“میری جان۔۔ یہ جان”

میری جان یہ جان

کہ حیرت کدۂ غم میں ہوں

ہزار داستانِ دل شکستہ کے

اک اک عنوان سے نگاہیں ملا رہا ہوں

خیال شہرزاد کی طرح کہانی بُنتے ہیں

جس میں ہم تم باہم وخُرم

ساتھ چلتے ہیں

کوئی سچائی

اپنی الف لیلیَ نہیں گاتی

لفظوں کا کوئی ہُنر کوئی ہیر پھیر

دل فگار نہیں کرتا

عبادت داغدار نہیں کرتا

مئے عشق ہے

کہ چھلکتی ہے

خامشی کی شیشہ چھاگل سے

گفتار ہے کہ

چشمان سے چلتی ہوئی

قلوب میں ڈوب جاتی ہے

اور کہنے والے سُننے والے

دُنیا تیاگ دیتے ہیں

میری جان

یہ جان

کہ سنگ باریِ پرکھ و شناسائی کے

گھیر سے

ابھی نکلا ہوں

لہو کی بوندیں ابھی

پہلی بارش سی شاداب بہتی ہیں۔۔ دہکتے انگار سی

ابھی تنِ آئینہ میں کوندا ہے جو

نار سا بھید

اُس کی لپک سے

جُھلس کر آیا ہوں

ابھی سوختہ ہے ریشہ ریشہ

خاک میں مل جانا چاہتا ہوں

گر خود کو یکجا کر کے

لے آیا واپس

تب مرہم و خواب کی بات کرنا

تب مجھے سینچنا

پھر سے پرو لینا یقین کے نئے جال میں

مگر ابھی میری جان

یہ جان

میں نہیں ہوں۔ میں نہیں تھا!

Advertisements

2 thoughts on ““میری جان۔۔ یہ جان”

  1. I just love these lines
    گفتار ہے کہ

    چشمان سے چلتی ہوئی

    قلوب میں ڈوب جاتی ہے…..
    And the lines below have depth….reality never leaving for a moment 👍👍

    گر خود کو یکجا کر کے

    لے آیا واپس

    تب مرہم و خواب کی بات کرنا

    تب مجھے سینچنا

    پھر سے پرو لینا یقین کے نئے جال میں

    مگر ابھی میری جان

    یہ جان

    میں نہیں ہوں۔ میں نہیں تھا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s