دو نظمیں

(مجبوری)

اختلافات بے شمار ہیں

اپنی حد اور حدت میں

ماہِ جون کے دن جیسے

مسلسل انگار

یوں پھیلتے ہیں گویا

سفید کورے لٹھے کی چادر پر

سیاہ روشنائی کا تازہ دھبہ

محدود نہیں ہو سکتے

مٹائے نہیں جا سکتے

اور دل کے بھرم ترازو پر

سرعام نہیں رکھے جا سکتے

(موم کی گُڑیا)

ململ کی چادر کے

زعفران رنگی بھید میں

موم کی اک گڑیا لپٹی ہے

زندگی کی پروردہ

لفظوں سے ماورا

کانچ کی چوڑی جیسی

دمک ہے اُس کی پیشانی پر

چال میں ہے

انجانی منزلوں کی سرگوشیاں

چادر میں ہیں ستارے کئی

جن کی لو میں ہیں

سُنہرے جلتے بجھتے راز کئی

شاید کوئی ماہر خلا نورد

چھو سکے وہ

خامشی کے مدار میں

جھولتے تیرتے راز

اور

میٹھے پانی کے جھرنے جیسا

شفاف اُسکا لہجہ

جنگلی پھولوں جیسی

شانِ بے نیازی اُسکی آواز

جس میں کہہ دے وہ دل کی بات

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s