‘استفسار’

تیرے درد نے مجھ پر 


میرا اپنا آپ عیاں کر دیا ہے

جیسے آدم و حوا

پر طلب نے 

اُنکے وجود منکشف کر دئیے 

اب کس طور اوڑھائیں

برہنگئ احساس پر پردہ

محبت خطا کس سے بخشوائیں؟

Advertisements

‘شَرَح’

کسی نظم میں نہیں سمٹتے
کسی شعر میں کامل بیان نہیں ہوتے

میری جان

تُم دنیاداری کا کوئی کلیہ 

دین داری کی کوئی شرط نہیں ہو

تُم عشق کی رمز 

ہوس کا وبال بھی نہیں ہو

تمہیں ابھی آشکار ہونا ہے

میری فنا کے اُس پار 

جہاں مجھے 

تمہارے حق میں ادا ہونا ہے

سفر

راستہ زندہ ہو گیا تھا
اور اپنی دھوپ دھول نظر سے

ان کے لمحۂ موجود پر 

یقین کی مخملیں پوشش بن کر لپٹتا تھا 

سفید تناور پیڑ 

کانچ کے سُنہری سلام تھے

جو سبز غلاف میں ملفوف

جھومتے تھے

راستہ زندہ ہو گیا تھا 

پہلو کی آنچ سے اٹھتے دل کی طرح

آنکھ کی پُتلی میں ستارہ ہوتی

خوشنگاہی کی طرح

ہاتھ نرم لمس کی دعائیں

پوروں پر اچانک دھرتے تھے

پلٹ جاتے تھے

راستہ زندہ ہو گیا تھا 

کسی قدیم منقش دروازے کی مانند

جو بنا قفل ہی بند ہو

سِمٹی سِمٹی وہ 

بنا آہٹ کیے 

اپنے ہمراہی پر کھلتی جاتی تھی

خوشبو کی تیز لے

سانس کی سرگوشی سے بھیگتی تھی

اور وجود، وجود سے

رودادِ جاں کہتا تھا

راستہ زندہ ہوگیا تھا

اور راہی، قدم قدم 

امرت سیراب ہوتےجاتے تھے

منزل سراب کرتےجاتے تھے

تیرِ نیم کش

 ایک محصول افتاد قاتل لمحہ ہے

ایک جان کَنی سا انتظار ہے 

جو ٹھہر گیا ہے

بارشوں کے بعد کے حبس جیسا

ارتقا لذت ہجر سے پہلے کا موڑ

جہاں درد تنہا ہے

بے انت پھیلے سمندر پر اکیلی کونج جیسا

جو اُڑان کو بیچارگی میں

بدلتے دیکھتی ہے

بے آواز گریہ سے مرتعش

ہے جہاں ساری کائنات

جہاں جنوں بھی 

کسی حضر کی پناہ چاہتا ہے

جہاں آوارگی کو خضر درکار ہو

جہاں نہ جی سکتا ہوں

نہ مر سکتا ہوں

جہاں تاک میں ہے 

ہرسیاہ رُو سایہ، ہر رنگ کی بے سروسرمانی 

جہاں اپنے بھیتر کی آغوش کو

ترستا ہے جوگی