“گواہی قلب”

جب اس کائنات میں
ہر اوج کو اپنے جھکاؤ کی
قدم بوسی کرنی ہے
عرفان و اکملیت کو وہ پارس پتھر
ہونا ہے
جس کے اجزائے ترکیبی
ہر شعبدہ باز کی پھونک سے
بالا ہیں
تو کیوں،
یہ صاحبِ دستار و وعظ
یہ شجرِ ایمان کی جڑیں کھودتے
گُلِ عقیدہ و توحید کی
خوشبو و رنگ کا تعین کرتے
یہ پروازِ خرد کو گُستاخ کہنے والے
یہ زنجیرِ جُنوں کو باطل قفس کہنے والے
کیوں نہیں
خود اپنی لگائی حدوں
اور اپنے تراشے دھندلکوں میں
دم گُھٹ کے مر جاتے ؟
یہ گدھ،
جو اپنے مُردار ضمیر
نوچ نوچ کر
مسندِ رزاق سنبھالنا چاہتے ہیں
جو رحمان و رحیم کا اسمِ اعظم
نہیں جانتے
کیا بندے اور معبود کا رشتہ
ان کی سندِ قبولیت
کی کھوٹی راہ دیکھتا ہے؟
کیا کوئی طالب دل
انکی ڈھالی مہرِ تقوی کے
نقش پالنے کی چاہ
میں دربدر ہوتا ہے؟

کیا یہ نہیں جانتے!
عُشاق کی وارفتگی ہی
اُن کی بازی و بساط
عجزِ دُعا ہی سات پردوں
کا چاک ہے
عشق ہی لوح ہفت آسماں ہے
عشق ہی شہ رگ چومتا
تعویذِ کلامِ جاوداں ہے

Advertisements

One thought on ““گواہی قلب”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s