کارپوریٹ تنہائی

آبدار مکانوں کے اُجاڑ 

چمکیلی راہداریوں کے خم

بے روح جسموں کے عذاب ٹٹولتے ہوئے

سرگوشیوں میں چیختے ہیں

جیسے سُرخ گُلابوں میں

چنگاریاں روئیں

شام کے گہرے نیلے پر بھی

آسیب زدہ ہیں

آرزو کا گراں سایہ لیے

ایسی طلسمی خوشبو سے چُور

جو بہت دور ہو

اور بہت قریب سے آئے

Advertisements

حلف نامۂ شاعر

میں نے تمھیں انگنت بار لکھا ہے
میں نے پڑھا ہے تُمھیں دیوانگی میں

میری ہر نظم ہر کہانی 

میں تُم رقم ہو

کسی سطر نے تسبیح کی ہے

تمھاری خوشبو کی

کسی لفظ نے تمھاری آواز کا

کلمہ پڑھا ہے

کوئی افسانہ تمھارے ہجر میں

آغاز سے ہی ادھورا رہا ہے

کسی کہانی نے 

تمھارے پہلو کے آہنگ کو 

اسطرح بسر کیا ہے

کہ وصل نے بے ساختہ

اپنے حُسن کو

بے خُود سجدہ کیا ہے

میرے ہُنر کے بُت میں کُچھ نہیں

تمھاری خُدائی کے سوا

تُمھاری پرچھائی کے سوا

میرے کلام میں کُچھ نہیں 

میں جہاں بھی ہوں

تُمھاری بنیاد میں گڑی ہوں

تم جہاں بھی ہو

میرے آنچل سے لپٹے ہو

میں ورد کر سکتی ہوں تمھارا 

کسی بھی بے یقینی میں

تم تعویذ کر سکتے ہو مجھے 

کسی بھی ناآسودگی میں

جتنا بھی فاصلہ ہو

تمھاری حدیں میرے خیال سے

سے بھٹکتیں نہیں

میں زندگی میں 

کم پڑنے لگوں تو بھی

تُمھارے ہونے کا مُجھ میں کوئی انت کوئی شُمار نہیں

میں نے تمھیں انگنت بار لکھا ہے

میں نے پڑھا ہے تُمھیں دیوانگی میں


‘Affliction’

Aren’t we a ballad of melancholy?
Aren’t we a love, quietly distraught?

We are to fill ourselves with loneliness 

While sipping each other’s tears

We are to conjure grey rainbows 

While clouds burst into barren rains

But it’s not the real woe

It’s not which cuts open the heart

The affliction is to be remain thirsty 

After drinking from the streams of heaven.

Mirror Image

I’m not a poet
I’ve learnt to sculpt metaphors

I can throw the unsaid in potter’s wheel of words

My trade is of disguise 

My earning is what you can see anew

In writing your fears

I’ve built myself a hiding

I stay veiled

& pull strings of your – my- Emotions

Find me when you’re too lost

I’ll be closer than your desire for a sanctuary