ویلنٹائن ڈے پر ایک نظم

شاید ہم محبت کرتے ہیں
مگر اندیشہِ جدائی نے ہمیں
اظہار سے گُمراہ کر رکھا ہے
تبھی تو ہم مِل کر بھی
ایک اندیکھے حصار میں
قید رہتے ہیں
اور تنہائی میں ایک دوسرے کو
اس قدر سوچتے ہیں
کہ ایک زندگی کے
دو ہمسفر ہو جاتے ہیں
بے تحاشہ گُفتگو کرتے ہوئے کبھی
میں اور تُم سے ہم ہو جاتے ہیں
مگر الفاظ اگر لمحہِ اظہار سے
اُلجھ بھی جائیں تو
یہ دامن چُھڑا لیتا ہے
یوں ہم آباد ہونے سے پہلے ہی
برباد ہو جاتے ہیں
بارشوں میں
ہم اکٹھے بھیگنے جاتے تو ہیں
مگر روح کبھی سیراب نہیں ہو پاتی
اور ایک دھیمی دھیمی آنچ
کہیں نمی میں سُلگتی رہتی ہے
کڑی دوپہروں کی وحشت
جب ہمیں ڈرانے لگتی ہے
تو خوف کی بے سائبانی میں
ایک دوسرے کی ردا بن جانے کا
یقین رکھتے ہیں
مگر خود کو مُکمل رکھنے کیلئے
ہم نے محبت کو ادھورا کر رکھا ہے
کہ یہ تکمیل اپنے وجود سے
دستبرداری مانگتی ہے
چہرے پر مُسکراہٹ سجائے
ہم دُنیا کے سامنے جاتے تو ہیں
مگر ہماری آنکھیں
یکساں ویرانی کی سفیر ہیں
وہ ویرانی جو امر بیل کی طرح
ہم میں پروان چڑھتی رہتی ہے
ہمیں دوری میں بھی باہم رکھتی ہے
نئی منزلوں کی دُھن میں بھی
جب ایک دوسرے کو بھُولنے کا
کوئی امکان زادِ راہ نہیں
پھر ہم تم مکینِ شہرِ مہر و وفا
کیوں خود ساختہ جلا وطنی میں رہیں؟
سو تجدیدِ عہدِ وفا کے اس دن
میں اپنے حصے کے اندیشوں سے
منکر ہوتی ہوں
اور تمھاری محبت کو

اپنا ایمان کہتی ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
میں تمھیں اپنے دو جہاں کہتی ہوں

Wrote this poem ages ago & shared on some forums too. I’d almost forgotten it, then I found my old journal & it was written there. So felt like blogging it.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s