To Vastitude, To Insignificance 

   

 

  The only peace, now a days, for me, is the clear cerulean sky, often proffering a shy dance of stray white clouds, and the sunshine which brightens days unconditionally. And this creates a semblance of the world I could live in & feel, somehow, intimate about. The sleet like lonely darkness thriving in me appears less poignant. Moreover, I feel relatively small when I’m underneath the open sky. It feels good to be a tiny ignorable particle. Because, in my heart, I feel too significant too vivid with this ceaseless nameless grief which has become an unkind resident of my soul. It floods everything without revealing where its true roots exist. I can’t fathom where to look to have these roots pulled out for they’re everywhere, myriad & so much. The open clear sky tells me that her spread is far more generous, perilously generous, & she’s got far more to hold, to endure & then to maintain a nonchalance about it. I whisper to myself, I’m, comparatively, better off. I, selfishly, feel restored for some moments because of this comparison.. Here’s to the sky …


(Rest in peace my beloved mother | 24.12.2015)

Advertisements

Bargain

Your memory comes like the last breath And leaves, taking agonisingly slow steps

A gradual eclipse permeates my entire being

When I utter your name under the gaze of full moon

On the brink of where our journey ended, my nights flow towards that eventual hell

I lie awake in the casket of nothingness, watching you grow into a vine of silver flowers

You, then, circle my sorrow masterfully 

Like a honeybee, knowingly, flies towards the chosen flower

What have I done?

I’ve memorised your mouth

I’ve learnt you like directions & solitude

I carry your shadow like a parasol 

What have I done?

I left my soul at the altar of your eyes

And I returned with the holy ache of love

(I’m like that queen who bought a slave & made him the master)

Is this how we buy ourselves a desirable death?

Memories, which come like the last breath …!

گھر

نیلے آبِ اُفق میں 

رنگ بہ رنگ ڈوب رہی ہے

نارنجی شام

سُنہرے پروں کا تاج

بجھ کر جھڑ رہا ہے

اور اپنی تلاش کا صدقہ

چُن کر 

پرندہ گھر لوٹ رہا ہے

واپسی کے گیت نے

سرد ہواؤں کی لے پر

محبت لکھی ہے

میٹھی بے چینی کی 

حکایت لکھی ہے

لوٹنے والے کا غرور

پروں میں برق بن کر 

اُڑان کو تابع کر رہا ہے

اس سادہ منظر کی رعنائی میں

تمھارا عکس بھی

ہر احساس میں

سانس لے رہا ہے

تم بھی تو میرا گھر ہو

دل کی بات: سانحۂ پشاور 16/12

بچپن کی یادیں کتنا اور کیسا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں اسکا احساس تب شروع ہوتا ہے جب زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سوا نیزے پر آ کر سر پر چمکنے لگتی ہے۔ زمے داریاں، کچھ ‘کما’ لینے کی جستجو، بہتر کو بہترین کرنے کا خواب یہ سب ایسے آ کر ارادوں کو اُکساتے رہتے ہیں کہ تھکن اپنی اصل حیثیت میں محسوس ہونے کے بجائے اور زرائع سے اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔۔ جس میں سب سے زیادہ خیال اُس محرومی کا ہوتا ہے جو بچپن اور اس کی مخصوص بے فکری سے ہوتی ہے، اور بے ساختہ دل لپکتا ہے اُس بے فکری کو پھر سے حاصل کرنے پر ۔۔ اور یہ ممکن نہیں!خیر اس تمہید سے آپکو معلوم ہو گیا ہو گا کہ میں بذاتِ خود زندگی کی شاہراہ کے کس موڑ پر ہوں اور اس تیز سفر میں بھی وہ بے فکری ڈھونڈنے سے باز نہیں آتی کیونکہ ۔۔ دل بے ساختہ لپکتا ہے

بچپن کی بہت سی انمٹ یادوں میں ایک وہ یقین یا شاید نرگسیت کی وہ تسکین بھی شامل ہوتی ہے جو ماں باپ کا نچھاور کردہ پیار ہوتا ہے اور جس کی روشنی میں، میں آپ، ہم سب کسی شہزادی شہزادے سے کم نہیں ہوتے، ہماری کوئی بھی غلطی عموماً قابلِ درگُزر ہوتی ہے یا یوں کہیں کہ والدین خُدا کا وہ روپ ہیں جو جزا اور محبت کے علاوہ کچھ نہیں جانتا، نہ منتقم ہے نہ ضار ہے نہ خافض۔۔ آپکو یاد ہو گا کیسے کبھی چوٹ لگنے پر والدہ نے آپکو اپنی گود میں یوں سمو لیا ہو گا جیسے آپکے حصے کا درد بھی اُن کے کلیجے میں اُٹھ جائے اور آپ بھلے چنگے ہو جائیں اور والد صاحب نے یوں بہلایا ہو گا جیسے آپ کی تکلیف اُن کے دل کی رگیں چیر رہی ہے۔۔ ایسی ہی ملتی جلتی یادیں ہم سب کے دلوں میں سانس لیتی ہیں کبھی مسکراہٹ اور کبھی آنکھوں کی نمی کا پیرہن اوڑھے چلی آتی ہیں۔

میں اگر پلٹ کر دیکھوں تو ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ بغیر بتائے گھر سے چلے جانے پر ماں نے کیسا کہرام مچایا تھا اور بابا سے کیسی محبت بھری سرزنش ملی تھی۔ ماں کئی گھنٹوں تک خود سے جُدا کرنے پر آمادہ نہ تھیں۔ یہ یاد کیسے آئی اور اس تحریر کے لیے یہی تمہید کیونکر باندھی اس کا درست یا شعوری طور پر شاید کوئی جواب نہیں مگر۔۔۔ مگر جب خود کو زیادہ کُریدوں تو وجہ ہے ایک آواز، سفید بُراق چادر اور نقاب میں لپٹا ایک وجود، دو شدتِ غم سے لبریز آنکھیں۔۔ آواز کہتی ہے ” آپکو پتہ ہے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو ماں کتنا فخر کرتی ہے، میرا فخر مجھ سے چِھن گیا”

اور پھر ایسے کچھ اور کمُلائے ہوئے چہرے ہیں جن کی دوہائی میں ابدی جدائی کا جان لیوا الم اور آنسووں سے گُندھی کُرلاہٹ ہے
یہ چہرے یہ الم یہ کرلاہٹیں 16 دسمبر 2014 کے سانحے میں شہید ہونیوالے بچوں کی ماوں کی ہیں، میں جو ٹی وی پروگرامز سے حتی الامکان بچتی ہوں، یہ سسکیاں یہ نوحے سُن بیٹھی ہوں اور ماں نہ ہوتے ہوئے بھی اجاڑ دی جانیوالی گود کے سُونے پن سے دہل گئی ہوں اور لاشعوری طور پر اپنی ماں کا مجھ سے لمحوں/ گھنٹوں کی دوری پر حواس باختہ ہو جانا اور ان بے بس ماؤں کی لا چارگی کا موازنہ کر رہی ہوں۔ جو میں محسوس کر رہی ہوں ظاہر ہے یہ اُس کا عشر عشیر بھی نہیں جس کرب میں یہ مائیں مبتلا ہیں اور افسوس یہ ہے کہ یہ وہ کرب ہے جو وقت گُزرنے کے ساتھ دھیما نہیں پڑتا بلکہ رستا رہتا ہے، وقت کے پھائے لاچار تکتے رہتے ہیں 

سولہ دسمبر جو اب سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ ساتھ سانحہ پشاور کے حوالے سے بھی ایک سیاہ دن بن چُکا ہے، اس نے بہت سوں کی آنکھیں کھول دیں کہ کن درندہ صفتوں سے پالا پڑا ہے۔ اس کے بعد ہمیں نیشنل ایکشن پلان مِلا اور کافی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کے سلسلے میں جو ایک خاموش خود ساختہ پابندی تھی وہ ختم ہوئی، ملٹری کورٹس کا نام تواتر سے مختلف طرح کے تجزیوں میں آتا رہا۔ یوں لگا جیسے ہم نے طوہاًوکرہاً ایک سمت متعین کر لی ہے اور پھر ایک سال پر لگا کر گُزر گیا

اب 2015 کے آخری باب سے 2014 کے آخری باب پر نظر ڈالیں پھر وہ چھ سات گھنٹے طویل گھناؤنے خونی کھیل کے واقعات زہن میں لائیں (اب جبکہ کافی گُتھیاں سُلجھ چُکی ہیں سہولتکاروں کے نام، طریقہِ واردات اور دیگر تفصیلات سامنے آچُکی ہیں) کیا آپ نتائج پر طمانیت محسوس کرتے ہیں؟ کیا تحفظ کا احساس پنپ سکا ہے؟ کیا ہم آپ کہہ سکتے ہیں ازالہ ہو پایا ہے؟ زرا سوچیں اپنے والدین کا اور خود آپکا اپنے بچوں سے لگاؤ پھر یہ سوچیں۔ (یہ جذباتی سے زیادہ تکنیکی سوالات ہیں جو اس تحریر کا مطمعِ نظر نہیں، جذباتی پہلو مگر ہے۔)

تو جذباتی پہلو پر غور کیجئے، تقریبات منعقد کی گئیں، نغمے و اظہارِ یکجہتی کے مختلف انداز سامنے آئے، شہید بچوں کو قوم کا فخر کہا گیا، اُن والدین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، ہم سب نے یہ کیا، مگر سچ پُوچھیں تو جب میں نے اُن ماؤں کی باتیں سُنیں اور پڑھیں، میں یہ نہیں سوچ سکی کہ اُن بچوں کی شہادت میں بہادری یا ستائش کا کوئی پہلو ڈھونڈنا مجھے زیب دیتا ہے، اُن پر یہ آزمائش لادی گئی، اُنہیں وہ ڈھونے اور سہنے پر مجبور کیا گیا جو اُن کا بوجھ تھا ہی نہیں۔۔ جیسے میری اور آپکی بچپن کی یادیں کبھی کسی وجہ اور بے وجہ دل کے کواڑ پر دستک دیتی ہیں جیسے ہم نے وہ بھرپور دن گُزارے یہ اُن بچوں کا بھی حق تھا، یہ اُن والدین کا بھی حق تھا کہ وہ اپنی اولاد کے معصوم خوبصورت لمحات دیکھتے، اور اُن کے جوان ہونے پر وہ یادیں دوہراتے۔ مگر اب یہ ستائش بھرے کلمات ہیں یہ مختصر یادیں ۔۔ مجھے تمام پُر تحسین انداز دُکھ کے طوق لگے۔۔ جو دُکھی والدین کو ہم نے پہنائے  شاندار بہلاوں اور الفاظ کی اوٹ میں چُھپے طوق۔

یہ دن میری نظر میں جس احترام اور سنجیدگی کا متقاضی تھا، اس میں مجھے ایک کھوکھلے، بے جان اور تجارتی رویے کی باس محسوس ہوئی، یوں جیسے بیشتر روایتی عُروس میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ناچتے گاتے بھی ہیں اور کھانے بھی کھلاتے ہیں تو نشہ بھی کرتے ہیں۔۔ شاید میں قنوطی ہوں اور منفی حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہوں یا شاید ۔۔ آپ بھی یہ محسوس کرتے ہیں مجھے اختلاف ہے اس انداز سے جسطرح اس دن کو ایک عُرس نما اجتماعی تقریب کا آہنگ دیا گیا۔۔ جس کے لوازمات مختلف تھے ۔

ہمیں عزم کی ضرورت ہے، ہمیں اس جنگ کو جیتنے کے لیے جذبوں و لہو کو گرمائے رکھنے کی ضرورت ہے ہمیں قُربانیوں کو (چاہے وہ فوجی جوانوں کی ہوں یا شہریوں کی ) یاد رکھنے اور تقدیس دینے کی ضرورت ہے، مگر اس ضرورت کو اس عزم کو احترام و سنجیدگی کی بھی ضرورت ہے ایسا احترام و سنجیدگی جو رنجیدہ دِلوں کو ان کہی پھبتی نہ لگے۔ جو مرہم صفت ہو، نشتر صفت نہیں!

Fact Sheet

Crushing nightmares of cold chaperon me

Even when the sun burns like a lover’s heart

And the night sky’s eyes are full of warmth

I walk down the bustling roads

And trudge the quieter paths

Knowing, I don’t belong to this frame of space

I’ve been harshly plucked from my soil

And planted, here, in this alien life

Where familiar faces are merely a known facade 

Where strangers’ faces mirror what I feel about me 

Since long I’m invisible to my own heart

I know,

I’ve left myself in the search of my roots & roof

Or may be, may be

I’ve been poisoned by your absence 



This is to the phase where, when we feel unhinged and unbearable to our own sensitivities.

Let me!

let me grasp all of you, my darling!
The lilting corona of your smile
The disarming mischief of your touch
The thundering dark magic of your chosen silence
limpid, sometimes, in golden cascade of your words
Let me quash my destitution
For you, blatantly unrestrained you, can cure my starved soul
I know your secret, my elusive
You’re that star who refuses to blink fiercely
Not allowing the cartography of what’s yet to come
You’re uncertain in the expanse of your depth in me
You, the unrepentant dweller of my heart
Let me grasp you, my breath ritual
I’m adamant in the pursuit of brisk you;
knowing that you sing poems of dappled shadows
and cryptic hazel sunsets
which only quaint walls of the red rose city can kiss, fleetingly
Still, let me accumulate your beloved gypsy steps
and feverishly aflame glances in the empty urns of my heart
Let me draw you out of your sharply narrow passage ways
Let me light you up like a love spell of tealights
wafting through a medieval cloister of desire
Let me bask in the spicy scent of your bare skin and honey voice
Speak to me in a manner
only rain & desert can celebrate
Speak to me in the distinctively passionate language of seasons
Let me grasp you as I know myself
I, singular in midnight custom of your longing
I, orthodox in daylong hunt of your nearness
Let me translate us in an eternal embrace of adoration
Let me grasp all of you, my darling!

سیندھ 

جاڑے کی بھٹی میں 
ملگجی اداسی پھونکتا 

روزنِ خامشی میں 

گفتگو کا سراب ڈھونڈتا

یہ بے قرار دن

سنگِ گریز چیرتا جائے

ہر منظر جیسے

ٹھوس برف کی سِل ہو

ہر آئینہ جیسے

اور آئینوں کے مقابل ہو

اور تلخی کو سیاہ تر

سوا تر کرتا جائے

کتنی ہی

چارہ ساز آوازیں حاضر کرو

کیسی ہی 

سجیلی مصروفیت کے

مکالمے لکھو

اک متروک زباں میں

ارادتاً بھُولے پیماں میں

یہ سرکش دن

ابدی گیت، دائمی انتظار

کھوجتا جائے

سوچتا ہوں 

چاندنی کے سیلاب پر

کوئی حد سزاوار نہیں

خوشبو کے رِکاب پر

کسی کو اختیار نہیں

تو کیوں نہ میں بھی

اسیریِ عیش میں 

ایک دن ایک صدی کر آؤں

تمہاری شباہت کی یکتائی

تمہارے نقوش کی 

بے ساختہ کشش 

تمہاری گفتگو کے

روح افزا پہلو

تمام دل آرا بہلاوے

وقت کے گُم گشتہ پہناوے

سب کچھ پھر سے 

لوحِ حال پر رقم کروں

سیندھ لگاؤں 

کسی خوش وحیِ رفتہ میں

فروزاں کروں تمھیں 

جاڑے کی بھٹی میں

روزنِ خامشی میں

ٹھوس برف کی سِل پر

مقابل آئینوں میں

جیئوں پھر سے وہ موسم

جو بہار تھا جو بہار ہے

جو پیار تھا جو پیار ہے

جو مختصر تھا جو بے شمار ہے