں تمہیں پڑہتی جاؤں بہکتی جاؤں

آؤ فیض کی نظموں کی طرح

تمہاری گرمجوش مگر مترنم لے میں

زماں ومکاں کی بندشیں جھٹلاؤں

آؤ اس راستے پہ

آؤ فرقت کے عدم سے وجود وصال میں

 آؤ اس پل صرف تمہاری مشکبار یاد سے

دل نہیں سنبهلتا وقت نہیں بہلتا

آؤ میری بہار مجھ میں

میری روح سے ہمکلام ہو

گل احمریں کی طرح

میں تمہاری آمد کی عید مناؤں

تمہاری سورج مکھی ہو جاؤں

یوں کہ تمہارا نزول میری شروعات ہو

اور تمہارے اختتام پہ ہی تمام ہو جاؤں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s