تقابل

اُتر رہا ہے محبت کا
زود کرم خمار
عشق کی فصاحت
مجھے قناعت
کے پہلو میں چھوڑ گئی ہے
جس کی حرارت تاپتا ہے
ہجر کے برفاب میں رکھا
روح و بدن کا ربط
خزاں کی رنگین سانسیں
پیڑوں پھولوں پر کیا جھولیں
زوال کی تتلی بھی
ملاقاتوں سے
قُربتوں سے
رس و رنگ چُوس کر
وقت کے جنگل میں
گُم ہوئی
اب یہ اداسی بھی گویا
اک یقینِ مُسلسل ہے
تیرے میرے ہونے
اور پھر نہ ہونے
کا تسلسل ہے
کہ میں
تیری چاپ کے معدوم ہونے
اور خوشبو کے ہوا ہونے
کو بھی
دلاسہ ماننے لگا ہوں
کہ کبھی تو
کہ کبھی تو ۔۔ تُو تھا
اِس ویرانے سے پہلے

تُو تھا

دو نظمیں

(مجبوری)

اختلافات بے شمار ہیں

اپنی حد اور حدت میں

ماہِ جون کے دن جیسے

مسلسل انگار

یوں پھیلتے ہیں گویا

سفید کورے لٹھے کی چادر پر

سیاہ روشنائی کا تازہ دھبہ

محدود نہیں ہو سکتے

مٹائے نہیں جا سکتے

اور دل کے بھرم ترازو پر

سرعام نہیں رکھے جا سکتے

(موم کی گُڑیا)

ململ کی چادر کے

زعفران رنگی بھید میں

موم کی اک گڑیا لپٹی ہے

زندگی کی پروردہ

لفظوں سے ماورا

کانچ کی چوڑی جیسی

دمک ہے اُس کی پیشانی پر

چال میں ہے

انجانی منزلوں کی سرگوشیاں

چادر میں ہیں ستارے کئی

جن کی لو میں ہیں

سُنہرے جلتے بجھتے راز کئی

شاید کوئی ماہر خلا نورد

چھو سکے وہ

خامشی کے مدار میں

جھولتے تیرتے راز

اور

میٹھے پانی کے جھرنے جیسا

شفاف اُسکا لہجہ

جنگلی پھولوں جیسی

شانِ بے نیازی اُسکی آواز

جس میں کہہ دے وہ دل کی بات