Anam Cara (soul friend)

Oh, you, the lonely one!

Flamboyant in sorrow

Resplendent in despair

Life shimmers in you

Like Seurat’s strokes

Yet,
I can coalesce you in me

Or surrender my abundance to you

Oh, you, the lost one!

Splutter up

The venom of forever

You’ve drunk from

The undying sun of fear

For 
I adore the eclipsed you

And the noctilucent you

A Caravaggio’s chiaroscuro,

You Palm the abyss of dazzle & dark

Oh, you, the loved one!

I’m in harmony with

The rise & fall of your bosom

Knowing the scent

of my breaths blossoms you

Continue reading “Anam Cara (soul friend)”

Advertisements

افواجِ پاکستان کے شہیدوں کے نام

احساس
گیلی لکڑی سا سُلگتا ہوا
نارنجی شام کے پسمنظر میں
بے کل کونج جیسا
جرعہِ قضا سے قریب تر کچھ کے
ذائقے کے دامن میں رچا
مگر ابدی سرور کی صورت پر

اور فنا کے مدارج میں
بے آب ستارہِ دل

دُھول ہوتا ہوا
پلکوں پر نم آلود
پُرسہِ چقماق

سانسیں وداعی کے
پھیلے آسیب سےڈر کے
سُکڑتی ہوئی
کہ مادرِ وطن کی فصیلوں پر
ایک اور دلاور بیٹا
گُلِ حیات کی رگیں نچوڑ کے
سُرخ مصفا شمعیں
روشن کر آیا ہے
جو جانباز عہدِ کیا تھا
اُسکی لاج رکھتے ہوئے
دُشمن کی دہلیز پر
اندھیرا مل آیا ہے
امر کے اُفق کے پار جانا تھا
خراج کا تنِ فگار کما لایا ہے

کھیل

خامشی بھی تو
ایک نقطہِ نظر ہے
جب الفاظ کشکول بن کر
حُرمت کی صدا لگانے لگ جائیں
اور آنکھیں
کھوکھلی مسکراہٹوں
کچے رنگوں کے جوابوں پر
ضرب و تقسیم کے
کُلئیے لگاتے ہوئے
یکلخت
نظریہِ ضرورت کا
ازلی گورکھ دھندہ
سلجھا پائیں
وہاں خامشی
ایک باکردار نقطہِ نظر ہے
بے مہر جیت سے بے اعتنا
زر تار دستار کو رد کر کے
تمغہِ انا کو ہار کر تا ہوا
ایک نڈر عدل ہے
مگر مجبوریوں کا تیزاب
سنگِ ملامت کو قطرہ قطرہ
گھولتا رہتا ہے
اور ہر کہانی
ایک ہی سانچے میں اُتر جاتی ہے
نام نہاد افکار و گفتار کی بھیڑ میں
مکمل جھوٹ آدھے سچ کی
آزمودہ تدبیر میں
ہم تم بھی
منجھے کھلاڑی بن جاتے ہیں
تاک تاک کر
خود غرض دانش
بے جذبہ اشعار
کے جال پھینکتے
نقلی سیپیوں سے
خوابوں کی کال کوٹھریاں
آباد کر لیتے ہیں
ہنرِ زندگی کا قرض
بے باق کر لیتے ہیں

“گھاگ وار”

رگِ چشم کریدتا ہے
خنجرِ ماہِ منیر

عرشہِ جاں پر اترتی ہے
نقارہِ ہول بجاتی
مقفل لب رات
خاموشی کے الاؤ میں
آس کے سب جزیرے
راکھ ہو کے
نمکین پانی میں گُندھے
نگینے بن جاتے ہیں
ذات کی گُٹھری
کے بخیے خود اپنے
پہرے اُدھیڑتے ہیں
وجود کو
نامہربان خلاؤں میں
بخشش کے سکے کی طرح
اچھالتے ہیں
جیسے کوئی پرستار
آسائشِ شوق میں
اپنے کُل کی بولی لگا دے
یا کوئی پناہ کا پیاسا
اپنے کوہِ آرارات کا
دامن کھوجتے کھوجتے
سفینہ، پہلوِ فریب کو تھما دے
کہ شاید طلعتِ محبوب
ہجر زدہ پوروں پر
اپنی نکہتِ نقوش چھلکائے
کہ شاید تمنا کا
سُرمئی معبد
وصل کے چراغوں کا
دہکتا سُرخ رقص دیکھ پائے
اور بے تاب شاعر
ہر ادائے چارہ گر پر
محبت کی بے ثواب غزل کی
اداس میٹھی سبیلیں لگائے
جس کے دیوانے خُمار میں
وحشی وقت بھی
قدم اُٹھانا بھول جائے
یاں پھر
ایک ہی گھاگ وار سے
سب کچھ خاک کر جائے
خنجرِ ماہِ منیر ۔۔۔ بے تاب شاعر۔۔۔ہر ادائے چارہ گر