فریبِ نظر۔۔۔۔۔۔

اکثر یوں ہوتا ہے
میں حدِ نظر تمھیں ہی پاتا ہوں

تم مجھ پہ غالب آ چُکے ہو)

(یا میں تُم میں سمٹ گیا ہوں
کہ جب دامنِ ہستی میں
کوئی گُلِ شادمان
اچانک گرتا ہے
یا کوئی سرکش غم
موجِ وجود کو بھنور میں گم کرتا ہے
مجھ میں رہتا تمھارا طرفدار
اپنا سوال ہی دہراتا ہے
تُمھارے نام کی ہی صدا لگاتا ہے
اور خوشی و رنج کے پیمانے
اپنی ترکیب بدل دیتے ہیں
کارِ حیات کی سنگ دلی بھی
میرا دل
تُمھاری جانب سے پتھر نہیں ہونےدیتی
فکرِ معاش و حصولِ آسائش کی ازلی رسہ گیری
میرے قدموں کی زنجیر نہیں بنتی
وقت کے تیزی سے بدلتے اوراق بھی
تمھارا چہرہ
نگاہوں سے پلٹنے نہیں دیتے
میں جس بھی راستے پہ چلتا ہوں
جو بھی سہارا لیتا ہوں
تُمھاری دُھول تُمھاری ڈھارس
میں ہی گرفتار رہتا ہوں
شب و روز،
یہ جادو مجھے بھٹکائے رکھتا ہے
میں تم سے دور جاتا ہوں
اور تم ہی میں لوٹ کے آتا ہوں
یوں لگتا ہے کائنات مختصر ہو گئی ہے
اور میری بینائی اور بصیرت
ایک نقطے پر مرکوز ہو گئی ہیں
جو پھیلتا جاتا ہے۔۔ پھیلتا ہی جاتا ہے

Advertisements

3 thoughts on “فریبِ نظر۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s