ُممکنات

یہ کس نے کہا کہ اگر تم مجھ سے عہدِ وفا کر بھی لو

تو میں تم سے ایفائے عہد کا بھی تقاضا کروں

تم جو کوئی احمریں رنگ گلاب میری نذر کرو 

تو میں چاہوں کہ تم میری زندگی کو بھی مہک آفریں کرو

سچ مانوں تو محبت میں ضروری نہیں

کہ امیدیں اپنے ہر صورت گر کے تخیل میں 

سرفرازیِ حاصل کے نقوش یوں روشن کریں 

کہ اس کا تمام ہنرِ محبت لازوال ہو جائے 

یا پھر قسمت یوں سخاوت کرے

کہ اک عمر دشتِ خواہش میں بھٹکتی دعائیں 

انتظار کی سرحد پر منتظر کاسہِ دل میں 

تکمیل کے نام کا سِکہ یوں اُچھالیں

کہ صدیوں سے منجمد دھڑکنوں میں 

ربطِ زندگی کشید ہو جائے 

ضروری تو یہ بھی نہیں 

کہ جستجوِ وصل کا سحر سدا حکمران رہے 

یہ ہو سکتا ہے کہ 

لاحاصل کی لذت مجھ پر عیاں ہو جائے 

اور میں بھی بے نوائی کا اسمِ اعظم اپنا ورد کر لوں

 

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s