“گواہی قلب”

جب اس کائنات میں
ہر اوج کو اپنے جھکاؤ کی
قدم بوسی کرنی ہے
عرفان و اکملیت کو وہ پارس پتھر
ہونا ہے
جس کے اجزائے ترکیبی
ہر شعبدہ باز کی پھونک سے
بالا ہیں
تو کیوں،
یہ صاحبِ دستار و وعظ
یہ شجرِ ایمان کی جڑیں کھودتے
گُلِ عقیدہ و توحید کی
خوشبو و رنگ کا تعین کرتے
یہ پروازِ خرد کو گُستاخ کہنے والے
یہ زنجیرِ جُنوں کو باطل قفس کہنے والے
کیوں نہیں
خود اپنی لگائی حدوں
اور اپنے تراشے دھندلکوں میں
دم گُھٹ کے مر جاتے ؟
یہ گدھ،
جو اپنے مُردار ضمیر
نوچ نوچ کر
مسندِ رزاق سنبھالنا چاہتے ہیں
جو رحمان و رحیم کا اسمِ اعظم
نہیں جانتے
کیا بندے اور معبود کا رشتہ
ان کی سندِ قبولیت
کی کھوٹی راہ دیکھتا ہے؟
کیا کوئی طالب دل
انکی ڈھالی مہرِ تقوی کے
نقش پالنے کی چاہ
میں دربدر ہوتا ہے؟

کیا یہ نہیں جانتے!
عُشاق کی وارفتگی ہی
اُن کی بازی و بساط
عجزِ دُعا ہی سات پردوں
کا چاک ہے
عشق ہی لوح ہفت آسماں ہے
عشق ہی شہ رگ چومتا
تعویذِ کلامِ جاوداں ہے

Advertisements

“حق سے رہِ جاناں میں رہا”

نہاں اک امید کے مکاں میں رہا
خوگرِ لاحاصل، امکاں میں رہا
جہانِ عشق وا کیا اُس کے لئیے
اور وہ بُت پردہِ لامکاں میں رہا
گر نہیں تھا حدِ لمس میں کہیں
کیونکر میرے دو جہاں میں رہا
وا ہو گیا میرے کلام میں، کبھی
ذات کے شہرِ خموشاں میں رہا
بکھرا نہیں ہوں، وحشتِ زیست
جوہرِ پندار ترتیبِ جاں میں رہا
توشہِ گریہ کیسا، مئے الم کیا؟
خندہ مست غمِ دوراں میں رہا
محب ہوں، محکوم نہیں اُسکا
نہ مصاحبینِ در خوباں میں رہا
حُسنِ پزیرائی کا مشتاق ہوں
میں حق سے رہِ جاناں میں رہا

“Resurrection Plea”

Yearning has soaked the moon
With that provoking pale gloom
Which my smile sheds, long after
You drink from my parched lips.
See, this thirst taints everything;
My blood & the contours of the dying moon,
My Sins & salvation,
My Virtues & retribution.
Come back, 
Drink from me again…
So that everything
And I be restored,
So that I be resurrected, 
And the aureate glow
Of the moon be rekindled.

شکوہ شعور -ایک غزل

اخفا ہی رہیں، اب بلا حجاب نہ آئیں
نفسِ شب آزمانے پیامِ مہتاب نہ آئیں
خوش رہیں ساحل کو پلٹ جانے والے
گہرِ تلاطم چومنے وہ احباب نہ آئیں
ہاتھ تھامے جو چلتے رہے ساتھ میں

اب اُنکے سائے بھی ہمرکاب نہ آئیں
پاس جاؤ، گُنگُناؤ، جو ہیں دلگیر بہت
وہ گیت مگر نوکِ زبانِ رباب نہ آئیں
غمزہِ وقت بہلائے ہے خُدائی اُن کی
ہمیں طلب و بندگی کے آداب نہ آئیں
درد کیا ہے؟ دوا، دوام ، یا پھر ابتلا
یہ رمز کھوجنے والے باریاب نہ آئیں
ہجرگزیدہ ہی تو کیفِ وصل چھوئیں
عشاق لُٹنے یونہی بنا اسباب نہ آئیں

“زوال”

چہرے کے مدہم پڑتے
رنگ و نقوش پر
اپنی ہی نگہِ وحشت
دستک دے
یا جسم کے بےجان گھر
میں کوئی یاد سحاب
تخمِ آرزو جگائے
تو مانو کہ
اک تازہ زرد روح کش افلاس
گردشِ خون میں
درد کے ننھے پتنگے
کاشت کرنے لگتا ہے
کیا ہوا وہ حُسن و ہوش رُبائی
وہ متاع و زیست لٹانے کے حلف
وہ خلد و خرد کے سودے
سب فسانہِ خرامِ وقت ہے
خاکستری ہوتی ہوئی
نسیمِ شمع کا خرمنِ ضیاع

“میں یوں تعلق بچاتا ہوں”

بحث سے پلٹ جاتا ہوں
میں یوں تعلق بچاتا ہوں
دعوہِ سچائی نہیں کرتا
آبروِ نقطہ نظر بچاتا ہوں
نفرت کو خدا نہیں مانتا
مذہبِ انسانیت بچاتا ہوں
رعونت تیزاب ہے گفتگو کا
ظرف جلنے سے بچاتا ہوں
جیتنا میری کمزوری نہیں
دوست کا بھرم بچاتا ہوں
خود احتسابی کا قائل ہوں
نطق، جہل سے بچاتا ہوں

“Come to me”

I see,
The russety moon takes a leap of faith
Discards clouds’ velvet shroud
And dives into the liquid caverns of impatient water
Extend yourself to me likewise
Flamboyantly rising & audacious
Ravenously kissing the depth of a redeeming abyss
Swaying like a sweltering lucid mirage
So unattainable so unforgettable
And if,
An unspeakable tyranny stencils its name
On the flesh of our embrace
Stealing our eternity
We will fade together
Like dazed ashes of a waning moonshine
We will wilt together
Like moss-green luminosity of leaves
Giving in to the sleuth of autumn
Before this tantalisingly beloved death
Come to me
Like a valiant king
Or a sated cheetah
Whose longing trumped
His possessions