ادراک

میں اُسے یوں بھولی ہوں
جیسے کوئی بخششِ دُعا کا منکر ہو جائے
جیسے سزا و جزا کے ہجے
اپنا مقام کھو دیں
جیسے کوئی صدا لگاتے
قُوتِ گویائی کا بار اُتار پھینکے
اور حرفِ تمنا اپنے لئیے قفل ڈھونڈنے دربدر ہو جائے
جیسے کوئی آئینہ رُو ہو
اور اپنے آثار و نقش خود مٹاتا جائے
جیسے کوئی سحر
اپنے ساحر سے
منتر پھونکنے کا لمحہ چھین لے
جیسے کوئی سُنہرا پل
کوئی روپہلی بات
آنکھیں موندنے
اور سانس ساکت کر لینے پر بھی
درد بن کر یاد آتی جائے۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s