نومبر کی ایک رات

قُلزمِ ماہتاب نہائی رات

چاندنی کے ریشم میں

نم رُو گُھلے

بھول گئی تھی جو 

نقرئی سی بات 

کہرا اپنا ایندھن ساتھ لایا

سرد آہوں میں لپکے 

گورِ وقتِ میں جلتی مات 

 جلترنگِ اشک کیا سُنیں

جو چشمِ سخن میں چٹکے

 جلوہِ برسات

 کوئی صوت ِنور نہیں ساحل شب پہ 

سفینہِ آرزو جھومتا ہے

لگا کے کشِ بحرِ التفات

“ہارے بھی تو بازی مات نہیں”

خوشی کی سہارے کی تلاش انسان کو کہاں کہاں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیتی ہے اور پھر ان نعمتوں سے بے نیازی کیسے کیسے جلووں سے اُن کا رُوپ چھین لیتی ہے کہ دمکتا ہیرا اور دہکتا کوئلہ اپنے جمال اور جلال، قدر اور بے قدری میں ہم نصیب دکھائی دینے لگتے ہیں۔
ان دونوں محسوسات کے ہیجان اور ٹھہراؤ سے گزر جانے والا توازن کے اُس سنگھاسن پر بیٹھ جاتا ہے جو بادشاہت سا لطف تو نہیں عطا کرتا مگر ایک مجذوب سا کرم ضرور عطا کر دیتا ہے۔ میں نے بھی زندگی کی اس چمک اور سیاہی کے کھیل کو جلد ہی سمجھ لیا تھا۔ پھر کچھ بھی مجھے اتنی آسانی سے حیران یا پریشان نہیں کرتا تھا زندگی ایک میکانیکی چرخے پر گھومتی رہی اب ان دنوں سانسوں کا دھاگہ بنتا ہے اور وقت کی چادر کے پھیلاؤ میں اپنا آپ گُم کرتا جاتا ہے۔
مگر آج سے کچھ سال پہلے تک ایسا نہیں تھا۔ تب کانٹوں پر بھی گُل لالہ اپنے سُرخ ہونٹ کھولے مُسکراتے نظر آتے تھے۔ کم عُمری کی شادی نے اس رومان پرور طبعیت کو ایک مضبوط بنیاد دے دی تھی۔ شوہر کا شُمار ان مردوں میں ہوتا تھا جو اپنی قامت، مسکراہٹ اور میٹھی گفتگو کے روزنِ سیاہ (بلیک ہول) میں کسی بھی درخشاں ستارے کو جذب کر سکتے تھے۔ سو میں نے اُسے دیکھا اور قُربت کی ایک رات میں ہی مجھے محبت ہو گئی تھی ویسے بھی میں تو کوئی اتنا روشن ستارہ تھی بھی نہیں۔مگر عُمر کی نو خیزی کی اپنی لو ہے، یہ اجالا جب چھاجوں چھاج برستا ہے تو عام چہرے پر بھی لازوال کے نقوش اُتر آتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ مجھے یہی احساس دلایا گیا تھا کہ میں خاندان اور گھر میں سب سے زیادہ خوب صورت ہوں۔ اور خاندان کتنا تھا، ننھیال تھا ہی نہیں۔ جب پوچھا یہی جواب کے نانا کا امی کے بچپن میں انتقال ہو گیا اور امی اکلوتی بہن تھیں، نانی، امی کی منگنی کے وقت چل بسیں ،سو بس یہی تین بہنیں تھیں ہم اور ایک چھوٹا بھائی۔
ایک چچا اور چچی تھے جو ہر سال عیدین پر ملنے آتے تھے اور کبھی اپنے بچوں کو ملوانے نہیں لائے نہ ہمیں دعوت دی ۔چچی کا انداز اُن چند گھنٹوں میں اتنا لیا دیا رہتا تھا کہ ہماری اُن سے سوائے حال پوچھنے کے کوئی خاص بات کرنے کی ہمت ہی پیدانہیں ہوتی تھی، چچا بھی زیادہ وقت ابا سے ہمکلام رہتے تھے، اُن تاثیر سے عاری، مُردہ لمحوں میں ذندگی کی ایک ہی رمق ہوتی تھی چچا کے لائے انواع اقسام کے تحائف۔
اور یہ تمام وقت والدہ عجیب بولائی سی رہتیں، سچ تو یہ ہے مجھے لگتا تھا جیسے کوئی بُت شرمساری کو مجسم روپ دیئے بیٹھا ہے۔ اب سوچتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ وقت کے اُس مقام پر واپس پلٹوں اور ساری شرمساری اور گھٹن کو یاد کی دیوار سے چھیل چھیل کر اُتاروں۔ بلکہ یہ شرمساری اور ملامت بھری نظروں سے لتھڑے مناظر ہی جہنم کے آخری درجے میں غرق کر آؤں۔
مجھے بہت سے پچھتاوے ہیں مگر ایک پچھتاوا جو اپنے گھاؤ میں شرمساری اور گھٹن سے بھی زیادہ گہرا ہے وہ یہ ہے کہ کاش میں زیادہ تعلیم حاصل کرتی، اور اُس سے بھی زیادہ یہ کہ جو سوالات میرے اندر اُٹھتے تھے اُن کو دبا دینے کے بجائے ُان سے شعور کے قُفل لگے دروازے کھولتی مگر کاش کوئی منتر تھوڑا ہے، جو ادا ہوتے ہی مسیحائی کر دے۔کاش تو بے بسی کا استعارہ ہے۔
خیر یہ بے بسی بھی گئے دنوں کی ہمراز تھی اب میں ان الجھنوں سے آزاد ہوں۔ شاید اس لیے کے قیمت اور ادائیگی کا ربط ازبر بھی کیا اور جہاں دہرانا تھا وہاں دہرایا بھی۔ زندگی اور میں نے ایک دوسرے کو یکساں لُوٹا اور لوٹایا تو گلہ کیا ہے؟
لُٹنے سے پھر اپنی شادی یاد آگئی۔ میں گیارہویں کے امتحانات سے فارغ ہوئی تھی تو وجاہت کا رشتہ میرے لیے آیا، میری بڑی بہن پولیو کی مریضہ تھی، اُسکی طرف تو اس غُربت میں کسی نے نگاہ بھی نہیں کرنی تھی نہ کی، اور یوں مجھے گھر کے لیئے دیئے ماحول سے نجات ملنے کے آثار پیدا ہوگئے۔ جسے میں فوراً حاصل کرنا چاہتی تھی۔ گھر میں ایسی فضا رہتی تھی کہ ہمہ وقت یہی لگتا تھا کہ کسی کا چالیسواں ہے، سو سنجیدگی برقرار رکھنا یا گُھٹے گُھٹے رہنا قانون تھا۔ اور اس کا ایک ہی فائدہ ہوا، ہم سب بہنیں بہت سلیقہ مند تھیں ۔
گو کہ ہمارا گھرانہ درمیانے سے کم درجے کے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا، مگر گزر اوقات بُری نہ تھی۔ رکھ رکھاؤ ایسا تھا کہ گھر پر کسی آرٹ کی دُکان کا گُماں ہوتا تھا۔ کیسے دن تھے، اُس گھٹن کے کائی زدہ ماحول میں بھی اپنا آپ شہزادیوں سا شفاف لگتا تھا اب شاید آبِ زمزم بھی مجھے وہ شفافیت نہ لوٹا سکے، شفافیت سے یاد آیا ہم بہنیں مذاق کیا کرتی تھیں کہ اماں ہمیں اس لیے کسی سے زیادہ میل جول سے منع کرتی ہیں کہ ہم اماں کے قیمتی آبگینے ہیں۔ کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔
یہ جُملہ کسی ڈائجسٹ میں پڑھا تھا اور ڈائجسٹ پڑھتے ہوئے جب اماں نے کہا کہ بات سنو تو میں اچھلتے ہوئے گئی تھی کہ رشتے کی بات ہونے لگی تھی۔ وجاہت کی تصویر دیکھی تو ٹی وی ڈراموں اور ڈائجسٹ کے ہیرو جیسا تھا اور میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ جلد از جلد یہ بندھن بندھ جائے۔ اور حیثیت میں وہ ہم سے کافی زیادہ بہتر تھے۔ میرے لیے یہ اضافی خوبی تھی۔ اماں کے آگے جو آپ کو ٹھیک لگے کہہ کر میں جب واپس لوٹی تو اپنا آپ اوس سے کھلنے والی وہ کلی لگا جسے گُمان ہوتا ہے کہ چمن صرف اُس کی وجہ سے ہی معطر ہے
اور پھر میں اُس چمن میں چلی گئی جس کی کشش میں میرے لیے ساڑھے چار ماہ گزارنا ناممکن ہوگئے تھے۔ وجاہت دو بھائی تھے، میری ساس اتنے شفیق لہجے میں میرے صدقے واری جاتی تھیں کہ میں نے طے کر لیا تھا کہ اُنھیں امی کہنا ہے۔ انہیں جہیز کی کوئی طلب نہیں تھی گو کہ اماں ابا نے اچھے طریقے سے میرا فرض ادا کیا۔ سب جھٹ پٹ اور سادگی سے ہوا۔ دونوں خاندانوں کے چند دوست احباب ہی مدعو کیے گئے۔
شادی کے بعد کے تین ماہ میرے پہ وہ نکھار لے آئے تھے کہ خود مجھے حیرانگی ہوتی تھی۔ کہ محبت اور خوشی کیسے ایک سراپے کو بھرپور کر دیتے ہیں۔ ہم ہنی مون کے لیے پاکستان کے شمالی علاقہ جات گئے اور وجاہت نے وعدہ کیا کہ شادی کی اگلی سالگرہ ہم دوبئی منائیں گے۔ میں فطرتاً شرمیلی تھی مگر اتنا سمجھ سکتی تھی کہ میرا شوہر تنہائی کے لمحات میں مجھ سے کیا توقع کرتا ہے اور کیا پسند کرتا ہے۔ اور وجاہت نے بھی ہر تقاضے کا کُھل کر اظہار بھی کیا اور مجھے اظہار کرنا اور وہ سب کچھ کرنا سکھا بھی دیا جس کے بارے میں ڈائجسٹ والے بھی نہیں بتاتے۔
وجاہت تنہائی کے ساتھ ساتھ اپنے میل جول اور تفریح میں بھی وہ شوق اور رجحان رکھتا تھا جو میرے گھرانے میں محال تھا۔ ہم باہر کھانے کھاتے جس میں اُس کا کوئی نا کوئی دوست اکثر ہمارے ساتھ ہوتا۔ اور مجھے لگتا جیسے وہ میرا بھی دوست ہے، کچھ کے ساتھ تو ایسی بے تکلفی ہو گئی تھی کہ وہ مجھے میرے نام سے پکارنے لگے تھے۔ کوئی جاذبِ نظر مرد بااعتماد انداز اور وارفتگی سے آپکا نام ادا کرے تو میرے جیسا نیا نیا آزاد پنچھی اُسے فوراً اپنا مخلص مان لیتا ہے۔ شروع شروع میں جب میں نے وجاہت سے کہا تو کہنے لگا کہ ندا تُم اب میری بیوی ہو اور میں تمھیں ان سوچوں سے آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں اسے اعتماد کا وہ اظہار سمجھی جس کے کچے گھڑے پر بیٹھ کر میں کس بھی آزمائش کے چڑھتے چناب کو پار کر سکتی تھی۔
زندگی نے اچانک اتنا کچھ میرے قدموں میں ڈھیر کر دیا تھا کہ کبھی تو میں خود سے سوال کرتی کہ یہ خواب تو نہیں، اور میں محبت، آسودگی اور نئے طرز کے رہن سہن میں اتنی رچ گئی تھی کہ سوچتی تھی کہ اگر یہ خواب ہے بھی تو کبھی آنکھ نہ کھلے اور کُھلی بھی نہیں۔ پھر ہوا یوُں کہ سسی کا بھنبھور ہی نہیں لُٹا، سسی کا دل اور متاع بھی لُٹی۔ یہاں تک کہ سسی کی شناخت بھی۔
بہرحال خواب جب تک اپنے اولین بھرم میں رہا مجھے کائنات سے بھی زیادہ معتبر لگا۔ کیسے بھول سکتی ہوں جب وجاہت نے مجھے قُرب کے کسی لمحے میں کہا کہ وہ ابھی اولاد نہیں چاہتا کہ ابھی وہ میرا تمام وقت اپنے لیے چاہتا ہے اور بدلے میں میرے ناز اٹھانا چاہتا ہے۔ اُس لمحے مجھے سمجھ آیا کہ ایک عمر کیوں مختصر لگنے لگتی ہے، اور اگر اُسی لمحے اجل کا بھی خوف کیوں ختم ہو جاتا ہے

دن پر لگا کر اُڑ رہے تھے اور میں بھی ایک پری ہی بن گئی تھی۔ لباس گفتگو انداز کی تبدیلی کو میری والدہ نے کچھ تشویش بھری خاموشی اور بہنوں نے رشک بھری نظروں سے دیکھا۔ اور تب تو میری بڑی بہن حیران ہی رہ گئی جب میں نے اُسے بتایا کہ کبھی کبھی وجاہت اپنا سیگریٹ مجھے کش لگانے کے لیے دے دیتا ہیں اور اُس کی خوشی کے لیے میں یُوں کش لگاتی ہوں جیسے امی کے ہاتھ کی چائے پی رہی ہوں اور یہ کہ اب مجھے سیگریٹ اچھا لگنے لگا ہے تو وہ کافی دیر منہ کھولے مجھے یوں دیکھتی رہی جیسے میری جگہ کوئ اور مخلوق ہو اور میں اب کوئ اور ہی تھی۔
شادی کے سات ماہ میں، میں ندا سے نیٹی بن گئی تھی۔ جو ہر دو ہفتے بعد سپا جاتی تھی، مشہور انگریزی ناموں والی دکانوں سے ملبوسات اور دیگر نسوانی ضروریات کی بیش قیمت چیزیں خریدتی تھی۔ اور دُنیا میرے حُسن کی ٹھوکر میں تھی۔یہ الگ بات تھی کہ وقت نے ثابت کیا کہ ٹھوکر کی زد میں بھی میں تھی اور پھر اس ہنر کو سیکھ کر برتنے والی بھی میں۔
وجاہت اور میں جسطرح کی محافل میں شریک ہوتے تھے اور جن لوگوں سے ملنا جلنا ہوتا تھا وہ سب اپنی زندگیاں یوں جی رہے تھے کہ انہیں دُنیا کی ہر شے سے دلچسپی تھی، میری پلیٹ میں پگھلتی آئسکریم سے بھی مگر اپنی/اپنے شریکِ حیات سے نہیں۔ جب طائر نے پہلی بار مجھ سے بات کی تو یہی کہا تھا کہ میری پلیٹ میں پگھلتی آئس کریم سے بہتر وہ مشروب ہے جو وہ پی رہا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ مجھے بھی زائقے کی داد دینے کا موقع ملے۔ تو فطری جھجک نے مجھے ایک لمحے کو گنگ کر دیا۔ ذات کا چور لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے اصل کو ضرورت کے پاتال میں دھکا دے کر وہ چہرہ پہنتا ہے جو موقعے کے آئینے میں اُبھر سکے۔

میری بوکھلاہٹ مجھے ایک عام سی گھبرائی ہوئی لڑکی ثابت کر رہی تھی اور میں اُسوقت خود فریبی کے جس درجے پر تھی وہاں میں کوئی عام سی ندا نہیں تھی۔ میں تو نیٹی تھی، میں تو ابھرتا سورج تھی جس کی پرستش دُنیا کا سب سے خوبصورت آدمی کر رہا تھا۔ سو میں نے مُسکراتے ہوئے جام قبول کیا اور نازکی سے چند گھونٹ بھرے۔ وجاہت نے تعارف کروایا تو معلوم ہوا کہ طائر تو بہت مہنگا وکیل ہے اور رئیس خاندان سے تعلق ہے وجاہت اس سے کاروباری معاملات میں رائے لیتا رہتا ہے۔ وجاہت کی امارت اور کاروبار کا اندازہ مجھے شادی کے وقت نہ تھا، ہاں آسودہ حالی کا تھا، ابا نے بھی جو ذکر کیا وہ اتنا نہیں ظاہر کرتا تھا جو میں اب خوشی خوشی اپنا سمجھ کر اتراتی پھرتی تھی
وجاہت تعارف کروا کر فون سُننے چلا گیا اور میں طائر کے ساتھ گفتگو میں مگن ہو گئی۔ اُسکی بیوی مُلک سے باہر تھی اور بقول اُسکے وہ کافی اُداس تھا۔ مجھے یاد آتا ہے اُس لمحے جانے کس نشے میں، میں نے اُسے کہا کہ وجاہت مجھے ایسے کبھی نہ جانے دے وہ میرے بغیر ایک دن نہیں رہ سکتا۔ طائر نے میرے گلاس میں دوبارہ جام اُنڈیلتے مجھے ایسی نظر سے دیکھا جیسے میں نے کوئی بچگانہ بات کہہ دی ہو اور پھر بہت قریب آ کر بولا کہ اس ساڑھی میں، میں جو لگ رہی ہوں وہ خود بھی مجھے کئی دن نہیں بُھلا سکے گا۔
اچانک بہت سے رنگوں کی مختلف اشکال میری آنکھوں میں ناچنے لگی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا میں بہت ہنس رہی ہوں اور بدن بہت ہلکا پھلکا ہو کے ہوا میں تیر رہا ہے، یہ کیا ہو رہا تھا ؟میں خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی مگر میں خود کو کھوج رہی تھی۔ جیسے حسیات سے رابطہ منقطع ہو رہا ہو جبکہ میں وہاں کھڑی تھی بے تحاشہ ہنستی ہوئی نیٹی۔

پھر شاید طائر مجھے سہارا دے رہا تھا، ہاں مجھے سہارا چاہیے تھا اور میرا شوہر کہاں تھا، میں سونا چاہتی تھی، خود کو اِسکے بازوؤں کے سپرد کر کے۔۔ اور پھر وجاہت کی سانسیں میری گردن پر تھیں مگر خوشبو وجاہت کی نہیں تھی۔ وجاہت کی مونچھیں میرے رُخسار پر کھردری تھیں مگر وجاہت تو کلین شیو تھا ۔۔ ۔۔ طاہر ہماری خواب گاہ میں کیا کر رہا ہے، اتنے سوالوں نے مجھے اندھا اور لاچار کر دیا تھا میں اپنے آپ کو کیسے حرکت دوں۔۔۔ کیسے۔۔

میری آنکھ کھلی اور اگلے لمحے ہی میں نے آنکھوں کو تیزی سے بند کر لیا تھا کیونکہ روشنی سے مجھے اچانک احساس ہو گیا تھا کہ میرے سر میں شدید درد ہے۔ وجاہت کو چاہیے تھا کہ مجھے جلدی گھر لے آتے میں اچانک بہت تھک گئی تھی۔ آنکھیں موندے ہی میں نے وجاہت کے اپنی کمر کے گرد لپٹے بازو کو ہٹانا چاہا۔ سر میں شدید درد اور روئی کی طرح خُشک منہ کے زائقے نے مجھے یہ خیال بُھلا ہی دیا تھا کہ گزشتہ رات مجھے ہوا کیا تھا
ہمت کر کے جب میں نے دوبارہ آنکھیں کھولیں تو احساس ہوا کہ یہ تو ہمارا کمرہ ہی نہیں اور ۔۔۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو مجھے جس سُرعت اور شدت کا جھٹکا لگا۔ اُس نے ایک لمحے کو مجھے جکڑا اور جب چھوڑا تو میں یوں حلق پھاڑ کر چیختے ہوئے اُٹھی جیسے ایک لمحہ کا ہزارواں حصہ بھی رُکی تو جل جاؤں گی۔ جو شخص میرے پہلو میں سو رہا تھا وہ طائر تھا اور ہم دونوں کی بے لباسی نے اچانک اپنی مکروہ حقیقت کا احساس دلایا تھا۔
طاہر ہڑبڑا کر اٹھا اور میں بستر کی چادر میں چھپی چیخ رہی تھی یا رو رہی تھی یا شاید میں مر گئی تھی، میں زندہ کیوں تھی اب تک؟ طائر نے نیند سے آنکھیں ملتے ہوئے بے نیازی سے مجھے کہا کہ میرے شور کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہاں اور کوئی نہیں اور یہ کہ وجاہت مجھے لینے آرہا ہے اور یہ کہ وہ مجھ سے دوبارہ بلکہ کئی بار ملنا چاہے گا۔

وجاہت کا نام سُنتے ہی مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ تو میرا خواب ٹوٹ کر اپنی کرچیوں سمیت میری روح میں پیوست ہونے والا تھا؟ طلاق کے بعد کہاں جاؤں گی میں زندہ بھی رہوں گی، کیا کہے گا وجاہت۔۔ میں مر کیوں نہیں گئ میں یہاں کیسے آئی میں تو پارٹی میں تھی اور میں خوش تھی مگر اب چڑھتا سورج بجھ کے جھڑ گیا تھا۔ اب دُنیا کا سب سے خوبصورت شخص کس کی پرستش کرے گا، میرے کپڑے کہاں ہیں۔۔۔؟
کمرے کی کھڑکیاں دروازہ بند تھا، اپنی ساڑھی کو کفن کی طرح لپیٹے میں قالین پر بیٹھی تھی کہ اُس بستر پر کانٹے اُگے ہوئے تھے میں دُعا مانگ رہی تھی کہ یہ زمین کوئی قبر اُگلے جو مجھے اپنے دامن میں سمو کر دوبارہ زمین کی آخری پرت میں جا سوئے۔ کہ دروازہ کُھلا اور چہرہ بھینچے میرا شوہر میرا محبوب میرا عاشق اندر داخل ہوا۔ اور میرے آنسو مون سون کی طوفانی بارش تھے۔ کیا آنسو دامن کے داغ دھوتے ہیں ؟کیا آنسو کیچڑ میں پاکیزگی کے کنول اگا سکتے ہیں، یا پھر ملک الموت کو ہی دعوت دے لیں۔ مگر کچھ نہیں ہوا بس اماں کا آبگینہ ٹوٹ گیا

وجاہت نے میرے کندھے چھوئے تو مجھے لگا کہ میں بُھربُھری مٹی کا ڈھیر ہوں جو اس لمس سے فضا میں تحلیل ہوجائے گا، اور اگلے لمحے میں اپنے شوہر کے بازوؤں میں بے آواز رو رہی تھی۔ میں نے خود کو کہتے سُنا کہ میں آپ کے بنا مر جاؤں گی اور مجھے معاف کر دیں۔ اور بہت کچھ ۔ایک ٹوٹی پھوٹی گردان تھی اور میری بھیگی آواز۔ اور وجاہت میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مجھے خاموش کروا رہا تھا۔ کمرے سے گاڑی اور پھر گھر تک کا سفر میں برستی آنکھوں اور انگارہ دل سے طے کیا۔ ساس سُسر اوپر والے پورشن میں ڈھائی ماہ قبل ہی شفٹ ہو گئے تھے۔ سو کوئی سوال کرنے والا نہ تھا۔خاموشی اسوقت سب سے زیادہ ضروری پناہ گاہ تھی۔
وجاہت نے مجھے دو گولیاں دیتے کہا کہ میں یہ کھا لوں اور اُٹھ کر جب میں بہتر ہوں گی تب ہم بات کریں گے اور یہ کہ اُسے مجھ پر پورا بھروسہ ہے کہ میں سچی ہوں۔ میں نہیں جانتی اسوقت جو میں نے محسوس کیا وہ کیا تھا۔ ٹوٹا آبگینہ ابھی بھی قیمتی تھا؟ بُجھا سورج ابھی قابلِ پرستش تھا ؟ اُس لمحے اگر وجاہت مجھے آگ میں کودنے کو کہتا تو میں تامل نہ کرتی۔ دوائی سے طاری ہونے والا بوجھل پن اپنا شکنجہ میرے وجود پر گہرا کر رہا تھا اور جلد ہی میں سو گئی تھی۔
کاش نیند انسان کو اُس کی روح کی شکستگی بُھلا سکے۔ تاکہ جب وہ اُٹھے تو روحانی طور پر بھی مطمئن ہو مگر میرا اضطراب تو لگتا تھا جیسے دُنیا کی ہر حاضر و غائب چیز ہر آواز میں اور ہر منظر میں سرایت کر گیا تھا اور مجھے اپنے زندہ جاوید ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔ اُٹھتے ہی میں جیسے بدکی اور اپنے اطراف کا جائزہ لیا۔ اور پھر خود کو اپنے کمرے میں تنہا پا کر جو اذیت اور سکون، تحفظ اور مُردنی کا احساس ہوا۔ خدا کسی کو اس پُل صراط سے نہ گُزارے۔
سرہانے میز پر رکھی ہماری شادی کی تصویر، وجاہت کے تکیے سے اٹھتی اُسکی مخصوص خوشبو، میں شاید ان چیزوں کو ایک نئی نظر سے دیکھ اور محسوس کر رہی تھی۔ یا شاید ہر چیز سانس لے رہی تھی، زندہ تھی اور میری حسیات پر کوڑوں کی طرح برس رہی تھی جبکہ نیٹی مر گئی تھی یا شاید جلاوطنی اختیار کر گئی تھی۔ میں پھر سے ندا تھی، دُنیا سے اجنبی، خوف زدہ اور نالاں۔ میں کتنی آسانی سے ایک مہذب نظر آنے والے خوش گُفتار درندے کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔ بلکہ میں نے شاید خود اپنا آپ اُسے کسی پتنگ کی طرح تھمایا اور وہ مجھے ُاڑا کے پھر ہوا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلتا بنا۔
اگلا خیال وجاہت کا تھا کہ وہ کدھر ہے اور کہیں وہ کچھ کر نہ بیٹھے اور ۔۔ میں دوڑتی ہوئی باہر نکلی۔ لاؤنج میں سناٹا تھا۔ دھوپ دیواروں پر سر جھکائے پڑی تھی جیسے شرمسار ہو۔ یا میرا باطن ہر چیز سے جھانک رہا تھا۔ باغ میں وجاہت آرام کُرسی پر جھوُلتا فون پر کسی سے کھلکھلاتا ہوا بات کر رہا تھا۔ کیا یہ مُسکراہٹ میرے لیے اب کبھی اُس کے ہونٹوں پر ہو گی؟ مجھے دیکھا تو اُس نے فون بند کر دیا اور اُٹھ کر میری جانب بڑھنے لگا۔ میرے قدم وہیں گڑے تھے اور میں دل کڑا کر کے وہ سُننے کی منتظر تھی جسے قیامت بھی کہا جا سکتا تھا۔
وجاہت نے میرا ہاتھ تھاما اور اپنے معمول کے انداز میں پوچھا کہ میں اب کیسا محسوس کر رہی ہوں، اُس کے غیر متوقع رویے اتنے سادہ سوال اور مُسکراتے چہرے نے مجھے اتنا ُمتحیر کیا کہ جواب دینا تو درکنار میں اُسے یُوں دیکھنے لگی جیسے ہم دونوں اجنبی ہیں اور بھیڑ میں اچانک ٹکرانے سے اپنا توازن کھو بیٹھے ہیں۔
اُس نے جب میرے چہرے کو سہلا کے اپنا سوال دہرایا تو میں بے اختیار اُس کے گلے لگ گئ۔ اور میری آنکھیں پھر پیشمانی کا جلتا ہوا سیال بہا رہی تھیں۔
وجاہت میرے بال سہلاتے ہوئے بولا اُسے مجھ سے کوئی گلہ نہیں، میری ذات پر اعتماد اور مجھ سے محبت اُسکے دل میں ابھی بھی ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی۔ اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ ہم اس بارے کوئی بات کریں۔ کیونکہ وہ مجھے اذیت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ اور یہ کہ اُسے جلدی تھی سو وہ باہر جا رہا ہے اور شام کو ہم باہر کھانا کھائیں گے۔ یہ کہتا وہ اندر چلا گیا اور میں عجیب سے بے چین دُکھ کی زنجیر سے بندھی وہیں کھڑی تھی
عورت کی ذات بہت عجیب ہے۔ اُس وقت مجھے خوش ہونا چاہیے تھا۔ کہ میں ابھی بھی چڑھتا سورج ہوں، دُنیا کا سب سے خوبصورت شخص میری پرستش کر رہا ہے۔ اور نیٹی کو بھی عالمِ زنداں سے واپس لایا جا سکتا ہے
مگر وجاہت کو کوئی تو ردِعمل دینا چاہیے تھا، کیسا ردِعمل؟ شاید میں سرزنش چاہتی تھی، ایسی سرزنش جو محبت، غُصے اور حق جتانے کا اظہار ہو۔ اور کیا ضروری تھا آج مجھے چھوڑ کر جانا۔۔ ؟ پھر میرے زہن میں سب سے ضروری سوال اُبھرا، تمام رات وجاہت کہاں تھا؟ کیا اُس نے مجھے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کی؟ اور کیا واقعی سب ویسا ہی ہے جیسا مجھے دکھائی اور سُنائی دیا یا ویسا ہے جو میں محسوس کر رہی ہوں؟ کہیں کچھ تھا اس گہری دھند میں کہیں کچھ تھا جو مجھے اچانک شدید غلط محسوس ہو رہا تھا۔
میں تھکے قدموں سے اندر بڑھی۔ تو وجاہت گُنگناتا ہوا باہر نکل رہا تھا۔ پاجامے کی جگہ اُس نے جینز پہنی ہوئی تھی اور اپنے سن شیڈز سر پر جمائے وہ تیز قدم اُٹھاتا باہر آرہا تھا۔ جانے اِس کے انداز میں کوئی بیگانگی تھی یا میں بُزدل تھی مگر میں اُس سے نہ پوچھ سکی کہ وہ تمام رات کدھر تھا۔ میں احساسِ گناہ سے ایک منٹ میں سو بار مر رہی تھی اور وہ اتنا پُر سکون نظر آرہا تھا۔ بلکہ یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، سب معمول کے مطابق ہے۔ وجاہت نے جاتے ہوئے کہا کہ میں تیار رہوں اور کھانا آرڈر کر کے کھا لوُں کوئی اور دن ہوتا تو میں خوشی خوشی کپڑوں کا سوچنے لگتی مگر آج تو گھر سے باہر نکلنا کسی کو دیکھنا یا اردگرد محسوس کرنا مجھے مُشکل ترین بلکہ ناممکن لگا۔
جب انسان اپنی بنیاد سے اکھڑا ہوا ہوتا ہے اور سیاہ خلا میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہوتا ہے تو اُسکی حساسیت سیلاب کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہے اور میں اپنے کناروں سے باہر تھی اور خود کو ہی مختلف سمتوں میں چھانٹ چھانٹ کر بکھیر رہی تھی۔ تنہائ میرے رگ و پے میں اُتر رہی تھی۔ ابدی تنہائی، جس میں ادھورے پن کا آسیب تھا اور پھنکارتے ہوئے سوال تھے۔ طائر ایسے کیسے سکون سے اپنی زندگی جی سکتا ہے جب میں یہاں تختہِ دار پر جھول رہی ہوں؟
وجاہت کے آنے تک میری وحشت اتنی بڑھ گئی تھی کہ میں اپنے ناخنوں سے اپنی جلد کو ادھیڑ کر صاف کرنا چاہتی تھی۔ مجھے پھر سے وہ احساسِ تفاخر چاہیے تھا جو نیٹی کا سب سے اہم سنگھار تھا۔ اور اس کی جگہ مجھے اپنے جسم پر بدبودار کیچڑ کے دھبے نظر آ رہے تھے جو طائر کی جیت کا ثبوت تھے۔ اور جن میں اب وہ سراسیمگی بھی شامل ہو گئی تھی جو آپکو ایک خوفناک حقیقت کا پتہ دے رہی ہوتی ہے مگر آپ ایک وکیل کی طرح اپنے یقین اپنے موکل کا دفاع کررہے ہوتے ہیں۔ میں وجاہت کے حد سے زیادہ نارمل رویے کا دفاع کر رہی تھی اور خود کو بتا رہی تھی کہ مرد اتنا مہربان بھی ہو سکتا ہے اور اُسکی غیرت اِسکی بیوی کی ۔۔۔ نہیں کوئی دلیل نہیں بن رہی تھی۔
کمرہ روشن ہوا تو اندازہ ہوا کہ وقت بھی معمول کے مطابق رواں دواں رہا تھا اور میرا شوہر لوٹ آیا تھا۔ ساس سُسر ملازمین کہاں ہیں اسکا خیال کسے تھا۔ مجھے بستر میں گُھسے دیکھ کر وجاہت میرے سرہانے بیٹھ گیا اور مجھے پکارنےلگا کہ میں تیار کیوں نہیں اس قدر اندھیرا کیوں؟ پھر اُس نے وہی لہجہ استعمال کرنا شروع کیا جو روزنِ سیاہ ہوتا ہے اور کسی بھی ستارے کسی بھی شے کو خود میں گُم کر سکتا ہے۔ بہرحال تقریباً ایک گھنٹے کے بعد میں سیاہ لباس میں اپنے شوہر کے ہمراہ گھر سے باہر نکل رہی تھی۔
زیورات، سُرخی و غازے کے رنگ، خوشبو یہ سب لیپاپوتی کر کے کسی بھی کھنڈر کو وقتی طور پر قلعہ کر دیتے ہیں۔
میں اسوقت ندا اور نیٹی نام کے دو حصوں میں بٹا ہوا قلعہ تھی مگر بنا محرابوں اور حفاظتی فصیل کے۔ دل کہہ رہا تھا کہ یہ مجھے بہلایا جا رہا ہے تاکہ میں اس اذیت سے نکلوں۔ کیونکہ بہلانے والے کو مجھ سے محبت ہے۔ دل ہی کی صدا تھی آج اُس کے تحفظ اور ساتھ کے علاوہ سب اضافی تھا۔ وقت کے اس چل چلاؤ میں، میں ایک ڈوبتا ابھرتا کھنڈر بن گئی تھی۔ جو اچانک اس چل چلاؤ کی حرکت سے الگ ہو جاتا ہے اور کسی اور نظام کا حصہ بننا چاہتا ہے مگر واپس اُسی تیزابی چل چلاؤ میں گھسیٹ لیا جاتا ہے۔ کہ یہی سزا ہے
وجاہت کی گفتگو، بے مقصد گفتگو، مجھے اسی کوفت میں مبتلا کر رہی تھی اور میں اسے ہوں ہاں اور اُتنے ہی بے مقصد جوابوں سے چھپا رہی تھی۔ جس بات نے مجھے توجہ دینے پر مجبور کیا وہ یہ تھی کہ اُس کا کوئی دوست بھی اس کھانے ہر مدعو تھا۔ مشہور سیاستدان کا بیٹا تھا۔ شادی میں شرکت نہ کر سکنے کے باعث مجھ سے ملنے کا مشتاق تھا۔
خوف کی ایک سرد لہر تھی جو میرے جسم میں دوڑی اور روح تک کو منجمند کر گئی۔ سب جانتے ہوئے بھی وجاہت ایسے کیسے کر رہا تھا ؟ کیا اُسے میرا سوگ مناتا وجود دکھائی نہیں دے رہا؟ یا کیا اُسے کوئی قلق کوئی رنج کوئی غُصہ نہیں تھا ؟میں اُسکی بیوی ہوں یا ایک سستا تماشہ ہوں ؟ یہ مجھے بہلا رہا ہے یا میں اسے بہلا رہی ہوں؟ ان لمحوں میں میرا گُناہِ کبیرہ میری احمقانہ خاموشی تھی۔ اسی احمقانہ خاموشی میں، میں نے ہوٹل لابی سے ریسٹورنٹ تک کا سفر کیا۔ وجاہت میری کمر پر ہاتھ رکھے چل رہا تھا ہمیشہ کی طرح۔ مگر اب اس میں کوئی اپنائیت کا احساس نہیں تھا۔ورنہ اُسکا تمام دنیا کے سامنے مجھے تھامنا مجھے مسحور کر دیا کرتا تھا جیسے وہ سب کو بتا رہا ہو کہ میں اُسکی ہوں۔ آج میں نے اُسی سہارے کو خود پر سنگباری کرتے پایا۔
ہمیشہ کی طرح مہنگا اور بطورِ خاص چُنا گیا اور امارت میں لپٹا ماحول۔ ہم چونکہ مقررہ وقت کے بعد پہنچے تھے تو ہمارا میزبان انتظار میں موجود تھا اور مجھے یوں دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔ وجاہت کے سب دوست مجھے ایسے ہی دیکھتے تھے مگر اس سے پہلے میں اسے اُمرا کا روشن خیال انداز سمجھتی تھی۔ آج میں اس پردے سے جھانکتی غلاضت کی باس واضح محسوس کر سکتی تھی۔ تعارف کا مرحلہ ختم ہوا اور کھانا لگا دیا گیا۔

اب سوچتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ اتنا استقلال تھا میرے وجود میں کہ اُس وقت بھی میں اپنے شوہر کی خاطراُس تیمور شاہ کے قصے سُن رہی تھی، مگر مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ کنپٹیوں میں جیسے درد کے الاؤ روشن تھے۔ کھانا ابھی چل رہا تھا کہ وجاہت اپنے موبائل کے بٹن دباتا تیزی سے اُٹھا اور یہ کہتا ہوا چلنے لگا کہ وہ کسی سے انتہائی اہم بات کرنے جا رہا ہے۔ تیمور نے مُسکُراتے ہوئے کہا کہ یہاں کا میٹھا اُسے بطورِ خاص پسند ہے اور ہم میٹھا کھاتے وجاہت کا انتظار کریں گے۔

میں ریسٹ روم کا بہانہ کر کے کچھ وقت تنہا گزارنا چاہتی تھی۔ پچھلی رات کی یاد اپنے بھیانک چہرے سے مجھے ڈرا رہی تھی اور شاید ایسا کوئی تاثر میرے چہرے پر عیاں ہو گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ تیمور کا ہاتھ میرے سرد ہاتھ پر دھرا تھا اور وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا میری طبعیت ٹھیک ہے؟ یہ کہتے ہوئے وہ اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے آگے جھکا اور میرے ماتھے اور رُخسار پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرنے کی اداکاری کرنے لگا۔ اور میرے صبر کا پیمانہ صرف لبریز نہیں ہوا بلکہ یوں چھلکا کہ میں نے اُسکے مکروہ ہاتھ کو جھٹکا اور اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُسے زندہ جلا دوں۔

“تمھاری جرات کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟ ایسے کیسے چھونے کی کوشش کی تم نے مجھے” میں جنونی انداز میں چِلا رہی تھی اور وہ ادھر ادھر دیکھتا موبائل پر کسی کو کال ملا رہا تھا۔” آ کر اپنی پاگل بیوی کو سنبھالو، خوامخواہ میرا وقت ضائع کیا” یہ کہتے ہوئے وہ پیر پٹختا چلا گیا اور میرا شوہر لمبے لمبے ڈگ بھرتا مجھے سامنے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ میں سمجھ نہیں سکی کہ کب شکستگیِ دل شدید نفرت اور غصے کی صورت لاوے کی طرح پھٹ پڑی۔

وجاہت کے اختیار میں ہوتا تو شاید جادو کے زور سے ہم دونوں کو اُس منظر سے غائب کر دیتا۔ وہ میرا بازو تھامے مجھے کھینچ رہا تھا۔ اور میں کسی بے جان گُڑیا کی طرح گھسٹتی جا رہی تھی ۔ اور اب مجھے یقین ہو گیا تھا کہ نیٹی مر چکی ہے، ابھرتا سورج لڑکھڑاتا ہوا کسی آندھی کھائی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا اور دُنیا کا سب سے خوبصورت آدمی اب کدال تھامے ایک وحشی نظر آ رہا تھا جو سورج کو کھائی میں دفن کرنے کو بیتاب نظر آتا تھا۔ وجاہت مجھے گاڑی میں ٹھونستے خود تیزی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور سرد لہجے میں تیز تیز بولنے لگا کہ میں اپنے آپکو سمجھتی کیا ہوں۔ پہلے ایک بااثر دوست کے ساتھ بدتمیزی اور پھر بیجا واویلا؟ وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ گھر چلو اور معافی مانگو تیمور شاہ سے

شاید میں تمھیں لفظوں میں نہیں بتا سکتی کہ اس وقت اُسکی بکواس کی لاتعداد آریوں کو میں نے کیسے اپنی روح کے چیتھڑے کرتے پایا۔ ایک رات پہلے جس کی بیوی درندگی کا شکار ہوئی۔ وہ اُس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا نہ اُس درندے سے کوئی بات مگر چاہتا ہے کہ میں ایک بدقماش آدمی سے اُس ہی کی بدتمیزی سے شروع ہونے والی بات پر معافی مانگوں۔ جن خدشات کو میں نیٹی بن کر واہمات کہتی رہی وہ اب پورے استدلال کے ساتھ اپنی سچائی کا یقین دلا رہے تھے۔ وجاہت کا اپنے دوستوں سے ملانا، ان کے ساتھ ہنسی مذاق کو بڑھاوا دینا، مجھے طاہر کے ساتھ تنہا چھوڑنا اور خاموشی سے صبح آکر لے جانا، کسی بھی طیش کا اظہار نہ کرنا بلکہ بات ہی نہ کرنا الٹا آج پھر۔۔۔ کہیں آج بھی کل والی کہانی تو نہیں دہرائی جانی تھی۔ ؟

کوئی آدمی اتنا بے غیرت کیسے ہو سکتا ہے اور وہ تو شوہر ہی نہیں محبت کا بھی دعویدار تھا۔ گھر آ چکا تھا اور اندر داخل ہوتے ہی وہ مجھے فون تھما کر بولا کہ معافی مانگو اور اسے کل گھر آنے کی دعوت دو۔۔ میں نہیں جانتی کب میرے ہاتھ اٹھے اور وجاہت کے چہرے اور سینے پر برسنا شروع ہوئے میں اُسے بیغیرتی اور بے شرمی کے طعنے دے رہی تھی اور جانے کیا کیا کہ شاید اُس نے پوری قوت سے مجھے تھپڑ مارا، مجھے احساس تب ہوا جب میرا دایاں رُخسار جلنے لگا اور کان میں یکلخت آواز آنی بند ہو گئی اور میں نے اپنا لہو اپنے لبوں پر چکھا۔ اپنے آپکو میں نے صوفے پر اوندھے منہ گرا پایا

پھر جیسے اُس کے اندر کا وحشی سچ مچ بیدار ہو گیا تھا۔ مجھے بالوں سے پکڑ کے اُس نے جھٹکا دیا اور اسی ڈھب پر اٹھاتے ہوئے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھا دیا اور پھر وہ بولنا شروع ہوا جسے سُننے سے پہلے مجھے مر جانا چاہیے تھا،” اگر یہ بات اس گھر سے باہر نکلی تو کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گی میرے پاس ہماری ایسی فلمیں ہیں جنہیں دیکھ کے تمھارا خاندان اپنے زندہ ہونے پر پچھتائے گا۔ اور یہ بیوی شوہر کی بکواس سے میں تنگ آگیا ہوں تم پانچویں عورت ہو جس کے ساتھ نکاح نامے ہر دستخط ہیں میرے اور پہلی چاروں کی چاروں بہترین بزنس کر رہی ہیں، تم بھی اب یہ گھریلو گرہستی ڈرامہ بند کرو” پھر وہ ایک شیطانی قہقہہ لگاتے بولا، ” پتا نہیں بیوی ہو بھی کہ نہیں، مگر فائدہ یہ ہے کہ تمھیں میں اچھا ماہر بنا چکا ہوں، بس عیش کرواؤ گی تو عیش کرو گی ورنہ موت بہت آسان سزا ہے جو میں اپنی نیٹی جان کو اتنی آسانی سے تو نہیں دینے والا”
اُسکے بعد کیا ہوا مجھے نہیں یاد۔ میری آنکھ وجاہت کی آواز سے کھلی، وہ مجھے اٹھا رہا تھا اور ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ میرے بے حس و حرکت پڑے رہنے پہ بولا کہ میری چھوٹی بہن کا فون آیا تھا وہ اپنی سالگرہ کے کپڑے دکھانے مجھ سے ملنے آنا چاہ رہی تھی۔ یہ وہی ان سلے مگر بیش قیمت ملبوسات تھے جو میں اور وجاہت آخری بار تحفے کے طور پر دے کے آئے تھے۔ بات کرتے کرتے آخر میں وہ خبیث آنکھ دباتے بولا کہ “کہتی ہو تو لے آتا ہوں اُسے بھی۔ دو بہنیں ایک اچھا تجربہ ہو سکتی ہیں” اس بات نے مجھ میں جیسے بجلی بھر دی میں اس پر جھپٹتی اس سے پہلے وہ مجھ پر تھا اور میرے دونوں ہاتھوں کو سختی سے بھینچتے ہوئے بولا ” نہیں نہیں اتنا غُصہ نہیں عقل سے سوچو تمھاری ایک ‘ہاں’ تمہاری زندگی آسان کر دے گی اور تمھارے گھر والوں کی خُلاصی، طائر کو تم کافی پسند أئی ہو وہ تم سے دوبارہ ملنا چاہتا ہے اور تیمور بھی اگر تم اس سے معافی مانگ لو اور دُنیا والوں کے سامنے چُپ چاپ میری بیوی بن کر رہو۔ دُنیا گھومو اور جیو”

“کیوں وجاہت میں ہی کیوں؟” کچھ سوالات لاکھ بھید ظاہر کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہوں تو بھی بیکار ہوتے ہیں۔ یہ سوال بھی بیکار تھا مگر لگتا تھا وہ دن میرے لیے قیامت بن کر نکلا تھا۔ وجاہت ہنستے ہوئے بولا، “کافی وجوہات ہیں، تمہارا چھوٹے گھر سے ہونا، خوبصورتی اور کم عُمری، تعلیم کی کمی اور سب سے اہم ۔۔ تمھارا باپ تمھاری ماں کو بھگا کر لایا تھا۔ اور ابھی تک شرمندہ ہے اور چھپتا پھرتا ہے، ایسے لوگوں کو قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔۔ تم مجھے پسند آئی تو سوچا شادی کر کے کچھ وقت بھی گزار لوں گا اور تمھیں تمھارے کامپلیکسز سے بھی نکال دوں گا ۔۔ اب تم پر ہے کیسے چاہتی ہو”
اوہ میرے خدا یہ نیچ شخص کیا بکواس کر رہا تھا۔ جس بندھن کو میں قسمت کا حسین اتفاق کہتی تھی وہ ایک منظم سوچا سمجھا دھوکہ تھا اور ابو اور اماں ۔۔۔ اتنی بڑی بات۔۔ اور اتنی پوشیدگی اتنی خاموشی۔۔ تبھی میرا کوئی ننھیال نہیں تھا اور چچا چچی کا انداز، بچپن میں ہمارا کافی بار گھر تبدیل کرنا۔ اماں کا کسی سے میل جول نہ رکھنے دینا زیادہ ۔ کتنی دبیز تہیں تھیں جو اُتر رہیں تھیں اور میں برہنہ ہوتی جاتی تھی۔۔ دو دن میں میری زندگی وہ کمزور دھاگہ بن گئی تھی جو دھوکے کی آندھی کے دوش پر تھا اور کبھی کس بگولے میں پھنستا تھا کبھی کس کونے سے لپٹتا تھا۔ اور کمزور سے کمزور تر ہوتا جاتا تھا۔
وجاہت تو مجھے کئی ٹکڑوں میں بانٹ کر جا چکا تھا۔ اب میں تھی، دُکھ میں تر حیرت کا تیشہ تھا جو میرے ٹکڑوں کو مزید کر رہا تھا۔ کاش میرے ماں باپ اپنے ماضی کو ہماری سزا نہ بناتے۔ کاش ہم بہنیں زیادہ پڑھی لکھی ہوتیں۔ کاش ہمیں سر سے اتارنے کی جلدی ہمارے ماں باپ کو نہ ہوتی۔ ایک عورت جتنے کاش پالتی ہے اُسکی زندگی اُتنی ہی اجیرن ہوتی ہے اور مجھے تو یہ لفظ اب اپنی ہر سوچ کا سابقہ اور لاحقہ لگنے لگا تھا
موبائیل اور لینڈ لائن مجھ سے تب تک لے لیا گیا تھا جب تک میں اپنے تعاون کی یقین دہانی نہیں کرا دوں ۔آنے والے دو دن مجھے کمرے میں بند ہی رکھا گیا۔ کھانا آجاتا، مجھے باہر سے لوگوں کی باتوں کی آوازیں آتیں اور میں خوف سے اپنے آپ میں سمٹ جاتی۔ مگر یہ وقت خوف کا نہیں تھا۔ میں پھنس چُکی تھی اور ایک غلط قدم میری بہنوں پر عذاب لا سکتا تھا۔ میرا جی چاہتا تھا اُڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ جاؤں۔ اور اُسے کہوں کہ مرضی کی شادی جُرم نہیں، مگر اپنے تعلق پر تمام عُمر شرمندہ رہنا اور بیٹیوں پر بھروسہ نہ کرنا جُرم ہے۔
پھر چچا چچی کے آگے ماں کی شرمندگی یاد آئی تو سوچا اب جو میری بیتی سُنیں گی تو کیا زندہ ہی دفن کر لیں گی خود کو۔ میری ماں کا سنبھال سنبھال کر رکھا آبگینہ ٹوٹ گیا تھا۔ مگر بھرم رکھا جا سکتا تھا۔ میں خود جل کر اپنے گھر والوں کو سُکھ میں رکھ سکتی تھی۔ میں تو اب بیوی بھی نہیں رہی تھی۔ کبھی تھی ہی نہیں۔۔ مگر میری زخم زخم روح ایسی شکست نہیں چاہتی تھی۔ مجھے بدلہ لینا تھا۔ میرے بدلے سے زیادہ وجاہت کو سزا دینی ضروری تھی۔ اور مجھے بہت ہمت اور مضبوط سہارے کی ضرورت تھی۔ اِس وقت مجھے وجاہت کا اعتماد جیتنے کی بھی ضرورت تھی۔ اپنے گھر والوں کو بچانا تھا اس سے پہلے مرنے جیسی آسائش مجھ پر حرام تھی۔
ان دنوں میں، میں نے بہت سے سبق سیکھے۔ ایک یہ تھا کہ مصیبت اور رنج کے خوف جیسی کوئی مار نہیں۔ یہ مار ہی انسان کا قصہ تمام کرتی ہے۔ اصل رنج تو اتنا بے حس اور مانوس کر دیتا ہے جیسے مچھلی پانی میں۔۔ تیرتی ابھرتی اسی تہہ میں مر جاتی ہے۔ میں نے تمام احساسات کو پسِ پشت ڈال دیا تھا یا وہ مجھ پر رحم کھاتے مجھے میرے حال پر چھوڑ گئے تھے۔ میں نہیں جانتی مگر میں کسی برفیلے جہنم میں اپنا آپ دفن کر چُکی تھی۔ میں نے وجاہت کے آگے کچھ شرائط رکھ دی تھیں۔ کہ میرے خرچے میں کمی نہ آئے۔ یہ اس لیے تھا تاکہ وہ مجھے دولت اور چمک کی بھوکی سمجھے۔ ایسا بھوکا کسی بھی ڈگڈگی پر ناچنے کو ہمہ وقت تیار ہوتا ہے۔ سو مداری ایسی بھوک پسند کرتا ہے۔ اور وجاہت خود کو میرا مداری ہی سمجھتا تھا۔
دیگر شرائط میں میرے خاندان کی اس صورتحال سے مکمل علیحدگی تھی۔ میں بے اُسے کہا کہ مجھے ہائی سوسائٹی کے باقاعدہ طریقے سیکھنے ہیں۔ جس میں نشست و برخاست سے لے کر دلچسپ موضوعات پر گفتگو تک کو برتنا سکھایا جائے۔ علاوہ ازیں بہت سوچ بچار کے بعد میں نے طائر کا انتخاب دوست کی حیثیت سے کر لیا۔ وہ پڑھا لکھا اور دولت مند تھا۔ وکیل بھی تھا۔ میں جانچنا چاہتی تھی کہ وہ کس حد تک اور کس موقعے پر میرا ساتھ دے سکتا تھا۔ اگر صرف میری ذات تک بات ہوتی۔ تو شاید میں میڈیا تک جاتی مگر مجھے بدنام نہیں کرنا تھا۔

مجھے تو سانپ کا سر کچلنا تھا۔
میں اس مرحلے کی ہولناکی سے آگاہ نہیں تھی اتنا کچھ سہہ کر بھی۔ میری ‘ہاں’ نے میرا پنجرہ تو کشادہ اور سُنہرا کر دیا تھا مگر دروازہ نہیں کُھلا تھا۔ بلکہ جیسے چکنا سٹین لیس سٹیل کا برتن مٹی دُھول اپنے اوپر جمع کرتا کرتا خود انتہائی گدلا و سیاہ اور مخصوص بُو دینے لگتا ہے میں وہی بن گئی تھی۔ اِس ایک سال میں میں کتنے مردوں کے ساتھ کتنی راتیں کہاں رہی۔ مجھے نہیں یاد۔ اس دوران جو کوفت مجھے اپنے گھر والوں سے مل کر یا بات کر کے ہوتی تھی وہ مجھے دنوں سر درد میں مبتلا رکھتی تھی یا شاید یہ روح کا درد تھا جو جسم میں اٹھتا تھا
طائر کے ساتھ میری دوستی گہری ہو گئی تھی۔ وجاہت کے جتنے تعلق والے تھے اُن سب پر میں جتنا ہو سکتا تھا نظر رکھتی تھی۔ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ جو عورت خود کو وجاہت کی ماں ظاہر کرتی تھی۔ وہ اُسکے باپ کی رکھیل تھی۔ وجاہت کا چھوٹا بھائی کاروباری معاملات سنبھالتا تھا یا دیگر شرائط طے کرتا تھا۔ مگر سگا بھائی نہیں تھا وجاہت اس گروہ کا چہرہ اور گفتگو تھے۔ چرب زبان آدمی جو شکل و صورت اور رکھ رکھاؤ میں کسی بھی عورت کو گھائل کر سکتا تھا۔ وجاہت کے کئی عورتوں سے تعلقات تھے جن میں کئی اچھےامیر گھرانوں کی بال بچوں دار بیگمات بھی شامل تھیں۔ یہ گروہ معصوم غریب گھرانوں کی بچیوں سے شادی کا ڈھونگ رچا کے انہیں جدید تقاضوں اور طور طریقوں سے آگاہ مہنگی رکھیل بناتا تھا۔ کئی شوقیہ بھی کام کر رہی تھیں اور ممکنہ شکاروں کے بارے معلومات فراہم کرتی تھیں
سچ کہوں تو شاید کسی ذلالت کے لمحے میں، میں سچ مچ نیٹی بن گئی تھی۔ میرے پاس کھونے کو کچھ تھا ہی نہیں نا پلٹنے کو کوئی منتظر ۔۔ میں زیادہ وقت دوبئی گزارتی۔ اپنے گھر والوں کو پیسے تحائف بھجواتی مگر ملنے کی ہمت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی گئ۔ مجھے خوف تھا کہ میری ماں میرے دل پر لگی کالک نہ پڑھ لے اور میرا باپ میری چال میں گناہ کی لہر نہ پہچان لے۔ اور میری بہنوں پر اسکا سایہ نہ پڑ جائے۔ اماں کو فون پر راضی کر لیا تھا۔ کہ چھوٹی طیبہ کو پڑھنے دیں۔ اور انگریزی کا کورس کرائیں۔ مگر وہ ایک درمیانے درجے کی طالبہ تھی اور دسویں کے امتحانات کی تیاری میں ہی ہلکان تھی
وجاہت نے اس دوران بہت بار میری نزدیکی چاہی۔ مگر میں نے یہی کہا کہ چند چھٹیاں آرام کی گزارنا چاہتی ہوں۔ اور اِسے بھی تفریح کی کوئی کمی نہیں تھی اس دوران میں اُسکی چاروں بیویوں سے بھی ملی۔ عورت نما مشینیں۔ مگر دوسری بیوی کی آنکھوں میں مجھے کچھ ایسا محسوس ہوا جو مسلسل اشکبار تھا۔ وہ شاید۔۔ شاید اس دلدل سے خوش نہیں تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ وہ وجاہت کے بچے کی ماں بننے والی تھی مگر اسکو یہ بچہ پیدا نہیں کرنے دیا گیا۔ اُسکی روح کا کوئی حصہ ابھی بھی گریہ کر رہا تھا۔ وہ میری ساتھی بن سکتی تھی۔
تقریباً دو ماہ میں اُسے ٹٹولتی رہی کریدتی رہی۔ اور پھر مجھے موقع ہاتھ آگیا۔ وہ اپنے کسی امیر دوست کے ملازم کی محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔ وہ بھی اُسے چاہتا تھا اور امبر بھی رہائی چاہتی تھی۔ میں عجیب الجھن کا شکار تھی۔ کہیں یہ وجاہت کا جال تو نہیں؟ کہیں یہ میرا امتحاں تو نہیں؟ مجھے وجاہت کی منہ بولی ماں سے کافی خطرہ محسوس ہوتا تھا درمیانی عُمر کی عورت تھی۔ اپنا حِسن اور اہمیت کھو رہی تھی۔ کینہ پرور بھی تھی۔ ایسی عورت ہر چیز سے اپنا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ اُس کا کام ہم پر نظر رکھنا تھا۔مجھے اور امبر کو محتاط رویے کی ضرورت تھی۔ اور میں یہ بات دعوے سے کہہ سکتی تھی کہ امبر جس کے چکروں میں یہاں سے نجات چاہتی ہے۔ وہ درخت بے ثمر اور غیر سایہ دار ہے۔
مگر امبر کی دوستی نے مجھے سہارا دیا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی منہ بولی ساس سے نجات حاصل کریں۔
میں نے طائر کے دل میں گھر کرنے کے لیے جو کچھ ممکن تھا وہ کیا۔ وہ دلچسپ باتیں کرنے والا شخص تھا۔ کبھی اُسکے پہلو میں بیٹھے جب اُسکی بیوی کا فون آتا اور میں خاموشی سے اُسے اُٹھا کر فون تمھاتی یا میسج کر کے بتاتی کہ میں یعنی طاہر میٹنگ میں ہے تو میرا دل چاہتا اُس عورت کے سامنے جا کر اُس پر خوب ہنسوں اتنا ہنسوں کے دیوانگی مجھے دلاسہ دینے آئے۔ وہ پاگل عورت کبھی اُسکی طبعیت اور کھانے کا پوچھنے کے لیے فون کرتی۔ اور وہ میرے ساتھ مشغول ہوتا۔ (یہ بات میں معلوم ہوا کہ وہ طائر پر نظر رکھتی تھی ۔)
ہم عورتیں مردوں کو جتنا اونچا مقام دیتی ہیں اگر اُس مقام کی بنیادیں کھودیں تو اُس میں شاید ہماری خوش فہمیوں اور آرزووں کے کچھ برآمد نہ ہو۔ طائر کی اپنی کہانی تھی۔ وہ کالج میں کسی سے محبت کرتا تھا۔ چار سال بعد وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ شادی کرکے چلتی بنی اور وہ وہیں رُکا رہ گیا۔ اور پھر اپنے والد کی مرضی سے اُس کے امیر دوست کی اکلوتی بیٹی سے شادی کر کے گھر بسا بیٹھا۔ وہ حکمرانی کرنا چاہتی تھی اور طائر پرندے کی طرح اُڑنا چاہتا تھا

اس شادی کی بنیاد کھوکھلی تھی۔ مگر بچوں نے سنبھالا ہوا تھا۔ میں طاہر کی اُڑان تھی۔ اور وہ میرا چور راستہ تھا۔ سب ضرورتوں اور بے بسی کی ایسی گرہوں میں بندھے تھے کہ فرار نہیں تھا۔ میں نے سب کو زندگی کاٹتے دیکھا۔ ہر رنگ چمک اور سیاہی کے پیچھے کوئی حسرت تھی ہر اندھیرے ہر بدصورتی اور ظُلم کے پیچھے کوئی لاچاری چھپی تھی۔ مگر سب ایک دوسرے سے اسکا بدلہ لے رہے تھے۔ سب کچھ ٹھیک کرتے کرتے ہم سب اسی دلدل کے پھول بن گئے تھے۔
میرا بدلے کا ارادہ ۔۔ یہ بھٹی بھی تپ تپ کر سرد ہو رہی تھی میں تھک رہی تھی۔
اس ساری ریاضت کا بس یہ نتیجہ تھا کہ میرے گھر والے محفوظ تھے۔ چھ ماہ سے میں اُن سے ملی نہیں تھی۔ اور ہمت بھی نہیں تھی۔ اختیار میں ہوتا تو اُن کی یاداشت کی تختی سے اپنا نام مٹا آتی۔ امبر نشے کا استعمال زیادہ کر رہی تھی اور بات یہاں تک پہنچ گئی تھی۔ کہ وجاہت اُسے مار پیٹ بھی رہا تھا کہ وہ اب بوجھ بننا شروع ہو گئی تھی۔

طائر میری کہانی جان چُکا تھا۔ گو میرے ارادے میں نے اُس پر کبھی ظاہر نہ ہونے دیئے۔ پونے دو سال پہلے اس شخص نے میرے ساتھ جو کیا اور اب میں جسطرح اُس کے ساتھ تھی۔ میں نے خود سے بارہا سوال کیا، کیا ابھی بھی میں کسی معجزے کے انتظار میں تھی وہ جسے محبت کا نام دیا جاتا ہے اور جو اپنی حقیقت میں غیر موسمی بارش کے ریلے سے بڑھ کر کچھ نہیں، کب کہاں برس کے کدھر چلا جائے، کوئی نہیں جانتا۔ میرے دل میں طائر کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا یا صرف حالات نے مجھے اُس کے قریب کر دیا تھا؟ میں یہ گتھی نہیں سلجھا پائی۔ جب اُس نے مجھ سے ہماری ملاقات کی پہلی رات کی معافی مانگی تو تقریباً دو سالوں میں اُس نے مجھے پہلی بار مکمل طور پر ششدر کیا۔ اس سے پہلے کبھی کسی چھوٹی بات کوئی جملہ مجھے حیران کر دیتا تھا۔ وہ اپنے باپ کو متاثر کرنے کی آرزو میں اپنی کئی آرزووں کا گلا گھونٹ کر اس مقام تک آیا تھا۔ پہلی محبت کے فریب سے باہر نہیں نکلا تھا۔ مگر اپنے اندر کے جانور کے آگے ہتھیار ڈال بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی اس کشمکش سے باہر نکلتا تو بہت تنہا لگتا۔ اُسے مجھ میں اپنے ماضی کی جھلک اور حال کی وضاحت نظر آتی تھی اور مجھے اُس میں اپنا ارتقا۔

مگر ہم دونوں یہ اقرار کرنا نہیں چاہتے تھے۔ بے نام رشتہ تھا اور یہی بہتر تھا۔ ہم جس سمندر میں غوطے کھا رہے تھے اُس کی کوئی حد و کنارہ نہیں تھا۔ میں امبر کو محبت کا کھوکھلا پن سمجھاتے خود تنکے کے سہارے پر خوش ہو رہی تھی۔ یہ سچ تھا محبت عقل جیسی محدود شے کے دائرہِ کار سے بہت باہر کا معاملہ ہے۔ طائر نے مجھے اردو ادب پڑھنے کی عادت ڈالی۔ مجھے بہت کچھ سکھایا. مجھے بہت سے مردوں نے بہت قیمتی تحائف دیے مگر طائر کی لائی کتابوں کی جگہ کوئ زیور کوئی لباس یا موبائیل نہ لے سکا۔ طائر نے مجھے ریوالور کا استعمال سکھایا اور ایک اپنے پاس رکھنے کو بھی دیا۔ اس نے مجھےنشے کے استعمال سے روکا۔ اور کہا کہ وجاہت کا طریقہِ واردات ہی یہ ہے کہ ہمیں ان چیزوں کا عادی بنایا جائے جو ہمیں محتاج رکھیں۔

مجھے اپنا آپ بند گلی میں نظر آتا تھا۔ مجھے وجاہت کے بتائے ہوئے پلان پر عمل کرنا پڑتا تھا۔ ہر اس مرد کے بستر کی زینت بننا پڑتا تھا جو اہم تھا مجھے ساتھ رکھنا آسان نہیں تھا اور اشرافیہ کے لیے اس سے بڑی کشش کوئی نہیں۔ سو میرے بہت چاہنے والے تھے۔ اُدھر امبر نشے کی لت میں بُری طرح مبتلا ہو گئی تھی اور بہت زیادہ کھانسنے لگی تھی۔ اُس کے انداز میں وہ آثار تھے جو بجھتے چراغ کے ہوتے ہیں، پھڑپھڑانا اور بیکار کی انا۔ وہ نشے میں دھت اپنے بچے کو یاد کرتی یا بلا وجہ جھگڑتی ۔ ایک امیر بااثر دوست کے گھر اُسنے فون کر کے اُلٹی سیدھی باتیں کہیں اور میں نے اُس کے بعد اُسے نہیں دیکھا۔ وجاہت سے پوچھا تو کمینیِ ہنسی سے بولا کہ علاج کروانے گئی ہے۔ مجھے یہ بھی سُننے کو مل رہا تھا کہ وجاہت کسی اور لڑکی کو گھر سے بھگا کر شادی کرنے والا تھا۔ میں کراچی میں تھی۔ میرے گھر والے ساہیوال میں تھے۔ اور یہی جانتے تھے کہ میں لندن میں ہوں۔
میرا بچپن حیدر آباد میں گُزرا تھا۔ کچھ دھندلی یادیں تھیں جو کراچی کی شاموں میں بڑی تندہی سے شکروں کی طرح اپنی بے رحم چونچ سے میرے دل میں چھید کرتی تھیں۔ سات ماہ سے میں گھر والوں سے ملی نہیں تھی اور بہت بیقرار تھی

میں کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن کیا؟ سوائے طائر کے کوئی بھروسہ مند نہیں تھا اور وہ بھی شاید میرا ساتھ نہ دیتا کیونکہ اُسکی ایک زندگی تھی گھر تھا۔ میری طرح وہ کٹی پتنگ نہ تھا۔ میں ڈیپریشن کا شکار ہو رہی تھی کیونکہ طائر کے ساتھ نے میرے برفیلے مزاج میں چٹکی بھر حرارت گھول دی تھی اور قطرہ قطرہ گھلنا موت سے بھی بدتر ہے۔ حل یہی تھا کہ کچھ دیر کو ہی سہی اپنے خون کے رشتے سے ملا جائے۔ اب سوچتی ہوں تو ہوک اٹھتی ہے کہ دل کو دل سے راہ تھی۔ ابا بیمار رہے تھے اور اچانک انتقال کر گئے تھے  وجاہت نے مجھے بڑے اطمینان سے بتایا اور بولا کہ ملاقاتوں کی تاریخیں طے کیے بغیر نہ جاؤں۔

میں اماں سے فلائیٹ کی دستیابی کا کہہ کر انہیں دلاسہ دیتے فون رکھ دیا۔ انسان لاش ہوتے ہوئے بھی معمول کے کام کر سکتا ہے یہ اُس دن خود کو چلتے پھرتے دیکھ کر احساس ہوا۔ اماں اکیلی تھیں۔ معلوم نہیں میرا چچا آتا یا نہ آتا۔ میں نے طائر کو فون پر صورتحال سمجھائی کہ کسی طرح سے کر کے جیسے بھی ہو میری ماں کی مدد کرے۔ اُس رات وجاہت کمرے میں میرا منتظر تھا۔ انداز کہتا تھا کہ وہ مجھ سے سودے بازی کرنا چاہتا تھا۔
یہ ایک لگثری اپارٹمنٹ تھا اور میرے اور وجاہت کے علاوہ یہاں کوئی نہ تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے دھمکائے ڈرائے گا کہ میں تعزیت کرتے ہی واپس آجاؤں اور ایسی ہی اور کاروباری بیہودہ باتیں۔ کہیں بہت دل کی گہرائی میں یہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ طائر اور میرے تعلق کی گہرائی تو نہیں جان گیا۔ مگر مجھے نہیں علم تھا کہ کوئی امتحاں آخری نہیں ہوتا کبھی کسی بوجھ سے مفر نہیں ہوتا
بعض اوقات چکی کا پاٹ مسلسل چلتا ہے اور پیستا ہے۔ وجاہت طیبہ کو یہاں لانے کی بات کر رہا تھا، میری معصوم بہن جو اِسے بھائی کہتے نہیں تھکتی تھی۔ کتنا گر سکتا تھا وہ۔
مجھے ابو کی موت بھول گئی، یاد رہا تو بس اتنا کہ اب یہ درندہ میری بہن کو پامال کرنے کا سوچ رہا ہے۔ اس کے شر سے کوئی محفوظ نہیں۔ بس اُس لمحے تقدیر کے فیصلے ہو گئے۔ میرا ریوالور میرے پرس میں موجود تھا جو سنگھار میز کے نچلے خانے میں تھا۔ گھر میں کوئی نہیں تھا وجاہت کا باپ اپنی رکھیل کے ساتھ سکھر میں کسی اور گھرانے کو بیوقوف بنا رہا تھا۔ وجاہت کی چوتھی بیوی جو شوقیہ اس کام کا حصہ تھی تھوڑی دیر پہلے ہی اُس کے ساتھ شراب پی کر اور طویل ملاقات کے بعد گئی تھی۔ میں بالوں کو جھٹکتے ہوئے لچکتی ہوئی سنگھار میز تک گئی۔
اس شیطان کے گُمان میں بھی نہ ہوگا کہ یہ چال اُسے مست کرنے کو نہیں بلکہ اُسکے شر کو ختم کرنے کی خوشی میں تھی۔ میں نے موڑھے پر بیٹھے بیٹھے ایک ہاتھ سے دراز کھولا اور پستول ہاتھ میں تھام لیا۔ یہ وقت عمل کا تھا، زیادہ سوچنا ہمت توڑ سکتا تھا
وجاہت کی پُشت میری طرف تھی اور وہ بستر پر دراز اپنی غلیظ خواہشات کا اظہار کر رہا تھا۔ میں نے سائےلینسر لگے پستول سے بڑی تیزی سے ایک فائر کیا جو اُس کے بازو میں لگا اور اس کے بعد میں نے اُسے حرکت کرنے کا موقع دیے بنا دو فائر اور کیے جو اُسکے سینے پر لگے۔ سُرخ رنگ کی ایک چادر سی میرے بستر پر پھیلتی چلی گئی۔ اور میرے دل پر سے سیاہی کی چادر اُترتی چلی گئی۔ میں اسوقت خود کو پھر سے اُبھرتا سورج محسوس کیا جسے کسی کی جھوٹی پرستش درکار نہیں تھی جو خود مختار اور آزاد تھا۔ مگر یہ ضمیر اور روح کی آزادی تھی۔ اس دنیا کے قانون کی نظر میں، میں مجرم تھی۔
اُس رات مجھے معظم نامی ایک دوبئی کے رہائشی پاکستانی سے ملنا تھا جو کراچی م محافل منعقد کرواتا تھا۔ میں اُسکی دوست کی حیثیت سے اُس پارٹی میں مدعو تھی اور وہ مجھے بار بار فون کر رہا تھا اُسکی آخری کال آدھا گھنٹہ پہلے کی تھی۔ اگر اُسکی پارٹی میں جاؤں تو آگے کیسے بات سنبھلے گی طائر سے رابطہ کر کے میں اُسے کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ میرے ابا کی میت دفنائی جانے والی تھی یا دفنا دی گئی تھی۔ اور اُس وقت میری ماں ایسی کسی خبر کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
مجھے کچھ دنوں کی پناہ چاہیے تھی۔ مجھے اپنی ماں کو آخری بار گلے لگانا تھا باپ کی قبر پر جانا تھا۔ پھر مجھے کوئی ڈر نہیں تھا۔ سو میں نے وجاہت کے ظلم کے شکار ایسے شخص کو فون کیا جسے وجاہت کا باپ بلیک میل کر رہا تھا اور اُسے کہا کہ میں اُسکی مدد کر سکتی ہوں اگر وہ میری مدد کرے۔ اُسے پتہ
سمجھا کر میں نے جتنا کیش میرے پاس تھا وہ پکڑا اور حیات بخش نام کے اُس آدمی کے ڈرائیور کے ساتھ تاریکی میں اُس گھر سے نکل گئی۔ حیات کی بہن کی ویڈیوز وجاہت کے پاس تھیں۔ میں نے وہ سب اپنے پرس میں ڈال لی تھیں اور باقی تمام جلا ڈالی تھیں اسوقت میں جس جس کو بچا سکتی تھی بچانا چاہتی تھی۔
میں وہ سورج تھی جو سوا نیزے پر آگیا تھا اور جھلستا ہوا اوروں کے لیئے روشنی دے رہا تھا۔

حیات کو جب میں نے تمام ویڈیوز واپس کیں تو وہ نم آنکھوں سے بولا کہ اس میں ان کو تھامنے کی ہمت نہیں۔ ویڈیوز کو جلایا گیا اور اُس نے مجھے کہا کہ وہ مجھے دور گاؤں بھجوا سکتا ہے جہاں نہ کوئی مجھے جانتا ہو گا نہ میں کسی سے ملوں گی پھر وہ مجھے ساہیوال بھجوانے کا سوچے گا۔ میں نے اپنا موبائیل بند کر رکھا تھا اور جب تین دن بعد میں نے طائر سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وجاہت کا باپ اپنے تعلقات کی بنا پر معاملہ دفنانے کی کوشش کر رہا ہے اور ابھی تک میرے گھر تک کوئی پولیس اور کوئی نہیں پہنچا تھا۔ اور میں جہاں ہوں فی الحال وہیں رہوں۔ کیونکہ شبہ وجاہت کی چوتھی بیوی پر بھی تھا۔ مگر میں جانتی تھی کہ جب تک تمام گروہ کا قلع قمع نہیں ہوتا میرا خاندان خطرے میں تھا۔
میں نے فون رکھنے سے پہلے طائر سے پوچھا کہ کیا اُسے مجھ سے محبت ہے یا وہ میرا دوست ہے۔ تو فون کے دوسرے جانب چھا جانے والی خاموشی نے مجھے کُند چھری سے زبح کر ڈالا۔ پھر اچانک طائر کی دھیمی آواز آئی “میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں مگر اس جیون میں صرف تمھارا دوست ہوں”

وہ گھڑی میری اُنّیس سالہ زندگی کا حاصل تھی۔ مجھے اُس لمحے طائر سے عشق ہوُا۔ یار ڈاڈھی عشق آتش والا عشق۔ “اگر میں ہماری پہلی ملاقات کا ازالہ کر سکوں تو باقی کی زندگی کوئی شکوہ نہیں کروں گا خدا سے” اور یہ سُنتے میں نے اُس سے پوچھا کیا وہ میرے بعد میرے گھر والوں کا خیال رکھ سکتا ہے۔ طیبہ اور طٰہ کی تعلیم کے لیے کچھ کر سکتا ہے؟ اور وہ بھرائی آواز میں یہی کہہ سکا کہ وہ اُن کا خیال اپنی اولاد کی طرح رکھے گا۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا۔ میں نے ماں سے ملنے کا ارادہ اور باپ کی قبر پر جانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ یہ تشنگی قبر تک ساتھ جانی تھی کہ یہی اسکا مقام تھا۔
میں ماں کے اُس راز کو سپردِ قلم کرنا چاہتی تھی۔ جس نے ساری عُمر اُسے میرے چچا کے سامنے شرمندہ اور دُنیا سے خوفزدہ رکھا۔ میں اُسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ میرے لیے کتنی محترم ہے۔ وہ جس کی پناہ میں آبگینہ محفوظ اور درخشاں رہا۔ مجھے ایک اہم خط لکھنا تھا۔ طیبہ کے نام جو اُسے اُس کی اکیسویں سالگرہ پر ملے گا۔ مجھے دُنیا ہر بھی یہ حقیقت کھولنے تھی ۔

طیبہ میری جان تم سب پڑھ چُکی ہو اور اتنی سمجھ دار ہو کہ اپنی بہن کی مجبوریوں کو سمجھ اور معاف کر سکو۔ اماں کا بہت خیال رکھنا۔ اور اب اماں کا سر کبھی جھکا نہ ہو۔ طٰہ کی زمے داری ہے تم پر اور خود اپنی ذات کی بھی۔ آمنہ کا اور اپنا احساسِ کمتری تمھیں دور کرنا ہے۔ مجھے علم ہے کہ تم بہت لگن سے پڑھ رہی ہو۔ یہ سب مشکل لگتا ہوگا مگر اُتنا نہیں جتنا امارت کے خوابوں میں بھٹکتے ہوئے دور نکل جانا۔ تمہیں نیٹی نہیں بننا، تم طیبہ ہو۔ آزاد، پراعتماد، اعلی تعلیم یافتہ شاندار طیبہ بننا ہے تُم نے۔

وعدہ کرو بہن سے کہ کبھی خود کو پامال نہیں ہونے دو گی
خُدا حافظ
تمھاری باجی ندا!
چیمبر کے اس کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک کے علاوہ کوئی آواز نہ تھی۔ طیبہ کا چہرہ آنسووں سے تر تھا اور سات سال پہلے کے مناظر کسی فلم کی طرح اُس کی نظروں میں گھوم رہے تھے۔ اُسکی خوبصورت بہن کیسے اُن کے گھر اور پھر اس دُنیا سے رُخصت ہوئی۔ ابا کی وفات کے ہفتے بعد ہی کیسی رُوح فرسا خبر ملی تھی۔ کہ ندا نے اپنے شوہر کو قتل کر دیا تھا اور خود تھانے پیش ہو کر اقبالِ جرم کر لیا تھا۔ اماں کیسے چلا چلا کر روئی تھیں، بیوگی بھول گئی تھی اولاد کے غم میں۔ ندا نے اقبالِ جُرم تو کیا ہی تھا مگر خود کو سزا سے یُوں بچایا تھا کہ تھانے میں ہی خود کشی کر لی تھی۔

“طیبہ بچے میں اندر آجاؤں یا تنہائی کی ضرورت ہے؟” طیبہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی،
“اندر آجائیں طائر انکل، یہاں بہت گھٹن ہوگئی ہے دروازہ کھلا رہنے دیں”
طائر جانتا تھا کہ طیبہ اس وقت کس کیفیت سے گُزر رہی ہے گو کہ وہ ایک مضبوط اعصاب اور زیرک وکیل بن رہی تھی مگر آج اُس پر بہت سے انکشافات ہوئے تھے۔ طیبہ کب سچ مچ اُسکی بیٹی بن گئی تھی اُسے خبر نہیں ہوئی مگر ان سات سالوں میں ندا کا گھرانہ اُسکا گھرانہ بن گیا تھا۔ وہ انہیں اسلام آباد لے آیا تھا اور آمنہ کی شادی کروا چکا تھا۔ طٰہ لاہور انجینئرنگ پڑھ رہا تھا اور کافی زہین ثابت ہوا تھا۔ طیبہ اپنی محنت سے وکالت کے شعبے میں أگئی تھی۔ ندا کی والدہ کے روپ میں اُسے اپنی نوعمری میں وفات پا جانے والی ماں واپس مل گئی تھی۔
آج طیبہ کی اکیسویں سالگرہ پر اُس نے اُسکی امانت اُسے لوٹا دی تھی۔ اور خود کو بیحد مسرور محسوس کر رہا تھا۔ زندگی میں پہلی بار وہ بیوی کی بیگانگی اور تمکنت، باپ کے کبھی نہ ختم ہونے والے تقاضوں سے ہٹ کر کچھ اور تھا۔ ایک ماں کا بے لوث بیٹا، تین بے سہارا رہ جانے والے بچوں کا شفیق باپ ۔ وہ اپنے سگی بیٹوں کا بھی گہرا دوست تھا اور سب سے بڑھ کر وفادار محب اور محبوب، اور بچھڑنے والے کا سچا دوست۔ ندا نے اسے جینے کا وہُُ مقصد دیا جو زندگی کے ۳۳ سال اُسے دکھائی نہ دیا۔ وہ اپنی جدائی کی کسک دے گئی تھی مگر باقی سب رنج اور حسرتیں ساتھ لے گئی تھی۔
وہ طیبہ کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا اپنی کُرسی پر 

بیٹھ گیا تھا۔ وہ جان سے قیمتی وعدے کی تکمیل کر بیٹھا تھا۔ دراز کھول کے اُسنے ایک پرانی کتاب نکالی۔ مولانا رومی کی شاعری کی اردو اور انگریزی ترجمے والی کتاب۔۔ کتاب کھلی اور ندا کی مُسکراتی تصویر اُس کے سامنے آگئی۔ تصویر کے ساتھ ایک خط تھا جس میں صرف چند سطریں تحریر تھیں۔
” میں اس دنیا سے جاتے ہوئے تم سے ریت  بھر بھی نالاں نہیں ہوں گی۔ بلکہ ایک مکمل وجود کے ساتھ جاؤں گی جس کی دھڑکن میں تمھارے عشق کے سوا کچھ نہیں ہو گا اور جس کی خاک بھی مٹی میں آسودہ ہو گی”

دل کی بات ؛ پیرس کہانی 

مستنصر حسین تارڑ صاحب کا شاہکار “پیار کا پہلا شہر” پڑھا تو اُس دوران آئفل ٹاور، دریائے سین اور اُن کے دامن و سائے میں زندگی سے لبریز کئی محبت کرنے والوں کے عہد و پیمان اور خدشات بھری سرگوشیاں سُنائی دیتی رہیں پھر ‘مڈ نائٹ اِن پیرس’ فلم دیکھی تو سینمٹو گرافی، بالخصوص آخری منظر کی جادو گر بارش نے کئی دن تخیل کے دالان میں جل تھل کیے رکھی اور اور تو اور “کاسابلانکا ” کا وہ شہرہ آفاق جُملہ کسے بھولا ہو گا،”وی وِل آلویز ہیو پیرس” ۔۔ ایک امید اور کسک بھرا یقین ۔۔بہرحال پیرس اپنی تاثیر میں ہمیں کبھی کسی طلسمی دُنیا سے کم نہیں لگا۔۔ اور ہم بھی اس کے عشاق کی فہرست میں اپنی طرف سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور کہیں نا کہیں دل میں یہ آرزو رہی ہے کہ کبھی اس حُسنِ دور دراز کے مندر میں تحیر اور توصیف کے دو پھول ضرور رکھنے ہیں اُن گلیوں اور چوراہوں کو ایک پُر شوق زائر کا خراج ضرور پیش کرنا ہے ۔۔ اور یوں پیرس ہماری ‘بکٹ لسٹ’ میں تیسرے نمبر پر آگیا
زندگی چونکہ ‘بکٹ لسٹ’ کی انوکھی تمناؤں کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتی ورنہ ہم بھی کوئی “اراؤنڈ دا ورلڈ اِن ایٹی ڈیز” لکھتے مگر خواہشوں کی بھی حقیقت اپنی جگہ مصمم ہے کہ سائے کی طرح قدم بہ قدم ساتھ رہتی ہیں اور سایہ بھی وہ جو گھٹتا بڑھتا یا چھپتا نہیں ۔۔ بس اندر ہی اندر دھڑکنوں کی سواری کرتے کبھی حکمران اور کبھی بے وقعت نادان نظر آتا ہے سو ایسی کئی یاتراؤں کی آرزو ابھی ہمارے ارادوں کے تخت پر بیٹھی تکمیل کے تاج کی منتظر ہے
گزشتہ چند دن پہلے اس پیرس یاترا کی خواہش کو حقیقت کا ایک بد صورت جھٹکا لگا ۔۔ جب اچانک بین القوامی میڈیا میں یہ خبر نشر ہوئی کہ پیرس کے چند مقامات پر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں۔۔ کہانی پھیلتی گئی۔۔ کڑی سے کڑی ملتی رہی اور چند گھنٹوں میں ہر کوئی جدید دُنیا کے اس خوشبو، تمدن اور طرح داری کے حوالے سے مشہور شہر کو دہشت گردی کے تناظر میں بیان کر رہا تھا۔۔۔ اور ہم بھی پڑھ /سن رہے تھے اور کافی حیران تھے
صحافت کہتی ہے کہ کوئی خبر کیوں ناظر یا قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے اس کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً کہ کیا اُس خبر کا ہم سے براہِ راست تعلق ہے یا کیا ہمارے عزیز و اقارب سے وابستہ ہے ؟ یا کیا ہماری نفسیات پر کسی ایسے زاویے سے اثر انداز ہو رہی ہے کہ اس کی گرفت سے نکلنا مشکل ہے ؟ اور ان وجوہات کی مزید ذیلی اقسام۔
تو پہلی دو وجوہات تو ہمارے ساتھ درپیش نہ تھیں البتہ تیسری کا کچھ حوالہ ہم بیان کر چُکے ہیں اور کچھ یہ کہ اس واقعے کو کہیں تیسری جنگِ عظیم کا غیر روایتی نقارہ کہا گیا تو کہیں اس نے یورپی یونین میں لسبون ٹریٹی کی جنگی مدد کی شق کو زندہ کردیا۔ اگر اس واقعے کو یورپ کا ۹/۱۱ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا اور ۹/۱۱ نے دُنیا کے تہذیبی اور بظاہر خاصی حد تک پُر امن چہرے کو یوں مسخ کیا ہے کہ کسی بھی طرح کی سرجری فی الوقت کارگر نہیں نظر آتی۔۔ ناسور کیسے پھیلتا اور اپنے ہوسٹ خُلئیے کو جکڑتا و تباہ کرتا ہے، جاننے کی یہ ایک خوفناک مثال ہے۔ اور حالات یہ ہیں کہ جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو پہلی بات جو دل میں آتی ہے کہ یہ مُسلمانوں نے نہ کیا ہو اور اگر ایسا ہے تو کم از کم پاکستانی نہ ہو ۔۔ اور یہ ردعمل نفسیات و کلام میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ فرار ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہی رجحان سامنے آیا۔۔ واقعہ چونکہ رات کو پیش آیا (پاکستانی وقت کے مطابق) تو تفصیلات اور ہولناکی کا اندازہ بھی اگلے دن ہی ہوا اور لوگ اپنے اپنے انداز میں فرانسیسیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے رہے ۔۔ پاکستانی اس خوف اور دہشت کے کرب کو جانتے ہیں ،دور کیوں جائیں ،پشاور واقعہ کے زخم ابھی رس رہے ہیں، مناظر کی دلخراشی اور سفاکی دلوں کو ابھی بھی کچوکے لگا رہی ہے۔ اور جو ایک بار ایسی  قیامت سے گزر آتا ہے وہ اسکی لرزہ خیزی کو چاہے پھر کہیں بھی اور کسی کے ساتھ بھی برپا ہو پھر سے اپنے مساموں میں محسوس کرتا ہے تو پیرس کا سانحہ بھی اسی آہنگ میں دیکھا اور محسوس کیا گیا ۔۔ اور یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے پھر الگ کیا تھا ۔۔ وہ ایسا کیا تھا جس نے مجھے جھنجھوڑا اور مجبور کیا کہ چند الفاظ حوالہ قلم و قرطاس کیے جائیں؟

پیرس کے سانحہ سے چند دن پہلے روس کے ایک مسافر طیارے کو سائنائی (مصر) میں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی خبر تواتر سے چل رہی  تھی اور IS نامی تنظیم اسکا برملا اعتراف کر چُکی تھی۔ پھر ۱۲ نومبر کو بیروت لبنان میں دھماکے کیے گئے اس کے لیے انتخاب حزب اللہ کے زیرِ نگران علاقے کا کیا گیا جو شامی صدر کو اقتدار میں دیکھنے کا خواہشمند ہے۔ ان دھماکوں میں کئ ہلاکتیں ہوئیں اور یہ پیرس سانحے سے کسی بھی طرح کم نہیں تھا کہ معصوم جانیں کسی بھی خطے اور رنگ و نسل و مذہب کی ہوں۔۔ اُنکی حُرمت ایک سی ہے اور اُن کا قتال یکساں حرام ہے (اور یہ انسانیت کے منشور کا پہلا اٹل اصول ہے ) اور تو اور پیرس سانحے کے بد قسمت سائے تلے ہی  کینیا کی ایک درسگاہ بھی درندگی کا شکار ہوئی۔
یہ سب واقعات تو انسانیت نامی گیت کے ماتھے پر لکھا نوحہ ہیں ہی مگر ایسا کیا ہوا کہ پیرس واقعہ تو توجہ کا مرکز بنا مگر باقی سانحات وہ بازگشت نہ پیدا کر سکے ؟
بے حسی کو اگر وجہ قرار دیا جائے تو پھر ایک سانحے پر بھی واویلا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو شاید یہ بے حسی نہیں۔۔ پھر؟ پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں یہ سمجھوتہ کر چُکے یا کر رہے ہیں کہ مُسلم مملک بالخصوص عرب ممالک یا تو فساد کی جڑ ہیں یا اس کا نشانہ یا دونوں اور یہ سب مقدر نام کے مردہ خانے میں جمع کرا دیا جاتا ہے؟ کیا ہم ایک انسانی جان کو اُسکی قومیت یا رنگت یا مذہب کی بنیاد پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں اور ہمیں اس کا ادراک نہیں ہو پا رہا ؟ اور یہ نقطہِ نظر کسی جان و قومیت/ رنگ و نسل/فرقے و مذہب کو انمول اور کسی کو بے مول کر رہا ہے؟ (اور وہ لوگ جنہوں نے پیرس سانحے پر ٹھٹھا کرتے بیروت یا نائیجریا سانحات کی مذمت کی وہ انسانیت کے کس درجے پر ہیں یا جو پیریسین امن کی رنگینی پر لہو کی سُرخی دیکھ کر سیخ پا ہوئے وہ شرفِ انسانی کی کس منزل کے راہی ہیں؟ – یہ ایک الگ موضوع ہے)
میرا مذہب تو ایسی کسی تفریق کو نہیں مانتا میری انسانیت تو ایسے کسی تفاوت کو اپنا شیوہ نہیں گردانتی۔۔ پھر یہ بھول ( کیا بھول ہی تھی) یا زور پکڑتا رجحان ( عمومی سوچ سے مطابقت اور اس میں جینے کی کوشش) کیونکر سوچ کی کسی نیم وا درذ میں جا چھپے اور نمو پاتے رہے ؟یہ سوالات سب سے پہلے اپنی ذات سے ہیں۔
اور اس کے بعد پھر جس خیال نے سوچ کے پہلو میں بے چینی کا دیا جلایا وہ تھا کیا دُنیا کے اس نیم مسخ شدہ امن چہرے کی مزید قطع برید ہونے والی ہے؟ (یقیناً ) جو ہوا اور جو اس کے نتیجے میں جو ہو گا اور پھر جو بوم رینگ ہو گا وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اب کیا اجنبیت کے خاکے میں دوستی / ہمدردی / اعتبار جیسے کسی نقش کو ڈھونڈنا مزید مشکل نہیں ہو جائے گا؟ اور ساتھی انسانوں کو جنہیں ہم نام اور چہروں سے نہیں جانتے محض اچٹتی نظر کے رابطے میں بندھتے اور گزر جاتے ہیں مگر جن کی موجودگی کسی بھی جگہ کو اس کا پہناوہ و خُو عطا کرتا ہے وہ موجودگی اب شکوک و خوف کے دھویں میں کہیں اپنا رنگ کھو نہیں دے گی؟ زندگی گو رُکنا نہیں جانتی مگر کہاں کسے کیسی ضرب لگانی یا مرہم دینا ہے یہ خوب جانتی ہے اور اب یہ سوپ اوپرا اس نہج پر آگیا ہے جہاں ہر کردار مشکوک اور ہر مقام ڈسٹوپیا بن سکتا ہے۔
پھر اس خدشے کو خبروں کی سُرخی بنتے دیکھ بھی لیا، شام کے مہاجرین پر دُنیا مزید تنگ ہو گی یا مشکلات بڑھیں گی، کسی نے قوانین سخت کرنے کی بات کی تو کہیں انتہائی دایں بازو کی جماعتوں کو نفرت کا صور پھونکنے کا موقع مل گیا۔ دیکھا جائے تو خوف کی فضا بے جا نہیں۔ مگر اس کی آڑ میں مجبوروں کو زندگی اور موت کے درمیان معلق کرنا انسانیت سے دست برداری ہے۔ بے سائبانی اپنے آپ میں شہرِ خموشاں کا مسلسل طواف ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ کبھی اپنے گھر کو بچانا زندگی سے مہنگا سودا بن جاتا ہے
اب میں کائنات میں حقیر زرہ کے مصداق اس معاملے کو ایک عام انسان کی نظر سے ہی دیکھ سکتی ہوں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا مجھے اس ہجوم میں کھڑا ہونا ہے جو مغرب کو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ بھگتو اپنی ظالم پالیسیوں کے نتائج یا مجھے اس مجمعے کی ہاں میں ہاں ملانی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی دُنیا نگل رہی ہے اور مذہبی جنونیت پھیلاؤ اور انجام دیکھو یا مجھے اُس بھیڑ میں پناہ لینا ہے جو انسانی جانوں میں فرق کرنا سیکھ گئ ہے اور نازاں ہے؟
جب تک یہ معاملہ نہیں حل ہوتا میں اپنے شہرِ دل میں ہوں اور دُنیا سے ُگم ہوتی انسانیت، اعتبار و باہمی اخوت کے تعلق کے مرنے پر ماتم کناں ہوں۔
اور ہاں مجھے یاد آیا، دمشق جامع مسجد امیہ اور سلطان ایوبی کی آخری آرام گاہ اور ایک شاندار تاریخ کے گواہ ہونے کی بنا پر بکٹ لسٹ میں شامل تھے اب اس خواب میں شامیوں کی بے بسی اور ناحق لہو کے شعلوں کے سوا کچھ نہیں
اور لبنان۔۔ ؟ ۔۔خوبصورت گہری آنکھوں، سیڈر کی خوشبو اور حمرا سٹریٹ کی کشش جادوانی ہے مگر خانہ جنگی و افراتفری کسی بھی مسحور سیاح کے لیے ایک بد صورت منظر ہے