“حدِ فہم”

تم وہ تخمِ تمنا ہو
جس کی کوکھ بانجھ ہے
ہم آغوشی کی کوئی کونپل
جسکے خاک بسر دامن میں
مہرِ لب ثبت نہیں کرے گی
دل گُدازیِ وصل
کے سُنہرے خوشوں کو
برف میں حنوط کرنیوالی
جو میناِ فُرقت میں
بے سواد شراب ہے
اپنے رند کو
درماندہ رکھنے والی
نخلِ راحت
کی جستجو والوں
کو ریگستاں شناس کرنیوالی

تم وہ نازنیںن خوشی ہو
جو دکھ کے کمخواب سے
بدن کی رنگینیاں
ڈھانپ لیتی ہے
نورِ لمس کے کٹورے میں
خزاں دیدہ کہرا گھولنے والی
اُمید کے من و سلوی میں
دریائے آگہی کا
کھاراپن انڈیلنے والی

تم ہو کہ حدِ نظر
اُلجھن کا سیاہ مخملیں
جنگل ہے
دھوپ اور بارش کی ازلی
دست و گریبانی سے غیر مرعوب
اپنی رات کی خوشبو سی
نرگسیت میں مبتلا
میرے انسباط اور الم کو
ایک ہی چشمے میں انڈیلنے والی
میری تشنگی کو
ادائے خضر نوازنے والی
مجھے سر تا پا سوال کرتی ہوئی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s