جو منزلوں کے ٹُھکرائے ہوئے ہیں

جو منزلوں کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
وہی کشتیاں جلا کے آئے ہوئے ہیں
رات بھر آنکھوں میں چُبھتا رہتا ہے
یوں تلخیِ ہجر کے ستائے ہوئے ہیں
محبت اپنی جگہ، خاموش ہی رہو
یہ لفظ تو۔۔ سب آزمائے ہوئے ہیں
مانا، وقت کے اپنے ہی سانچے ہیں
ہم زرا تپش سے بوکھلائے ہوئے ہیں
جو گزر گئیں ان باتوں کا رنج نہیں
ممکنہ گفتگو سے گھبرائے ہوئے ہیں
ناحق، اِک خوشبو کے تعاقب میں
چشمِ آرزو بھی پتھرائے ہوئے ہیں
سچائی کے کچھ دیوانہ وار پیروکار
بعد از آگہی ، پچھتائے ہوئے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s