سفر

راستہ زندہ ہو گیا تھا
اور اپنی دھوپ دھول نظر سے

ان کے لمحۂ موجود پر 

یقین کی مخملیں پوشش بن کر لپٹتا تھا 

سفید تناور پیڑ 

کانچ کے سُنہری سلام تھے

جو سبز غلاف میں ملفوف

جھومتے تھے

راستہ زندہ ہو گیا تھا 

پہلو کی آنچ سے اٹھتے دل کی طرح

آنکھ کی پُتلی میں ستارہ ہوتی

خوشنگاہی کی طرح

ہاتھ نرم لمس کی دعائیں

پوروں پر اچانک دھرتے تھے

پلٹ جاتے تھے

راستہ زندہ ہو گیا تھا 

کسی قدیم منقش دروازے کی مانند

جو بنا قفل ہی بند ہو

سِمٹی سِمٹی وہ 

بنا آہٹ کیے 

اپنے ہمراہی پر کھلتی جاتی تھی

خوشبو کی تیز لے

سانس کی سرگوشی سے بھیگتی تھی

اور وجود، وجود سے

رودادِ جاں کہتا تھا

راستہ زندہ ہوگیا تھا

اور راہی، قدم قدم 

امرت سیراب ہوتےجاتے تھے

منزل سراب کرتےجاتے تھے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s