فنا فی عشق

یہ جو نمازِ شوق میں عُمر سے گھرا ہوا ہوں

دُعا کی ہتھیلی میں کلامِ جنوں لیے

ایک ہی شخص کے سامنے جُھکا ہوا ہوُں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

یہ جو مکینِ عیون ہیں، جگنو نمدار سے 

خاکِ جان میں تو رواں رہتے ہیں نار سے

ہجر کی سخاوت سے کنارے تک بھرا ہوا ہوں 

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

یہ جو وحشی سی کمی ہے، کیا کمی ہے؟

وجود کی بے ثباتی میں یہی تو کھری ہے

عدم کی چاہ میں میسر کا مُنکر ہوا ہوں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

اب جُدائی ممکن نہیں رہی ہے

اب میں کو تُم لکھ رہا ہوں

اب تُم کو میں پڑھ رہا ہوں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

Advertisements