ایک منظر کا قیدی

سُنہری بوسے اکتوبر کی دھوپ کے

جب اُسکی جل جام

آنکھوں کے رنگ کو

نرم لمس سے سرشار کرتے ہیں

میری روح کی خواہش ادا کرتے ہیں

دل کی آشفتہ مزاجی کو رام کرتے ہیں

تیرگیِ جاں کو منور جہاں کرتے ہیں

سُنہری بوسے اکتوبر کی دھوپ کے۔۔۔۔

Advertisements

وجد

اپنی یکتائی سے بہل

گئی تنہائی 

اک محبوب حُزن سے ملی 

گہری شناسائی

جاں کے ذرے ذرے میں

وافر ہے اب تو

چھومنتر رہی جو پرچھائی 

فاصلہ، انتہا کے

ہاتھ رکھ چُکے ہو، رکھو!

ہم تسلیم کے خیمے

سی چُکے ہیں، دیکھو!

کوئی نئے پانیوں کا ناسمجھ خوش پوش 

کوئی گھر میں بھی خانہ بدوش

ہر آرزو سے روپوش