روز پُلِ صراط سے گُزرتے ہیں

روز پلِ صراط سے گزرتے ہیں
تیرے بندے یوں گزر کرتے ہیں
اب راہزنوں کا کوئی ڈر نہیں
راہبریِ دوستاں سے ڈرتے ہیں
اسکی اُٹھان میں بے بسی ہے
موجِ عشق سے پرے چلتے ہیں
رُخِ ہوا سے زخمی ہے بادبان
سمندر بھنور میں جلتے ہیں
مُسافرو اپنے ہمراہ سفر کرو
ہمراہی وعدے سے پلٹتے ہیں
گرمئی جذبات وحشت دے گی
آؤ پھر سے جاڑہ اوڑھتے ہیں
بےرخی اِسے خاک کرے گی
اب کے محبت سے مُکرتے ہیں

Advertisements

جو منزلوں کے ٹُھکرائے ہوئے ہیں

جو منزلوں کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
وہی کشتیاں جلا کے آئے ہوئے ہیں
رات بھر آنکھوں میں چُبھتا رہتا ہے
یوں تلخیِ ہجر کے ستائے ہوئے ہیں
محبت اپنی جگہ، خاموش ہی رہو
یہ لفظ تو۔۔ سب آزمائے ہوئے ہیں
مانا، وقت کے اپنے ہی سانچے ہیں
ہم زرا تپش سے بوکھلائے ہوئے ہیں
جو گزر گئیں ان باتوں کا رنج نہیں
ممکنہ گفتگو سے گھبرائے ہوئے ہیں
ناحق، اِک خوشبو کے تعاقب میں
چشمِ آرزو بھی پتھرائے ہوئے ہیں
سچائی کے کچھ دیوانہ وار پیروکار
بعد از آگہی ، پچھتائے ہوئے ہیں