“کہانی تیرے میرے شہر کی”

گھور چُپ میں شہر رواں ہے، مگر
خوف کے بلوے سے آباد نہیں ہوتا

تعصب، سِکہ رائج الوقت طے ہوا

خوب برتو، ایماں برباد نہیں ہوتا

خون ٹھہرا جنسِ خرید و فروخت

اونچی بولی ہو، فساد نہیں ہوتا 

دلیل و سچ، مفاد کے تابع رکھ لو 

مکر و فریب سے زہرباد نہیں ہوتا

نالۂ سائل، خلا میں چھید کرتا ہے 

صاحبِ جاہ پر اثرِ فریاد نہیں ہوتا

حرف و نشترِ نفرت، قضا نہیں ہوتے

اس رسم میں سقمِ تضاد نہیں ہوتا

بانہوں میں بانہیں ہیں اغیار کی 

یار کو یاور کا چہرہ یاد نہیں ہوتا

سوہنی نہ سسی کوئی اب، یہاں 

جوئے شیِر کھودتا فرہاد نہیں ہوتا 

خواہش کترتی ہے سانسیں اُسکی

بندہ مایا جال سے آزاد نہیں ہوتا

“خلا ٹھہر گیا مجھ میں”

خلا ٹھہر گیا مجھ میں

کوئی گزر گیا مجھ میں

وحشت جاتی ہی نہیں

خواب مر گیا مجھ میں؟

زوال کی اٹھان تو دیکھ
جنوں اُتر گیا مجھ میں

بہت مُسکرایا میں جب

سناٹا بھر گیا مجھ میں

خوش گفتار ہو گیا ہوں

سچ مُکر گیا مجھ میں

چنار رنگ ہوں تیرا، تُو

خزاں کر گیا مجھ میں

‘قیاس’

چلو، اندھیرے کا زینہ بنائیں

اور چاند کے پاتال میں اتریں

رخشاں بے نوا سے حسرتِ یاس بیاں کریں

اور فاصلوں کو سپردِ خاک کریں 

تمام ستاروں کو پگھلا ڈالیں

اور انڈیلیں خاموشی کی سیاہی پر

ظرفِ کلام دیں بجھارتوں کو

جھرنوں کا شفاف نور 

نچوڑیں اور

وقف کر جائیں

ماۂ حُزن کی عبارتوں پر

چلو، خواہش کا زینہ بنائیں

اور اُسکی آنکھوں کے پاتال میں اتریں

رخشاں بے نوا سے حسرتِ یاس بیاں کریں

اور فاصلوں کو سپردِ خاک کریں

تمام ستاروں کو پگھلا ڈالیں

اور انڈیلیں خاموشی کی سیاہی پر

ظرفِ کلام دیں بجھارتوں کو

اپنی دھڑکنوں سے زندگی نچوڑیں اور 

وقف کر جائیں

اُن آنکھوں کی زیارتوں پر 

“اوّل آخر تُو “

بہت فتنہ گر تھا تیری چاہ کا حصار
بہت گہری تھی وہ خواہش

جس میں ڈوبتے ہم 

تیری روح تک کے پار اترنا چاہتے تھے

بہت بالا تھیں وہ دیواریں

جو تیری نگاہ کا کلمہ 

ہمارے کُفر کے گرد کھینچتا تھا

اک جنوں تھا 

کہ طوفاں اٹھاتا تھا خاک میں

تیغ جیسا، جو خود پر چلتی جاتی تھی

تجلی جیسا، جو تجھ پر 

کُھلنا چاہتی تھی

ہم تھے کہ میلوں تک پھیلی 

ریشم کی اُلجھی طنابیں تھیں

تیرے نفس میں بھیگتی

مگر یوں کہ 

تیرا سانس چلتا تھا تو

ہم بھی سلجھتے تھے اپنے پہلو میں 

عشق میں گُداز ہوتے 

لپٹتے تھے تجھ سے ہی 

تیرے الجھنے والے 

مگر میرے بےخبر 

میرے محرم

تیرے اذن سے تو قید نہیں تھے

اپنی رہائی تو اپنےہی ہاتھ تھی

کسی ضبط کسی پیماں

کے در کی فقیری نہیں تھی

کسی اظہار کی اسیری

گُمراہ نہ رکھے تھی

کسی اقرار کی شریعت سے نہ بندھی تھی بندگی

وہ جو بےترتیب تھے 

تو اپنے ہی تسلسل میں 

جو اک قالب میں ڈھل گئے

تو اپنی ہی ذات میں رزم آرا ہیں

تجھے چرا لائے تھے رمزِ رنجیدگی سے

تجھ ہی میں گُھل رہے ہیں طربیہ دلی سے


“کیا ہو گر۔۔۔۔”

کیا ہو گر، مآلِ بساط 
جیت و مات سے خام ہو جائے 

دامنِ وصل نہ بھی مہیا کرے

سایۂ ہجر و طلب سے آزاد ہو جائے

زندگی، بصورتِ نخلستاں نہ سہی 

ویرانیِ دشت کا متضاد ہو جائے

تیشہ، دھارِ وصل نہ کھوج پائے

نہ سہی 

مگر محبوب کو الہامِ وارفتگی ہو جائے 

خار ہو جو راہِ عشق کا

خوشبو طرازی نہ بھی کرے

بس مانندِ جرسِ گُل ہمراہ ہو جائے

جو دائم فروزاں ہے رگ رگ میں

وہ نار، درمانِ راحتِ کمیاب نہ بھی ہو

پُرسشِ جاں کو ہی مہرباں ہو جائے

محب چلا چلے کاسۂ خودی لیے

اُس حیات آفرینی سے لب مس نہ بھی ہوں

صدا، حلقۂ نارسائی سے آزاد ہو جائے

کیا ہو گر ۔۔

ہم تم نہ پھیلے رہیں فاصلوں میں

کیا ہو گر،

ہم اسی نظم میں تمام ہو جائیں؟

“I Forget …”

The low murmurs of your laugh,

The sensuality of your language,

Cultivate slowly piercing ache in all moments;

I forget to stitch the longing of my bosom,

Torn open by your aqua & tobacco fragrance,

I forget breathing,  

And I forget buttoning my gown.

When the wild roses, grown outside  

Knock at the glass of the window, 

The plump half-moon of your bottom lip flares, 

Plagues the entirety of time

And what’s broken by it,

I forget chaining the urgency, dancing in my gait,

I forget talking, 

And I forget my face, my own body.

Your name inundates the soul, 

Breaches all sanity embankments 

You teach me to taste the wound of eternity,

I forget not to be paralysed,

And I forget to honour the distinctions,  

I forget I’m a monotheist.

 

پہیلی 

آئینے کے مقابل ہے آئینہ  

اور ہر پہلو لامحدود ہے

اپنی ترتیب اور برہنگی میں

میں جھانکتا ہوں تیرے مقبرے میں

جو تیرے ہی اندر تعمیر ہو رہا ہے

تو بھی ناچتا ہے 

مجھ میں پلتے صحرا کے

گرد بگولوں کے ساتھ 

میں جو چہرہ پھیر لوں

تو تیرے حسن کی آنچ بجھ جائے

تو جو پلٹ جائے سامنے سے

میں بھی ڈھے جاؤں بھربھری مٹی سا

آ، الوداعی بوسے میں 

مجھے میری تنہائی سونپ دے

اک پل کو

مجھے اُتار پسِ رگِ جاں

اور اپنی وحشت کو خود سنبھال لے