خواہش

وہ ہجومِ شہر سے متکلم ہوتا ہے
ایسی مُشکبُو مسُکراہٹ کے ساتھ
جو آنکھ کے نرگس میں نہیں تیرتی
کھنکتے لفظوں کے خیمے میں
کوئی ستارہ روشن نہیں کرتی
مگر دُکھ کے ترازو میں جو
میں اُسکا متبسم رُوپ رکھوں
تو ضبطِ پیمائش مجروح ہو جائے
خوشی مجسم،
اپنے خطِ زوال سے پلٹ آئے
وہ جو سازِ محفل پر بھی
رقصِ خلوت کرتا ہے
گہری خاموشی کے سیپ میں
موتی جیسے جذبے پالتا ہے
سمندر کی طرح بے کراں ہو کر
مجھے مثلِ ساحل آباد کرتا ہے
کیا ہو جو ہم ُسخن ہو جائے
تو قریہِ تنہائی بھی
مشاعرہِ محبت ہو جائے
شعروں جیسی آنکھیں
دو جہاں خیرہ کریں
وہ جو ہجر کی قُبا میں
برہنہ وصال ہے
وہ جو خواہش کو سرکش کرتا
یکتا ماہِ ملال ہے
وہ جو محرم و صاحبِ جمال ہے
وہی میرا ضبط و الام ہے
وہ جو نہ ہو کے بھی بے تحاشہ ہے
میرا ہو کےبے حساب ہو جائے
وہ جو ہجومِ شہر سے متکلم ہوتا ہے
اک مُشکبُو مسُکراہٹ کے ساتھ۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s