کوتاہی

خوشبو اپنی حبس کے ماتم میں

گریباں چاک کیے بھٹکی

اور عُریانی کی سزاوار ٹھہری

گُل اپنے رنگوں کی قیمت چُکانے

کسی کم ظرف کے

دامن میں تکریم کی صورت 

اچھالا گیا

چاندنی اپنی ردا سنبھال نہ سکی

اورچھتوں پر سناٹوں میں

یکساں اُنڈیلی گئی

کیا ہوا پر لازم نہ تھا دربدر مہر کا خضر ہونا، ستر پوشی کرنا؟

کیا مالی کا حلف نہ تھا 

اپنے آنگن کی رعنائی کو

سُرخرو رکھنا ؟

کیا آسماں کی بانہوں میں

چاندنی کی پناہ کا وعدہ نہ تھا؟ 

کوئی تُمہارے لیے خوشبو، گُل اور چاندنی سا رہا

اور اپنی خاک پر مُنتج ہوا

کیا تمہیں سمیٹنا نہ تھا ؟ 

Advertisements

3 thoughts on “کوتاہی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s