حلف نامۂ شاعر

میں نے تمھیں انگنت بار لکھا ہے
میں نے پڑھا ہے تُمھیں دیوانگی میں

میری ہر نظم ہر کہانی 

میں تُم رقم ہو

کسی سطر نے تسبیح کی ہے

تمھاری خوشبو کی

کسی لفظ نے تمھاری آواز کا

کلمہ پڑھا ہے

کوئی افسانہ تمھارے ہجر میں

آغاز سے ہی ادھورا رہا ہے

کسی کہانی نے 

تمھارے پہلو کے آہنگ کو 

اسطرح بسر کیا ہے

کہ وصل نے بے ساختہ

اپنے حُسن کو

بے خُود سجدہ کیا ہے

میرے ہُنر کے بُت میں کُچھ نہیں

تمھاری خُدائی کے سوا

تُمھاری پرچھائی کے سوا

میرے کلام میں کُچھ نہیں 

میں جہاں بھی ہوں

تُمھاری بنیاد میں گڑی ہوں

تم جہاں بھی ہو

میرے آنچل سے لپٹے ہو

میں ورد کر سکتی ہوں تمھارا 

کسی بھی بے یقینی میں

تم تعویذ کر سکتے ہو مجھے 

کسی بھی ناآسودگی میں

جتنا بھی فاصلہ ہو

تمھاری حدیں میرے خیال سے

سے بھٹکتیں نہیں

میں زندگی میں 

کم پڑنے لگوں تو بھی

تُمھارے ہونے کا مُجھ میں کوئی انت کوئی شُمار نہیں

میں نے تمھیں انگنت بار لکھا ہے

میں نے پڑھا ہے تُمھیں دیوانگی میں


Advertisements

4 thoughts on “حلف نامۂ شاعر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s