سپردگی

تفصیل سے، بنا ترمیم کے

چھو لوں، چوم لوں پردے

اپنے حسیں کے

لکھ دوں اُس کے نام

سارے سچ آسماں و زمیں کے

جُرعہ جُرعہ اتاروں خود میں

جُز جُز اس میں رواں ہو جاؤں

آغاز کے،اختتام کے 

حد کے، انتہا کے

جھمیلوں سے

جُدا رہوں

ترتیب کے، اختصار کے

ربط کے، روانی کے

سب سبق بُھلا رہوں

میں نہ سوچوں منزل

میں نہ جانوں رستہ

میں نہ چاہوں اُڑان

میں نہ مانگوں حلقہ

منہا کردوں گزشتہ حوالے 

منتشر کر دوں فکری پیمانے

لوٹ جاؤں اس میں

سمیٹ کر لے آؤں خود میں

تفصیل سے، بنا ترمیم کے

چھو لوں چوم لوں پردے

اپنے حسیں کے

لکھ دوں اُس کے نام

سارے سچ آسماں و زمیں کے