‘خوف’

آج سُنسانی ہے اتنی روح کدے میں، کہ
کوئی آواز سناٹے چُپ کروا نہ سکی

کسی چاپ کی اُمید پر بھی 

خزاں زدہ دل 

گُلاب نہ ہوا 

اپنے تھکے بدن پر میں 

خامشی کا دشت پھیلائے

کسی گُنگناتے ستارے کی لو سےبہل نہ پائی 

اپنے ہی ہجوم میں دل گرفتہ 

چاہ کر بھی 

کسی خلوت کی خواب آہٹ سُن نہ پائی

میری آرزو گری بھی 

تیرےوصل کے خیال

(یعنی میرے پسندیدہ بُت )

تراش نہ سکی

کوئی صنم کوئی خُداعطا نہ کر سکی

ہجر ازبر ہو گیا ہے اتنا

کہ فاصلوں کے سنگِ میل عبور کرتے کرتے

تم سے بھی آگے نکل جاؤں 

تو بعید نہیں حیرانگی بھی نہیں 

اور جو مل جاؤ بھولے سے، کبھی، کہیں

نہیں، نہیں، اب تو یہ زہر گوارا ہی نہیں