دل کی بات ؛ پیرس کہانی 

مستنصر حسین تارڑ صاحب کا شاہکار “پیار کا پہلا شہر” پڑھا تو اُس دوران آئفل ٹاور، دریائے سین اور اُن کے دامن و سائے میں زندگی سے لبریز کئی محبت کرنے والوں کے عہد و پیمان اور خدشات بھری سرگوشیاں سُنائی دیتی رہیں پھر ‘مڈ نائٹ اِن پیرس’ فلم دیکھی تو سینمٹو گرافی، بالخصوص آخری منظر کی جادو گر بارش نے کئی دن تخیل کے دالان میں جل تھل کیے رکھی اور اور تو اور “کاسابلانکا ” کا وہ شہرہ آفاق جُملہ کسے بھولا ہو گا،”وی وِل آلویز ہیو پیرس” ۔۔ ایک امید اور کسک بھرا یقین ۔۔بہرحال پیرس اپنی تاثیر میں ہمیں کبھی کسی طلسمی دُنیا سے کم نہیں لگا۔۔ اور ہم بھی اس کے عشاق کی فہرست میں اپنی طرف سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور کہیں نا کہیں دل میں یہ آرزو رہی ہے کہ کبھی اس حُسنِ دور دراز کے مندر میں تحیر اور توصیف کے دو پھول ضرور رکھنے ہیں اُن گلیوں اور چوراہوں کو ایک پُر شوق زائر کا خراج ضرور پیش کرنا ہے ۔۔ اور یوں پیرس ہماری ‘بکٹ لسٹ’ میں تیسرے نمبر پر آگیا
زندگی چونکہ ‘بکٹ لسٹ’ کی انوکھی تمناؤں کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتی ورنہ ہم بھی کوئی “اراؤنڈ دا ورلڈ اِن ایٹی ڈیز” لکھتے مگر خواہشوں کی بھی حقیقت اپنی جگہ مصمم ہے کہ سائے کی طرح قدم بہ قدم ساتھ رہتی ہیں اور سایہ بھی وہ جو گھٹتا بڑھتا یا چھپتا نہیں ۔۔ بس اندر ہی اندر دھڑکنوں کی سواری کرتے کبھی حکمران اور کبھی بے وقعت نادان نظر آتا ہے سو ایسی کئی یاتراؤں کی آرزو ابھی ہمارے ارادوں کے تخت پر بیٹھی تکمیل کے تاج کی منتظر ہے
گزشتہ چند دن پہلے اس پیرس یاترا کی خواہش کو حقیقت کا ایک بد صورت جھٹکا لگا ۔۔ جب اچانک بین القوامی میڈیا میں یہ خبر نشر ہوئی کہ پیرس کے چند مقامات پر فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سُنی گئیں۔۔ کہانی پھیلتی گئی۔۔ کڑی سے کڑی ملتی رہی اور چند گھنٹوں میں ہر کوئی جدید دُنیا کے اس خوشبو، تمدن اور طرح داری کے حوالے سے مشہور شہر کو دہشت گردی کے تناظر میں بیان کر رہا تھا۔۔۔ اور ہم بھی پڑھ /سن رہے تھے اور کافی حیران تھے
صحافت کہتی ہے کہ کوئی خبر کیوں ناظر یا قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے اس کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلاً کہ کیا اُس خبر کا ہم سے براہِ راست تعلق ہے یا کیا ہمارے عزیز و اقارب سے وابستہ ہے ؟ یا کیا ہماری نفسیات پر کسی ایسے زاویے سے اثر انداز ہو رہی ہے کہ اس کی گرفت سے نکلنا مشکل ہے ؟ اور ان وجوہات کی مزید ذیلی اقسام۔
تو پہلی دو وجوہات تو ہمارے ساتھ درپیش نہ تھیں البتہ تیسری کا کچھ حوالہ ہم بیان کر چُکے ہیں اور کچھ یہ کہ اس واقعے کو کہیں تیسری جنگِ عظیم کا غیر روایتی نقارہ کہا گیا تو کہیں اس نے یورپی یونین میں لسبون ٹریٹی کی جنگی مدد کی شق کو زندہ کردیا۔ اگر اس واقعے کو یورپ کا ۹/۱۱ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا اور ۹/۱۱ نے دُنیا کے تہذیبی اور بظاہر خاصی حد تک پُر امن چہرے کو یوں مسخ کیا ہے کہ کسی بھی طرح کی سرجری فی الوقت کارگر نہیں نظر آتی۔۔ ناسور کیسے پھیلتا اور اپنے ہوسٹ خُلئیے کو جکڑتا و تباہ کرتا ہے، جاننے کی یہ ایک خوفناک مثال ہے۔ اور حالات یہ ہیں کہ جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو پہلی بات جو دل میں آتی ہے کہ یہ مُسلمانوں نے نہ کیا ہو اور اگر ایسا ہے تو کم از کم پاکستانی نہ ہو ۔۔ اور یہ ردعمل نفسیات و کلام میں اس قدر رچ بس گیا ہے کہ فرار ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہی رجحان سامنے آیا۔۔ واقعہ چونکہ رات کو پیش آیا (پاکستانی وقت کے مطابق) تو تفصیلات اور ہولناکی کا اندازہ بھی اگلے دن ہی ہوا اور لوگ اپنے اپنے انداز میں فرانسیسیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے رہے ۔۔ پاکستانی اس خوف اور دہشت کے کرب کو جانتے ہیں ،دور کیوں جائیں ،پشاور واقعہ کے زخم ابھی رس رہے ہیں، مناظر کی دلخراشی اور سفاکی دلوں کو ابھی بھی کچوکے لگا رہی ہے۔ اور جو ایک بار ایسی  قیامت سے گزر آتا ہے وہ اسکی لرزہ خیزی کو چاہے پھر کہیں بھی اور کسی کے ساتھ بھی برپا ہو پھر سے اپنے مساموں میں محسوس کرتا ہے تو پیرس کا سانحہ بھی اسی آہنگ میں دیکھا اور محسوس کیا گیا ۔۔ اور یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے پھر الگ کیا تھا ۔۔ وہ ایسا کیا تھا جس نے مجھے جھنجھوڑا اور مجبور کیا کہ چند الفاظ حوالہ قلم و قرطاس کیے جائیں؟

پیرس کے سانحہ سے چند دن پہلے روس کے ایک مسافر طیارے کو سائنائی (مصر) میں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی خبر تواتر سے چل رہی  تھی اور IS نامی تنظیم اسکا برملا اعتراف کر چُکی تھی۔ پھر ۱۲ نومبر کو بیروت لبنان میں دھماکے کیے گئے اس کے لیے انتخاب حزب اللہ کے زیرِ نگران علاقے کا کیا گیا جو شامی صدر کو اقتدار میں دیکھنے کا خواہشمند ہے۔ ان دھماکوں میں کئ ہلاکتیں ہوئیں اور یہ پیرس سانحے سے کسی بھی طرح کم نہیں تھا کہ معصوم جانیں کسی بھی خطے اور رنگ و نسل و مذہب کی ہوں۔۔ اُنکی حُرمت ایک سی ہے اور اُن کا قتال یکساں حرام ہے (اور یہ انسانیت کے منشور کا پہلا اٹل اصول ہے ) اور تو اور پیرس سانحے کے بد قسمت سائے تلے ہی  کینیا کی ایک درسگاہ بھی درندگی کا شکار ہوئی۔
یہ سب واقعات تو انسانیت نامی گیت کے ماتھے پر لکھا نوحہ ہیں ہی مگر ایسا کیا ہوا کہ پیرس واقعہ تو توجہ کا مرکز بنا مگر باقی سانحات وہ بازگشت نہ پیدا کر سکے ؟
بے حسی کو اگر وجہ قرار دیا جائے تو پھر ایک سانحے پر بھی واویلا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تو شاید یہ بے حسی نہیں۔۔ پھر؟ پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں یہ سمجھوتہ کر چُکے یا کر رہے ہیں کہ مُسلم مملک بالخصوص عرب ممالک یا تو فساد کی جڑ ہیں یا اس کا نشانہ یا دونوں اور یہ سب مقدر نام کے مردہ خانے میں جمع کرا دیا جاتا ہے؟ کیا ہم ایک انسانی جان کو اُسکی قومیت یا رنگت یا مذہب کی بنیاد پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں اور ہمیں اس کا ادراک نہیں ہو پا رہا ؟ اور یہ نقطہِ نظر کسی جان و قومیت/ رنگ و نسل/فرقے و مذہب کو انمول اور کسی کو بے مول کر رہا ہے؟ (اور وہ لوگ جنہوں نے پیرس سانحے پر ٹھٹھا کرتے بیروت یا نائیجریا سانحات کی مذمت کی وہ انسانیت کے کس درجے پر ہیں یا جو پیریسین امن کی رنگینی پر لہو کی سُرخی دیکھ کر سیخ پا ہوئے وہ شرفِ انسانی کی کس منزل کے راہی ہیں؟ – یہ ایک الگ موضوع ہے)
میرا مذہب تو ایسی کسی تفریق کو نہیں مانتا میری انسانیت تو ایسے کسی تفاوت کو اپنا شیوہ نہیں گردانتی۔۔ پھر یہ بھول ( کیا بھول ہی تھی) یا زور پکڑتا رجحان ( عمومی سوچ سے مطابقت اور اس میں جینے کی کوشش) کیونکر سوچ کی کسی نیم وا درذ میں جا چھپے اور نمو پاتے رہے ؟یہ سوالات سب سے پہلے اپنی ذات سے ہیں۔
اور اس کے بعد پھر جس خیال نے سوچ کے پہلو میں بے چینی کا دیا جلایا وہ تھا کیا دُنیا کے اس نیم مسخ شدہ امن چہرے کی مزید قطع برید ہونے والی ہے؟ (یقیناً ) جو ہوا اور جو اس کے نتیجے میں جو ہو گا اور پھر جو بوم رینگ ہو گا وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اب کیا اجنبیت کے خاکے میں دوستی / ہمدردی / اعتبار جیسے کسی نقش کو ڈھونڈنا مزید مشکل نہیں ہو جائے گا؟ اور ساتھی انسانوں کو جنہیں ہم نام اور چہروں سے نہیں جانتے محض اچٹتی نظر کے رابطے میں بندھتے اور گزر جاتے ہیں مگر جن کی موجودگی کسی بھی جگہ کو اس کا پہناوہ و خُو عطا کرتا ہے وہ موجودگی اب شکوک و خوف کے دھویں میں کہیں اپنا رنگ کھو نہیں دے گی؟ زندگی گو رُکنا نہیں جانتی مگر کہاں کسے کیسی ضرب لگانی یا مرہم دینا ہے یہ خوب جانتی ہے اور اب یہ سوپ اوپرا اس نہج پر آگیا ہے جہاں ہر کردار مشکوک اور ہر مقام ڈسٹوپیا بن سکتا ہے۔
پھر اس خدشے کو خبروں کی سُرخی بنتے دیکھ بھی لیا، شام کے مہاجرین پر دُنیا مزید تنگ ہو گی یا مشکلات بڑھیں گی، کسی نے قوانین سخت کرنے کی بات کی تو کہیں انتہائی دایں بازو کی جماعتوں کو نفرت کا صور پھونکنے کا موقع مل گیا۔ دیکھا جائے تو خوف کی فضا بے جا نہیں۔ مگر اس کی آڑ میں مجبوروں کو زندگی اور موت کے درمیان معلق کرنا انسانیت سے دست برداری ہے۔ بے سائبانی اپنے آپ میں شہرِ خموشاں کا مسلسل طواف ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ کبھی اپنے گھر کو بچانا زندگی سے مہنگا سودا بن جاتا ہے
اب میں کائنات میں حقیر زرہ کے مصداق اس معاملے کو ایک عام انسان کی نظر سے ہی دیکھ سکتی ہوں اور یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا مجھے اس ہجوم میں کھڑا ہونا ہے جو مغرب کو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ بھگتو اپنی ظالم پالیسیوں کے نتائج یا مجھے اس مجمعے کی ہاں میں ہاں ملانی ہے جو یہ کہتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی دُنیا نگل رہی ہے اور مذہبی جنونیت پھیلاؤ اور انجام دیکھو یا مجھے اُس بھیڑ میں پناہ لینا ہے جو انسانی جانوں میں فرق کرنا سیکھ گئ ہے اور نازاں ہے؟
جب تک یہ معاملہ نہیں حل ہوتا میں اپنے شہرِ دل میں ہوں اور دُنیا سے ُگم ہوتی انسانیت، اعتبار و باہمی اخوت کے تعلق کے مرنے پر ماتم کناں ہوں۔
اور ہاں مجھے یاد آیا، دمشق جامع مسجد امیہ اور سلطان ایوبی کی آخری آرام گاہ اور ایک شاندار تاریخ کے گواہ ہونے کی بنا پر بکٹ لسٹ میں شامل تھے اب اس خواب میں شامیوں کی بے بسی اور ناحق لہو کے شعلوں کے سوا کچھ نہیں
اور لبنان۔۔ ؟ ۔۔خوبصورت گہری آنکھوں، سیڈر کی خوشبو اور حمرا سٹریٹ کی کشش جادوانی ہے مگر خانہ جنگی و افراتفری کسی بھی مسحور سیاح کے لیے ایک بد صورت منظر ہے

Advertisements

6 thoughts on “دل کی بات ؛ پیرس کہانی 

  1. عدنان چوھدری

    میں اپنے شہرِ دل میں ہوں اور دُنیا سے ُگم ہوتی انسانیت، اعتبار و باہمی اخوت کے تعلق کے مرنے پر ماتم کناں ہوں

    سپیچ لیس
    بہت عمدہ
    اللہ نظربد سے محفوظ رکھے

  2. Asim Ikram

    بہت عمدہ تحریر ہے، چھوٹے سے مضمون میں آپ نے کئی مسائل کا احاطہ کر ڈالا، کہیں کہیں تو بڑے کمال کے جملے لکھے ہیں جیسے “دیکھا جائے تو خوف کی فضا بے جا نہیں۔ مگر اس کی آڑ میں مجبوروں کو زندگی اور موت کے درمیان معلق کرنا انسانیت سے دست برداری ہے۔” عمدہ کاوش ہے، لکھتی رہا کریں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s