سیندھ 

جاڑے کی بھٹی میں 
ملگجی اداسی پھونکتا 

روزنِ خامشی میں 

گفتگو کا سراب ڈھونڈتا

یہ بے قرار دن

سنگِ گریز چیرتا جائے

ہر منظر جیسے

ٹھوس برف کی سِل ہو

ہر آئینہ جیسے

اور آئینوں کے مقابل ہو

اور تلخی کو سیاہ تر

سوا تر کرتا جائے

کتنی ہی

چارہ ساز آوازیں حاضر کرو

کیسی ہی 

سجیلی مصروفیت کے

مکالمے لکھو

اک متروک زباں میں

ارادتاً بھُولے پیماں میں

یہ سرکش دن

ابدی گیت، دائمی انتظار

کھوجتا جائے

سوچتا ہوں 

چاندنی کے سیلاب پر

کوئی حد سزاوار نہیں

خوشبو کے رِکاب پر

کسی کو اختیار نہیں

تو کیوں نہ میں بھی

اسیریِ عیش میں 

ایک دن ایک صدی کر آؤں

تمہاری شباہت کی یکتائی

تمہارے نقوش کی 

بے ساختہ کشش 

تمہاری گفتگو کے

روح افزا پہلو

تمام دل آرا بہلاوے

وقت کے گُم گشتہ پہناوے

سب کچھ پھر سے 

لوحِ حال پر رقم کروں

سیندھ لگاؤں 

کسی خوش وحیِ رفتہ میں

فروزاں کروں تمھیں 

جاڑے کی بھٹی میں

روزنِ خامشی میں

ٹھوس برف کی سِل پر

مقابل آئینوں میں

جیئوں پھر سے وہ موسم

جو بہار تھا جو بہار ہے

جو پیار تھا جو پیار ہے

جو مختصر تھا جو بے شمار ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s