ترجیحات

ابرو کے کمان سے

ماہِ فلک کا شکار کرو

جنبشِ لب سے

مُسکراہٹ کے خفیف خم سے

نیا چاند گوندھو

اپنے ہونے سے

اک نگاہ سے

نورِ بہشت میں نہلا دو

اور ماتھے کی کُندن لو سے

کوئی سورج میری جانب 

اچھال دو

یا چاہو تو

مجھے نابینا رند کردو

جو ایک تابانی کی

مدہوشی میں جیتا ہے

جاؤ تو ہر سُر دریا برد کر جاؤ

جو نیلگوں لہجے کے

شیریں چشمے سے

سیراب نہ کر سکو

تو کھاری گدلی دُنیا سے

پیاس اور مٹھاس 

سب لے جاؤ

خوشبو کے پروں پر تعزیر لکھو

مجھے کسی بے آس جزیرے میں

کسی میلے کائی زدہ جنگل میں

خزاں کے حوالے کر جاؤ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s