دستورِ نو

کھوٹے سکوں کی دولت پر اترایا جائے 
روح کے گھاؤ پر

مستعار کی چمک کا مرہم لگایا جائے

اور پھر اچھے داموں 

ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیچا جائے

ناخُداؤں کو 

ذاتی اجتماعی دیوتاؤں کو

جمالیاتی و نظریاتی سُخن کے 

بھرم سے رہا کیا جائے

نفرت کو قلبی ریشوں سے چُن کر

زبانِ زدِ عام کیا جائے

یہ طے ہو کہ 

انسانیت کو کیسا کفن پہنایا جائے

کس مذہب کس طبقے کا 

رسم میں کتنا حصہ ہو

اس شے کو سوختہ کر دیا جائے

یا حشرات الارض کی دعوت کی جائے 

یا برہنہ بدن پیاسا مار دیا جائے 

پھر یہ انتخاب ہو کہ 

اپنے اندر کے فرعون کو 

کیسا تخت سونپا جائے

کس دل کو تختۂ مشق بنایا جائے

کس علاقے میں آگ کاشت کی جائے 

اور ہر فصل سے کس کے لیے

نئی بربادی تمہید کی جائے

پھولوں، رنگوں اور بارشوں کو بھی نہ بخشا جائے

یہ سب اُمید اور ہریالی کے استعارے

انہیں تو جلد از جلد تحویل میں لیا جائے

یہ محبتوں کو دوام دیتے ہیں

اِنکی تو جان قبض کر لی جائے

چاندنی سے بھی 

اُسکی دلربائی کا خراج لیا جائے

کسی اونچی دکان پر 

خالص بے رحمی کے عوض 

فروخت کیا جائے

تُم اور میں

ہم بھی قطع تعلقی یا عشق

جیسے پیمانوں سے نکلیں

منافقت کے سب دریا عبور کیے جائیں

تُم دم بھرو میرے حُسنِ سدابہار کا

میں تمھاری بے داغ وفا پر غزلیں لکھوں

ایک دوسرے کو سیاہ ترین گہن لگایا جائے

پھر روشنی پر اک استہزائی نعرہ بُلند کیا جائے 

آؤ، پردے کے جبر سے نکلا جائے

خوشبودار جھوٹ

کیڑا لگے سچ

سب کو بے حجاب کیا جائے





لکھنے کے بعد اندازہ ہوا یہ دستورِ نو نہیں یہ تو پھلتا پھولتا طریقۂ معاشرت بن چُکا ہے ۔۔ محض جالی کے پردے کی کمزور اوٹ ہے جو حائل ہے ورنہ ہر کوئی ‘مائل بہ کرم’ ہے ۔۔ہم بھی تُم بھی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s