دل کی بات: سانحۂ پشاور 16/12

بچپن کی یادیں کتنا اور کیسا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں اسکا احساس تب شروع ہوتا ہے جب زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سوا نیزے پر آ کر سر پر چمکنے لگتی ہے۔ زمے داریاں، کچھ ‘کما’ لینے کی جستجو، بہتر کو بہترین کرنے کا خواب یہ سب ایسے آ کر ارادوں کو اُکساتے رہتے ہیں کہ تھکن اپنی اصل حیثیت میں محسوس ہونے کے بجائے اور زرائع سے اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔۔ جس میں سب سے زیادہ خیال اُس محرومی کا ہوتا ہے جو بچپن اور اس کی مخصوص بے فکری سے ہوتی ہے، اور بے ساختہ دل لپکتا ہے اُس بے فکری کو پھر سے حاصل کرنے پر ۔۔ اور یہ ممکن نہیں!خیر اس تمہید سے آپکو معلوم ہو گیا ہو گا کہ میں بذاتِ خود زندگی کی شاہراہ کے کس موڑ پر ہوں اور اس تیز سفر میں بھی وہ بے فکری ڈھونڈنے سے باز نہیں آتی کیونکہ ۔۔ دل بے ساختہ لپکتا ہے

بچپن کی بہت سی انمٹ یادوں میں ایک وہ یقین یا شاید نرگسیت کی وہ تسکین بھی شامل ہوتی ہے جو ماں باپ کا نچھاور کردہ پیار ہوتا ہے اور جس کی روشنی میں، میں آپ، ہم سب کسی شہزادی شہزادے سے کم نہیں ہوتے، ہماری کوئی بھی غلطی عموماً قابلِ درگُزر ہوتی ہے یا یوں کہیں کہ والدین خُدا کا وہ روپ ہیں جو جزا اور محبت کے علاوہ کچھ نہیں جانتا، نہ منتقم ہے نہ ضار ہے نہ خافض۔۔ آپکو یاد ہو گا کیسے کبھی چوٹ لگنے پر والدہ نے آپکو اپنی گود میں یوں سمو لیا ہو گا جیسے آپکے حصے کا درد بھی اُن کے کلیجے میں اُٹھ جائے اور آپ بھلے چنگے ہو جائیں اور والد صاحب نے یوں بہلایا ہو گا جیسے آپ کی تکلیف اُن کے دل کی رگیں چیر رہی ہے۔۔ ایسی ہی ملتی جلتی یادیں ہم سب کے دلوں میں سانس لیتی ہیں کبھی مسکراہٹ اور کبھی آنکھوں کی نمی کا پیرہن اوڑھے چلی آتی ہیں۔

میں اگر پلٹ کر دیکھوں تو ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ بغیر بتائے گھر سے چلے جانے پر ماں نے کیسا کہرام مچایا تھا اور بابا سے کیسی محبت بھری سرزنش ملی تھی۔ ماں کئی گھنٹوں تک خود سے جُدا کرنے پر آمادہ نہ تھیں۔ یہ یاد کیسے آئی اور اس تحریر کے لیے یہی تمہید کیونکر باندھی اس کا درست یا شعوری طور پر شاید کوئی جواب نہیں مگر۔۔۔ مگر جب خود کو زیادہ کُریدوں تو وجہ ہے ایک آواز، سفید بُراق چادر اور نقاب میں لپٹا ایک وجود، دو شدتِ غم سے لبریز آنکھیں۔۔ آواز کہتی ہے ” آپکو پتہ ہے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو ماں کتنا فخر کرتی ہے، میرا فخر مجھ سے چِھن گیا”

اور پھر ایسے کچھ اور کمُلائے ہوئے چہرے ہیں جن کی دوہائی میں ابدی جدائی کا جان لیوا الم اور آنسووں سے گُندھی کُرلاہٹ ہے
یہ چہرے یہ الم یہ کرلاہٹیں 16 دسمبر 2014 کے سانحے میں شہید ہونیوالے بچوں کی ماوں کی ہیں، میں جو ٹی وی پروگرامز سے حتی الامکان بچتی ہوں، یہ سسکیاں یہ نوحے سُن بیٹھی ہوں اور ماں نہ ہوتے ہوئے بھی اجاڑ دی جانیوالی گود کے سُونے پن سے دہل گئی ہوں اور لاشعوری طور پر اپنی ماں کا مجھ سے لمحوں/ گھنٹوں کی دوری پر حواس باختہ ہو جانا اور ان بے بس ماؤں کی لا چارگی کا موازنہ کر رہی ہوں۔ جو میں محسوس کر رہی ہوں ظاہر ہے یہ اُس کا عشر عشیر بھی نہیں جس کرب میں یہ مائیں مبتلا ہیں اور افسوس یہ ہے کہ یہ وہ کرب ہے جو وقت گُزرنے کے ساتھ دھیما نہیں پڑتا بلکہ رستا رہتا ہے، وقت کے پھائے لاچار تکتے رہتے ہیں 

سولہ دسمبر جو اب سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ ساتھ سانحہ پشاور کے حوالے سے بھی ایک سیاہ دن بن چُکا ہے، اس نے بہت سوں کی آنکھیں کھول دیں کہ کن درندہ صفتوں سے پالا پڑا ہے۔ اس کے بعد ہمیں نیشنل ایکشن پلان مِلا اور کافی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کے سلسلے میں جو ایک خاموش خود ساختہ پابندی تھی وہ ختم ہوئی، ملٹری کورٹس کا نام تواتر سے مختلف طرح کے تجزیوں میں آتا رہا۔ یوں لگا جیسے ہم نے طوہاًوکرہاً ایک سمت متعین کر لی ہے اور پھر ایک سال پر لگا کر گُزر گیا

اب 2015 کے آخری باب سے 2014 کے آخری باب پر نظر ڈالیں پھر وہ چھ سات گھنٹے طویل گھناؤنے خونی کھیل کے واقعات زہن میں لائیں (اب جبکہ کافی گُتھیاں سُلجھ چُکی ہیں سہولتکاروں کے نام، طریقہِ واردات اور دیگر تفصیلات سامنے آچُکی ہیں) کیا آپ نتائج پر طمانیت محسوس کرتے ہیں؟ کیا تحفظ کا احساس پنپ سکا ہے؟ کیا ہم آپ کہہ سکتے ہیں ازالہ ہو پایا ہے؟ زرا سوچیں اپنے والدین کا اور خود آپکا اپنے بچوں سے لگاؤ پھر یہ سوچیں۔ (یہ جذباتی سے زیادہ تکنیکی سوالات ہیں جو اس تحریر کا مطمعِ نظر نہیں، جذباتی پہلو مگر ہے۔)

تو جذباتی پہلو پر غور کیجئے، تقریبات منعقد کی گئیں، نغمے و اظہارِ یکجہتی کے مختلف انداز سامنے آئے، شہید بچوں کو قوم کا فخر کہا گیا، اُن والدین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، ہم سب نے یہ کیا، مگر سچ پُوچھیں تو جب میں نے اُن ماؤں کی باتیں سُنیں اور پڑھیں، میں یہ نہیں سوچ سکی کہ اُن بچوں کی شہادت میں بہادری یا ستائش کا کوئی پہلو ڈھونڈنا مجھے زیب دیتا ہے، اُن پر یہ آزمائش لادی گئی، اُنہیں وہ ڈھونے اور سہنے پر مجبور کیا گیا جو اُن کا بوجھ تھا ہی نہیں۔۔ جیسے میری اور آپکی بچپن کی یادیں کبھی کسی وجہ اور بے وجہ دل کے کواڑ پر دستک دیتی ہیں جیسے ہم نے وہ بھرپور دن گُزارے یہ اُن بچوں کا بھی حق تھا، یہ اُن والدین کا بھی حق تھا کہ وہ اپنی اولاد کے معصوم خوبصورت لمحات دیکھتے، اور اُن کے جوان ہونے پر وہ یادیں دوہراتے۔ مگر اب یہ ستائش بھرے کلمات ہیں یہ مختصر یادیں ۔۔ مجھے تمام پُر تحسین انداز دُکھ کے طوق لگے۔۔ جو دُکھی والدین کو ہم نے پہنائے  شاندار بہلاوں اور الفاظ کی اوٹ میں چُھپے طوق۔

یہ دن میری نظر میں جس احترام اور سنجیدگی کا متقاضی تھا، اس میں مجھے ایک کھوکھلے، بے جان اور تجارتی رویے کی باس محسوس ہوئی، یوں جیسے بیشتر روایتی عُروس میں ہوتا ہے، جہاں لوگ ناچتے گاتے بھی ہیں اور کھانے بھی کھلاتے ہیں تو نشہ بھی کرتے ہیں۔۔ شاید میں قنوطی ہوں اور منفی حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہوں یا شاید ۔۔ آپ بھی یہ محسوس کرتے ہیں مجھے اختلاف ہے اس انداز سے جسطرح اس دن کو ایک عُرس نما اجتماعی تقریب کا آہنگ دیا گیا۔۔ جس کے لوازمات مختلف تھے ۔

ہمیں عزم کی ضرورت ہے، ہمیں اس جنگ کو جیتنے کے لیے جذبوں و لہو کو گرمائے رکھنے کی ضرورت ہے ہمیں قُربانیوں کو (چاہے وہ فوجی جوانوں کی ہوں یا شہریوں کی ) یاد رکھنے اور تقدیس دینے کی ضرورت ہے، مگر اس ضرورت کو اس عزم کو احترام و سنجیدگی کی بھی ضرورت ہے ایسا احترام و سنجیدگی جو رنجیدہ دِلوں کو ان کہی پھبتی نہ لگے۔ جو مرہم صفت ہو، نشتر صفت نہیں!

Advertisements

2 thoughts on “دل کی بات: سانحۂ پشاور 16/12

  1. Bilkul sahi kaha aap ne. Bachun k be reham qatal ko qurbani k libaaday me chupaa ker air waalidain ko jhooti sataesh k khawaab dikha ker asli haqaeq ko chupaya ja raha hai. Insaaf denay ki bajaay alfaaz li haira phairi ki ja rahi hai. Aj tak uei hota aya hai… Isi waja se ye extremists barh rahay hain jin k nazdeek kisi ko bhi qatal kerna koi gunnah nahin.
    Un maa baap ko salute kerne ko jee chahta hai jinho ne itna dard bardasht kia… jinki zindagi khaali ho gae aur wo pher b TV per aa ker logo ko apna dard bata rahay hain. Allah unko sabar de. Ameen.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s