ام قیس – جدارا (حصہ اوّل (

‎قدیم تاریخی جگہوں پر جانا میرے لیے، میری ذات کا کاشفِ انوار ہے، اپنے اندر کے بچے کے تحیر سے ملنا سرخوشی ہے اور روح کے جمود پر پسندیدہ مِضراب کے لمس سے اُٹھنے والے سُر سننا خوشبختی۔۔ اور یہ سب مجھے ایسی جگہوں پر جا کر ملتا ہے جو نحیف آواز میں ہی سہی، مگر پُرانے پامال گیت گاتی تو ہیں۔ تو پھر ام قیس جانے کا کوئی بھی موقع کیوں ضائع کیا جائے؟ ‎ام قیس کیا ہے؟ یہ اردن کے شمال مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ جہاں وہی دن سا دن اور رات سی رات ہوتی ہے تو پھر اس میں مجسم ‘میں اُڈی اُڈی جاواں ہوا دے نال’ ہونے کی ضرورت؟
کیونکہ اس شہر کی ایک تاریخ ہے جو میں آپکونہیں بتاؤں گی۔ اس لیے کہ یہ میرا کام نہیں، مجھے تو یہ معلوم ہے کہ یہاں رومن ثقافت کی معراج کے دنوں کی ایک جھلک ہے ۔۔ زلزلے اور وقت کی بے رحمی کے باوجود ایک عظیم الشان شہر کی باقیات پھر بھی جیتی ہیں ۔۔ یہاں اپنی ذات سے ماورا کر دینے والا نظارہ ہے اور اپنے آپ سے ملنے کرنے کے لیے بیشمار کونے ۔۔تو بس پھر، جدارا ہم آرہے ہیں۔ یہ اس شہر کا پُرانا نام ہے اور یہ ڈیکاپالیز کے دس شہروں میں سے ایک ہے

‎ یہاں ابھی تک جو میں نے دیکھا ہے، اس میں ایک مغربی تھیٹر، رومن چرچ اور اس کے ستون، رومن بازار و دُکانیں اور فوارہ نما غُسل گاہ ہے۔ ایک رومن سڑک ہے جس کے دو اطراف تباہ حال ستون ایستادہ ہیں۔ پھر جدارا کی خوبی اس کے چہار اطراف سے نظر آنیوالا نظارہ ہے۔ جولان کا منظر ہے۔ طبریا یا الجلیل کو دیکھا جا سکتاہے ۔۔ فلسطینی اور شامی ‘اپنا’ مُلک دیکھ سکتے ہیں۔ اسرائیل تو نظر آتا ہی ہے۔۔ مگر یہ صاف آسمان اور موسم پر منحصر ہے
سیاحوں کے رش کے باوجود یہاں سکون کا احساس ہوتا ہے۔ میں نے یہاں مختلف قومیتوں کے لوگوں کو بڑے سکون اور پُر اشتیاق انداز سے گھومتے اور تصویریں کھینچتے دیکھا۔

 
جدارا جُوں جُوں قریب ہوتا جاتا ہے، اُتنا ہی پیلے پھولوں کے تاج بیچتے بچے بڑے جا بجا دکھائی دیتے ہیں اور اکثریت یہ ہار نما تاج خرید کر اور سر پر جما کے جدارا میں گھومتی نظر آتی ہے۔ ہمارا شُمار چونکہ نا بچوں میں ہوتا ہے نا سیاحوں میں اور نہ ہی سولہ سالہ کسی الہڑ حسینہ میں تو اس لیے ہم نے اس سے اجتناب کیا۔۔ ویسے اسے پہننے میں عُمر کی کوئی قید نہیں۔
داخلی راستہ ایک بڑے صحن نُما میدان میں لے جاتا ہے جو کہ اصل میں پارکنگ بھی ہے، یہاں کھانے پینے کے سٹالز بھی ہیں اور کچھ اور مقامی طور پر تیار کی گئی چیزیں۔ اردنی لوگ عموماً خاندان کے ساتھ آتے ہیں اور گھوم پھر کر قریبی جنگلات میں بار بی کیو کرتے ہیں 
اس سٹال گاہ سے زینہ طے 

‎کرتے اوپر جائیں تو ٹکٹ گھر ہے اور سامنے دروازے سے اندر داخل ہونے کا راستہ۔۔ایک چیز جو مشاہدے میں آتی ہے کہ جو بچی کھچی پتھر کی سیڑھیاں یہاں ہیں وہ کافی چوڑی اور اونچی ہیں جو شاید اس بات کا مظہر ہیں کہ ‎

یہاں کے رہائشی قد آور مضبوط ڈیل ڈول کے لوگ تھے
صبح آنے کا فائدہ یہ ہے کہ تمام دن یہاں خانماںِ برباد ہوا جا سکتا ہے، خانماں برباد اس لیے کہ کھنڈرات میں کھِلے رنگین پھولوں سے زیادہ آگہی کیا ہو گی اور آگہی مکمل طور پر آباد نہیں رہنے دیتی۔

‎جدارا کا ایک منظر

    ‎اب چونکہ میں مثلِ عاشق بے چین ہوتی ہوں ایسی جگہوں کے سحر میں کھونے کو تو اکثر تصاویر کھینچنا بھول جاتی ہوں ورنہ کچے راستے پر چلتے نظر اُٹھا کے سامنے دیکھنے پر جو محسوس ہوتا ہے وہ ایسا ہے جیسے آپ اپنی ذات میں جھانکتے ہیں اور کچھ تباہ حال کچھ پُر تمکنت کچھ جلال اور کُچھ شکستگی دکھائی دیتی ہے۔ اور تحیر کی لپک بھی کہیں پہلو میں محسوس ہوتی ہے 

    اس ملے جُلے احساس کی ایک نسبتاً کم اچھے معیار کی تصویر

    آگے بڑھیں تو دائیں اور بائیں

    ‎دیکھیں اور اچانک وقت کے بہتے سیال میں

    خود کو ایک چھوٹا موٹا ذرہ محسوس کریں۔

     نہ بھی کریں تو خیر ہے۔ سچ تو سچ ہی رہے گا

    ‎بائیں جانب سے زیادہ یہاں داہنی جانب نظر

    جاتی ہے۔۔ یہ بلند و بالا سا مقام کیا ہے؟

    ویسٹرن تھیٹر ( مغربی تماشا گاہ)

    یہ رومن ایمفی تھیٹر ہے۔ ‎ایک راستہ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے جو تقریباً نیم اندھیرا زینہ ہے۔ سیڑھیاں پھلانگتے اوپر جائیں تو راستہ ایک نیم روشن راہداری سے ہوتا تھیٹر کی گول نشست گاہ میں کھُلتا ہے



    ‎یہ نسبتاً محفوظ حالت میں ہے یا کم از کم

    خیالات میں اسکے حشمت کے دنوں کا نقشہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ‎

    ذرا پتھروں کی بناوٹ دیکھیں اور ان سے پھوٹتا سبزہ اور ان پر جمی کائی دیکھیں ۔ یہی ہے وہ جگہ جہاں اُمرا کھیل تماشے دیکھنے آتے ہوں گے اور اب ہم اُنکی تاریخ کھنگالتے ہیں اور ہم بھی تو نقشِ پا ہی رہ جائیں گے جو اس شہر میں آئے۔ وقت کے تغافل و تبدل پر چلے اور پھر خود بھی اسی کا شکار ہو گئے



    ‎یہاں ناظر کے لیے نظارہ ہے، داخلی/خارجی دروازے ہیں، اور غرب رُو سڑک ہے جس کے ‏ ‏عین اوپر سورج ڈھلتا ہے اپنے شفق چہرے سے پھوٹتی کرنیں اس عجوبہ شہر پر اچھالتا ہے اور اگر آپ اس تھیٹر کی سب سے بلند نشستی قطار میں ہیں تو ‏ ‏یہ سورج مغرب میں نہیں، آپکے شہرِ دل میں کہیں اُتر جائے گا ۔۔ ہو سکتا ہے ۔۔ اس منظر کی چکاچوند میں آپ اپنی روح میں بھی جھانک سکیں


    ‎یہاں سے نکلے اور قدم آگے بڑھائے تو معلوم ہوا رومن بازار میں ٹہل رہے ہیں۔ دکانیں بیرک نما تھیں جن کے داخلی دروازے محرابی تھے


    ‎اور یہاں گھومتے ان ستونوں نے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی اور وہی ازلی تجسس جو مہمیز بھی کرتا ہے اور قدم بھی جکڑتا ہے۔ اب ان ستونوں کی کیا کہانی ہے کیا ماضی ہے؟ اس سوچ میں قدم آگے بڑھے۔ 

    کون تھے وہ بیوپاری اور خریدار جو یہاں بھاؤ تاؤ کرتے تھے۔ کہاں ہوئے۔ قیمتیں لگاتے، نفع نقصان سوچتے خود کیا کما لے گئے


    ‎یہاں اختتام پر راستہ دو جانب مڑتا ہے

    ‎ ہار فروش، آئس کریم اور مشروب فروش

    بھی ہجوم کا حصہ ہوتے ہیں اور اگر آپ گھوڑے پر سوار ہو کر اس جگہ کی سیر کرنا چاہیں تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے مگر دینار خرچ کیجئے ورنہ تو مالک محض تصویر بھی نہیں کھینچنے دے گا ۔۔ ہم نے مگر اپنے قدموں پر اکتفا کیا۔

    ‎ یہ ایک کھلی جگہ ہے اور چاہیں تو تھوڑا آگے بڑھ جائیں جہاں اونچے مقام سے آپ جولان دیکھیں اور شام دیکھیں یا اسرائیل دیکھیں اور اگر موسم اسکی اجازت نہیں دے رہا تو سیلفی لیجئے اور پسِ منظر کا تو کیا کہنا ۔۔ مجھے چونکہ منظر نگاری سے زیادہ اس فضا کو محسوس کرنے کی آرزو تھی سو میں منظر سراہتی محسوس کرتی آگے بڑھ گئی۔ اس کی یہ بھی وجہ ہے کہ میں یہاں ایک سے زائد بار آ چُکی ہوں

    ‎داہنی اور باہنی دونوں جانب پتھریلی سڑک ہے۔ مجھے چونکہ رومن گرجے / معبد کی پُراسراریت بُلاتی تھی تو میں دائیں جانب بڑھی 


    یہاں ٹوٹے ستون جا بجا بکھرے ہیں ایک جانب ان پتھروں کے ڈھیرمیں زینہ ہے جو چرچ کے بالائی دالان تک لے جاتا ہے جہاں مجھے جانا تھا اور اسکے سامنے قدیم فوارے کے آثار ہیں 

    فوارے کے باہر موجود نیمفیم کا تعارفی بورڈ

    اب یہاں سمجھ نہیں آتی کہ منقش ستونوں کو سراہا جائے، کاریگر کی مہارت کی داد دی جائے یا امتدادِ زمانہ کو بُرا بھلا کہا جائے جو نہ مُکمل حذف کرتا ہے نہ مُکمل برقرار رکھتا ہے۔ بُلندی سے بہرحال میں نے تصویر نگاری کی


    مندرجہ بالا تصویر میں اگرچہ واضح نہیں مگر طبریا، وادی یرموک اور جولان موجود ہیں اور یہاں سنگِ مرمر، بسالٹ سے بنے ستون بکھرے ہیں اور فوارہ ہے

    بالائی چرچ کی سیڑھیاں میں طے کر چُکی تھی اور یہاں اُلٹ پُلٹ پتھروں کے بیچ ‎

    ایک چکی جو آدھی سے زیادہ وقت کی چکی میں پِس کراپنی صورت کھو چُکی تھی۔ اُس پر نظر پڑی اور ایک خوش پوش خاتون جو دور بین تھامے گھومتی تھیں، ہمارا اشتیاق دیکھ کر شُستہ انگریزی میں گویا ہوئیں۔ بات یہ تھی کہ یہ چکی زیتون کا تیل نکالنے کےکام آتی تھی اور اسے جانور چلاتے یا گھماتے تھے


    ‎اور پھر میں نے نگاہ اُٹھائی تو ۔۔ واللہ ۔۔ اس منظر کا افسردہ فسوُں میرے دل میں بیٹھ گیا۔

    ( جاری ہے )

    Advertisements

    “Light is there”

    The crucifying curve of dying moon

    My soul screams in its mouth

    It pierces my throat with the pale flickering of its thin form

    And I find my voice walking on the pyre of hopes

    But there’s a name 

    It can salve the wounds

    It can maim the big body of darkness

    There’s a touch which can gouge the blindness of dreams

    I’ve to con my way to that immortality

    To nourish my thoughts 

    To heal my tiredness

    I want a morsel of beloved’s touch, 

    a feather of his blessed kiss 

    The silence coats my tongue with its sandpapery taste

    This knowing has become a thorny noose 

    And you know;

    This waning moon smells like a butcher’s knife

    I’m a lonesome tree in the desert of its cruel smile

    Though my pride is adamant

    My crown shivers for the nakedness of fear

    My heart could burn the forests of questions

    Yet the hell of distance can’t be doused by tears

    Though my certitude, my answers are meagre 

    In a contrite starved shape of inescapable love

    Light is there

    Light is there