کھیل

خامشی بھی تو
ایک نقطہِ نظر ہے
جب الفاظ کشکول بن کر
حُرمت کی صدا لگانے لگ جائیں
اور آنکھیں
کھوکھلی مسکراہٹوں
کچے رنگوں کے جوابوں پر
ضرب و تقسیم کے
کُلئیے لگاتے ہوئے
یکلخت
نظریہِ ضرورت کا
ازلی گورکھ دھندہ
سلجھا پائیں
وہاں خامشی
ایک باکردار نقطہِ نظر ہے
بے مہر جیت سے بے اعتنا
زر تار دستار کو رد کر کے
تمغہِ انا کو ہار کر تا ہوا
ایک نڈر عدل ہے
مگر مجبوریوں کا تیزاب
سنگِ ملامت کو قطرہ قطرہ
گھولتا رہتا ہے
اور ہر کہانی
ایک ہی سانچے میں اُتر جاتی ہے
نام نہاد افکار و گفتار کی بھیڑ میں
مکمل جھوٹ آدھے سچ کی
آزمودہ تدبیر میں
ہم تم بھی
منجھے کھلاڑی بن جاتے ہیں
تاک تاک کر
خود غرض دانش
بے جذبہ اشعار
کے جال پھینکتے
نقلی سیپیوں سے
خوابوں کی کال کوٹھریاں
آباد کر لیتے ہیں
ہنرِ زندگی کا قرض
بے باق کر لیتے ہیں

Advertisements

2 thoughts on “کھیل

  1. بے مہر جیت سے بے اعتنا
    زر تار دستار کو رد کر کے
    تمغہِ انا کو ہار کر تا ہوا
    ایک نڈر عدل ہے
    Superb…I only select the lines which seem to speak out for me…u string the ideas beautifully👏👏👏

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s