روز پُلِ صراط سے گُزرتے ہیں

روز پلِ صراط سے گزرتے ہیں
تیرے بندے یوں گزر کرتے ہیں
اب راہزنوں کا کوئی ڈر نہیں
راہبریِ دوستاں سے ڈرتے ہیں
اسکی اُٹھان میں بے بسی ہے
موجِ عشق سے پرے چلتے ہیں
رُخِ ہوا سے زخمی ہے بادبان
سمندر بھنور میں جلتے ہیں
مُسافرو اپنے ہمراہ سفر کرو
ہمراہی وعدے سے پلٹتے ہیں
گرمئی جذبات وحشت دے گی
آؤ پھر سے جاڑہ اوڑھتے ہیں
بےرخی اِسے خاک کرے گی
اب کے محبت سے مُکرتے ہیں

Advertisements

2 thoughts on “روز پُلِ صراط سے گُزرتے ہیں

  1. واہ جی ، نازکی اور روانی قابل داد ہے، ایک شعر ھدیتا قبول فرمائیں –

    ہم ہیں اور یاد تیری دلنشیں ہے

    روزجیتے ہیں روز مرتے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s