شکوہ شعور -ایک غزل

اخفا ہی رہیں، اب بلا حجاب نہ آئیں
نفسِ شب آزمانے پیامِ مہتاب نہ آئیں
خوش رہیں ساحل کو پلٹ جانے والے
گہرِ تلاطم چومنے وہ احباب نہ آئیں
ہاتھ تھامے جو چلتے رہے ساتھ میں

اب اُنکے سائے بھی ہمرکاب نہ آئیں
پاس جاؤ، گُنگُناؤ، جو ہیں دلگیر بہت
وہ گیت مگر نوکِ زبانِ رباب نہ آئیں
غمزہِ وقت بہلائے ہے خُدائی اُن کی
ہمیں طلب و بندگی کے آداب نہ آئیں
درد کیا ہے؟ دوا، دوام ، یا پھر ابتلا
یہ رمز کھوجنے والے باریاب نہ آئیں
ہجرگزیدہ ہی تو کیفِ وصل چھوئیں
عشاق لُٹنے یونہی بنا اسباب نہ آئیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s