دوزخ

خانقاہِ حیات میں جلاؤ

لمبی چُپ کے گنجلک چراغ 

لفظوں کو تہہِ لب جھونکو

سوالات پر چلا دو تیز دھار تلوار

دیوانگی کا گریبانِ چاک سی ڈالو

شرح عقل و جواز سے طے کرو جینے کے آزار 

بن جاؤ کوئی مذہب ساز، کوئی ناگُزیر مسیحا 

یاں پھر کوئی بیوپاری سا کردار

خونِ حق میں ڈبو دو رگِ قلب کا اضطراب

زمانے کی چمکتی نئی دھار میں مِلا ڈالو

اپنے ضمیر کی زنگ آلود بے مایہ پکار

خریدو اپنی سانسوں کو

بیچو اپنا آئینہ اپنا پندار 

یُونہی جینے کی کوئی صورت کرتے رہو 

یُونہی جاں سے جاتے رہو ہر بار




تشنگی

ہمکلام ہے تیقنِ دل سے ایک محبوب یاد  
وقت کی ستم گری سے باغی

مذہبِ فرقت کی مرتد

دوری کی حدوں کی گستاخ 

آئینہ گاہِ خلوت میں منور ہے

 یوں مشعلِ پرچھائی

وصل یوسف جیسےلےآئے

بینائی کی سوغات

کوزہِ روح میں پگھل گئی ہے

حسرت بن کر 

لاحاصل ہو گئی ہے

دعاؤں میں جو اک بات

زرنگار کوئی کھلا چاہتا ہے دامنِ مشرق میں

اور اشکوں  کے چاند پروتا ہے پلکوں میں یہ خیال 

ہمکلام تو ہو سکتی ہے 

تیقنِ دل سے تمھاری یاد

میں یہ لکھ تو سکتی ہوں 

ہر زاویے سے

شاعرانہ فصاحت سے

راز سی پراسراریت سے

مگر میں چھو نہیں سکتی تمھارے ہاتھ

کتنا ہی زندہ ہو مکالمہِ یاد

کتنا ہی منور ہو چراغِ  قُرب

میں چوم نہیں سکتی 

تمہاری خوشبو اور سانسوں کا سُرتال

ماں کے نام


گہری دھند کے اُس پار بھی
لمس کی شناسائی

صوت کی حیات بخشی،

اور

ہر وجودی ساخت سے مبرا

تمھارا عدم، 

محبت کو بھٹکا نہیں سکتا

زندگی کے خلا میں لاچار

لٹکا نہیں سکتا

تم تو مجھ ہی میں رہتی ہو

تلاش سے بھی پہلے کا 

حاصل ہو

ظاہری دوری کے 

زہری گھاؤ میں بھی

لازم جدائی میں بھی

تم تو روح کو پیہم میسر ہو

ادھورا کر کے جانے والی

تم تو مجھ میں مکمل ہو