“اوّل آخر تُو “

بہت فتنہ گر تھا تیری چاہ کا حصار
بہت گہری تھی وہ خواہش

جس میں ڈوبتے ہم 

تیری روح تک کے پار اترنا چاہتے تھے

بہت بالا تھیں وہ دیواریں

جو تیری نگاہ کا کلمہ 

ہمارے کُفر کے گرد کھینچتا تھا

اک جنوں تھا 

کہ طوفاں اٹھاتا تھا خاک میں

تیغ جیسا، جو خود پر چلتی جاتی تھی

تجلی جیسا، جو تجھ پر 

کُھلنا چاہتی تھی

ہم تھے کہ میلوں تک پھیلی 

ریشم کی اُلجھی طنابیں تھیں

تیرے نفس میں بھیگتی

مگر یوں کہ 

تیرا سانس چلتا تھا تو

ہم بھی سلجھتے تھے اپنے پہلو میں 

عشق میں گُداز ہوتے 

لپٹتے تھے تجھ سے ہی 

تیرے الجھنے والے 

مگر میرے بےخبر 

میرے محرم

تیرے اذن سے تو قید نہیں تھے

اپنی رہائی تو اپنےہی ہاتھ تھی

کسی ضبط کسی پیماں

کے در کی فقیری نہیں تھی

کسی اظہار کی اسیری

گُمراہ نہ رکھے تھی

کسی اقرار کی شریعت سے نہ بندھی تھی بندگی

وہ جو بےترتیب تھے 

تو اپنے ہی تسلسل میں 

جو اک قالب میں ڈھل گئے

تو اپنی ہی ذات میں رزم آرا ہیں

تجھے چرا لائے تھے رمزِ رنجیدگی سے

تجھ ہی میں گُھل رہے ہیں طربیہ دلی سے


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s