عہدِ ریا اور میں

اِس عہدِ ریا میں خاموشی ہی امان ہو جیسے
اِنصاف بھی اپنےمنصف سے بدگماں ہو جیسے

حرفِ سچائی بھی باعثِ ملال و دار ٹھہرااب
رواداری کوئی بھوُلی ہُوئی داستان ہو جیسے

جینے کی خواہش رکھنا بھی اِک بارِ گراں ہُوا
رُوح پہ کوئی لازوال ہجر سا مہرباں ہو جیسے

کسی رات تو ہم نے دانستہ چاند کو بجھایا
روشنی کے کارن یقین لُٹنے کا امکان ہو جیسے

اُسکا ذکرِ حُزیں گُفتگُو میں اِس طور آتا ہے
غریب کی کُٹیا میں قیمتی سامان ہو جیسے

کسی اور دُنیا میں وہ آج بھی میرا محور ہے
مجھ میں رہتا اُسکا کوئی قدر دان ہو جیسے

کُچھ ان کہی ہیں کُچھ خُود نمائی کی شیدا
دِل کی باتوں کے بھی پوشیدہ ارمان ہوں جیسے

سنگِ ملامت اُسے داغدار کیا کر پائیں گے
میرا ظرف  تو مغرُور نیلگوں آسمان ہو جیسے

Advertisements

One thought on “عہدِ ریا اور میں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s