رختِ نو


مات کے زاویوں سے 

ڈرتے ہوئے

تیری بساط پہ پھیل گئے ہیں


اپنی وضاحت کے لیے سرشار

شہہ مات کی جانب بڑھتے ہوئے


خود سے مل رہے ہیں

تیری دربدری کے قصے سُنتے ہوئے


سیاہی کے آزمودہ نقوش چھوتے 

 روشنی کے مدہم عکس چُنتے ہُوئے

بہت کچھ کہنے کے تعیش میں

نہ کہنے کی فقیری سے سیراب ہوتے ہُوئے

تمھیں تراش رہے ہیں خود کو بیاں کرتے ہوئے


کیا حد ہے کیا بلا خیز ہے

کیا انتہا ہے کیا نوخیز ہے

کسے بھید ہونا ہے

کون واشگاف ہو گا

کسے پار جانا ہے کون ہمکنار ہوگا

جوابات سے دوچار ، سوالوں میں مُبتلا ہوتے ہوئے

کشتیاں جلا رہے ہیں ذات کے ملاح ہوتے ہوئے 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s