“ربطِ درویشی”

image

رگِ قلب میں اک
اجنبی قامت کی
قیامت کا زہر اترتا ہے
تو دنیا گویا پوشاکِ زیبا اوڑھ کر
اپنی بد صورتی ڈھانپ لیتی ہے
ہر سانس جامِ فردوس ہو کر
لمحوں کو حیاتِ جادواں
کے خال و خد بخش دیتا ہے
اک فاصلے کے جہاں نما سے
اُس مغرور خوشبو کی سیاہ قُبا
دیکھتا ہوں ، تو ہر رنگ
پتھروں پہ جمی کائی
سا لگنے لگتا ہے
پھر راہِ خرد کے خار بھی
اِس زائرِ شوق کو
سرمستیِ طواف میں
کھو جانے سے روک نہیں سکتے
وہ آنکھیں،
ازل سے تا ابد صحرا،
شفاف پانی کی جھیل
بن کر مجھ میں بہنے لگتی ہیں
تو میں ہزار ہا کنول بن کر
ان کے کنارے کھل جاتا ہوں
حرفِ خرد کا تیشہ بھی
میری پُرشوق جڑیں
اُس جنوں زاد زمیں سے
اکھاڑ نہیں سکتا
اور میں اک عکسِ پُر فریب
میں رنگ بھرتا
اک درِ سنگ تک پہنچ جاتا ہوں
جس کی تسخیر تقدیر نہیں
مگر تیغِ خواہش تو مفتوح ہو چُکی
نیامِ سچائی میں کیونکر سمائے
سو اُسی دہلیز پر
لہوُ جگر سے
اک چراغ روشن کر دیتا ہوں
میں اُسکی فاتح لو میں
جلتا رہتا ہوں
میں اک نہ ہونے والی محبت میں
تکمیلِ عشق کرتا رہتا ہوں
اک بے نوا شجر کے مان
آندھیوں سے اُلجھتا رہتا ہوں
اک مکاں کو گھر مان کر
اس پر چاروں قُل پھونکتا رہتا ہوں
میں، اس سفرِ فانی میں
اک ربطِ درویشی نبھائے جاتا ہوں

(The image pasted above has been taken from 500pix.com. )

Advertisements

2 thoughts on ““ربطِ درویشی”

  1. لہوُ جگر سے
    اک چراغ روشن کر دیتا ہوں
    میں اُسکی فاتح لو میں
    جلتا رہتا ہوں

    واہ ..بہت اعلی… ندرت خیال کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی . آج بہت دن بعد بلاگ کا چکر لگا ، خوشی ہوئی پڑھ کر 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s