“گھاگ وار”

رگِ چشم کریدتا ہے
خنجرِ ماہِ منیر

عرشہِ جاں پر اترتی ہے
نقارہِ ہول بجاتی
مقفل لب رات
خاموشی کے الاؤ میں
آس کے سب جزیرے
راکھ ہو کے
نمکین پانی میں گُندھے
نگینے بن جاتے ہیں
ذات کی گُٹھری
کے بخیے خود اپنے
پہرے اُدھیڑتے ہیں
وجود کو
نامہربان خلاؤں میں
بخشش کے سکے کی طرح
اچھالتے ہیں
جیسے کوئی پرستار
آسائشِ شوق میں
اپنے کُل کی بولی لگا دے
یا کوئی پناہ کا پیاسا
اپنے کوہِ آرارات کا
دامن کھوجتے کھوجتے
سفینہ، پہلوِ فریب کو تھما دے
کہ شاید طلعتِ محبوب
ہجر زدہ پوروں پر
اپنی نکہتِ نقوش چھلکائے
کہ شاید تمنا کا
سُرمئی معبد
وصل کے چراغوں کا
دہکتا سُرخ رقص دیکھ پائے
اور بے تاب شاعر
ہر ادائے چارہ گر پر
محبت کی بے ثواب غزل کی
اداس میٹھی سبیلیں لگائے
جس کے دیوانے خُمار میں
وحشی وقت بھی
قدم اُٹھانا بھول جائے
یاں پھر
ایک ہی گھاگ وار سے
سب کچھ خاک کر جائے
خنجرِ ماہِ منیر ۔۔۔ بے تاب شاعر۔۔۔ہر ادائے چارہ گر


Advertisements

5 thoughts on ““گھاگ وار”

  1. جیسےسُر اپنے مقررہ وقت پر زیادہ تاثیر رکھتے، ویسے ھی شاعرہ نے اپنے اشعار کو وقت سے منسلک کرنے کا سلیقہ سیکھ لیا ھے. آدھی رات کو یہ اشعار قاری کا سینہ چیرنے کی صلاحیت رکھتے ھیں.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s