Parallel Universe: دُوسری دُنیا

اب کے ایسا ہے
کہ منزل کو سراغ نہیں ملتا
ان قدموں کا
جنہیں اس کے حج پہ آنا تھا
اسکے پتھر دل کو بوسہ دینا تھا
اسکے خار پہ ننگے پیر چلنا تھا
اور اسکے بُت پہ
رُوح کے ٹکڑے نچھاور کرنا تھے
کچھ ایسا ہوا ہے کہ
سفر جادواں ہو گیا ہے
اور منزل فنا فی السفر میں
اپنا زائر کھوجتی ہے

Advertisements