ام قیس ۔ جدارا (حصہ دوم (


​​

 جیسے نگاہوں کے سامنے پردہ یک دم گر جائے اور سوال و جواب مجسم سامنے آ جائیں 

سوال۔ وقت کیا ہے کدھر جاتا ہے

جواب۔ بے نوا دوست ہے۔ جسکا کوئی پڑاؤ ٹھکانہ نہیں

اور سامنے ایک بھرپور دور کے تاراج کھنڈر اپنی زمانہ ساز نگاہوں سے مجھے ٹٹولتے تھے اور کہتے تھے کیسا لگ رہا ہے ؟

ہم کبھی اوج تھے، عبادات و رسومات کے شاہد، اب خود نظارہ ہیں، پُر شکوہ مگر شکستہ ۔۔ تو کیسا لگ رہا ہے؟


یہ معبد اور اس سے ملحقہ میدان ہے جس کے اردگرد سفید پتھر کی ستون ہیں مگر آٹھ ستونی معبد نما گرجا سیاہ بسالٹ سے بنا ہے اور جُدا نظر آتا ہے اس کے فرشی پتھر بھی اپنے آرائشی نقوش میں جُدا ہیں 



‏یہ سُرخ، سفید اور پیلے پھولوں کے گچھے معبد شروع ہونے سے پہلے بالائی دالان پرچوکور پتھروں کے بنے فرش اور دیواروں سے جھانکتے ہیں 

اور لگتا ہے 

Gustav Klimt کا زندہ شاہکار ہیں



میں اس معبد کے بیچ سیاہ ستونوں کے بیچ کھڑی ٹائم ٹریول کے بارے سوچنے لگی ۔۔۔’اے کاش ‘



‘ہزاروں خواہشیں ایسی ‘ ایک ایسا فلسفہ ہے جو ہر انسان سمجھتا ہے کیونکہ خواہش کی کوئی لگام نہیں، ارمان پہ کوئی اختیار نہیں۔۔ 


میں نے چہار اطراف نظر دوڑائی، لوگ خوش گپیوں میں مشغول تھے کوئی تصاویر کھینچتا تھا اور کوئی اپنی خوبصورت ساتھی کے کان میں مُسکرا کر سرگوشی کرتا تھا تو کوئی بچوں کی شرارتوں پہ بگڑتا تھا۔



پیشتر اسکے کے آگے بڑھتی مجھے ہجوم کا کچھ حصہ مغربی تھیٹر جو دیکھ آئے تھے کی جانب جاتا محسوس ہوا
وقت کی دولت ہی تو ہوتی ہے ہم جیسوب کے پاس لٹانے کو ۔۔ سو ہم بھی پلٹے کیونکہ

‏اگر آپ کسی قدیم منہدم شہر میں گھوم پھر رہے ہیں اور اچانک وہاں کے روایتی گیت کی آواز سُنتے ہیں جس میں ترنگ ہےاور قدم سے قدم ملانے کی آواز تو آپ فورًا لپکتے آگے بڑھتے ہیں اور آواز کے ماخذ تک پہنچتے ہیں وہاں پہنچے تو چند اردنی نوجوان مقامی رقص کر رہے تھے، گیت کے بول قدیم عربی میں تھے۔۔ وہ مُسکراتے ناچتے ایک دائرے میں گھومتے تھے اور ایک نوجوان اپنے کیمرہ سے یہ منظر محفوظ کر رہا تھا۔۔


‏یہ جنگل میں منگل والا کام ہو گیا تھا ۔۔ خود کو 

Roman nobility سمجھتے ہوئے ہم نے یہ پرفارمنس دیکھی ۔۔ 

سورج ابھی بام پر روشن تھا۔ پرانے تھیٹر میں نئے دور کا انسان ناچتا گاتا تھا ۔۔ زندگی باقی ہے رواں ہے۔۔ میرا دل بھی ایک انجانی مسرت سے بھر گیا اور آنکھیں کسی انجانے خیال سے بھیگ گئیں۔ قبل اسکے دو متضاد ایک وجود میں کھلبلی مچاتے میں اس منظر سے الگ ہو گئی۔ مزید ٹھہرنا راکھ کریدنے سا تھا


زینہ طے کرتے ساز عود کی آواز نے سماعت کو گدگدایا زینہ طے کرتے ساز عود کی آواز نے سماعت کو گدگدایا ‏آواز کی سمت میں گئے تو دیکھا کہ ذینے کی جانب دو حضرات مدھم تانیں اور سُر بکھیرتے سامعین کو محظوظ کر رہے تھے زینہ سرد تھا اور لکڑی کی سلاخوں سے جھانکتی میں اس الاپ کی کشش سے مجسمِ بُت تھی اور لوگ جو لطف اندوز ہو رہے تھے وہ بھی چُپ تھے

مکمل خاموشی میں مفتوح احساس و دل لیے ہر کوئی مسکراتا تھا۔۔ اور یہ وہ مُسکراہٹ تھی جسکی خوشی یا حُزن میں درجہ بندی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے ان دو عرب تان سین حضرات کو ‏تالیوں اور کے نعروں  کے زریعے اپنی پسندیدگی سے آگاہ کیا جس سحر نے قدم، دل اور کلام جکڑا تھا اس سے خود کو آزاد کیا اور سچے تماش بین کیطرح اگلی منزل کو چلے

منزل تو نہیں کہنا چاہیے ۔۔ راستہ کہنا چاہیے ۔۔مجھے اس جگہ کی چاشنی اور کٹھور پن، دونوں کو محسوس کرنا تھا ۔۔ جس کے لیے مجھے نسبتاً کم رش والے یا تنہا مقام کی تلاش تھی 



یہ بھری دوپہر تھی اور حدت وحشی تھی بعض کونے تو باقاعدہ وحشت تھے اور کچھ اپنی ذات کا ویرانہ بھی تھا۔ دونوں کا اختلاط حواس پر چھاتا تھا ۔۔ اسی نشے کو پورا کرنے ہم ہجوم سے الگ بھٹکتے تھے

کچھ کونے کھدرے تنہا تھے۔۔ اور ہمیں پیارے تھے۔ لوگ یہاں اتنی دلچسپی نہیں لے رہے تھےگرمی یا شکست و ریخت کے سبب یہاں خوبصورت سیلفیز کے مواقع نہ ہونا ایک وجہ ہو سکتی ہے۔



 سو ہم 

نے ‏یہاں سے گُزرتے ‘گلیاں ہو جان سُنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے’ میں اپنے حساب سے ردو بدل کرکے ‘گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ ہیر سلیٹی پھرے’گایا

یہ غالباً ٹوٹا ہوا مکان تھا ۔۔ کبھی کسی کا گھر رہا ہو گا


‏اس قدیم، متروک مگر ہُمکتے شہر کو تقریباً اسکی اصلی حالت میں رکھا گیا ہے، بنی کُنانہ کے زیر انتظام اسکی دیکھ بھال ہے کچھ ویران کونوں میں ‏جب آپ تنہا کھڑے ہو کے اس شہر کی اجڑی شان، اونچائی، تخلیقی پہلو سے عمدہ نقوش اور فنِ تعمیر کو محسوس کرتے ہیں تو وقت سرگوشی میں کہتا ہے ‏”کون ہے جو میرے قدم سے قدم مِلا کر چل پایا ہے، کس نے میرے اتارے زوال سے شکست نہیں کھائی؟ اور انسان اپنی ہست پر سوالیہ نشان محسوس کرتا ہے


حدت اور بادلوں کے سائے اٹھکیلیاں کرتے تھے اور دھوپ چھاؤں کا کھیل چلتا تھا ہم بھی چلتے تھے اور ایک شعر کی تفسیر کو اپنے آس پاس دم سادھے کھڑا دیکھتے تھے

‏اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا 

‏سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا


‏یہ اُداسی اور چُپ کی بھول بھلیاں ہیں، ایسی خامشی تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی بات کر کے سکوت توڑنا نہیں چاہتا تھا


‏کچھ دیر کے لیے میرے منتشر خیال بھی اس لُکن مٹی کھیلتی گزشتہ شان و شوکت کی جھلکیوں اورموجودہ ویرانی پر مرتکز ہو گئے۔۔اس ماحول کی اپنی بولی ہے

اس شہر سے ایک معجزہ بھی جُڑا ہے جو حضرت عیسی کے دور میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انہوں نے یہاں ردِ آسیب و شیطان کیا۔ ایک مخبوط الحواس شخص جو یہاں رہتا تھا اسکو شفایاب کیا اور بُرے سائے، خنازیر کی صورت بھاگ کھڑے ہوئے

فی الوقت ہم اس شہر کی باقیات کھنگالتے چلتے تھے اور اس شہر کے لکھاریوں اور فلسفیوں کے بارے سوچتے تھے جن  کا شمار اپنے وقت کے بہترین اور مشہور میں کیا جا سکتا ہے۔شنید ہے کہ یہاں سے بہت تجارتی راستے گُزرتے تھے اور یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ رومن فنِ تعمیر کے نمایاں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر نےاپنا عروج رومن دور میں دیکھا۔ ۶۳ بی سی میں رومن یہاں آئے۔ بعد ازیں یہ شہر زلزلے سے تباہ ہوا اور تب سے تقریباً بے آباد ہے یہ جنگ ِ یرموک کے بعد کا واقعہ ہےاس کے طرزِ تعمیر کی ایک اور خاص بات پانی کی فراہمی و ترسیل ہے۔یہ مربوط نظام اب بھی اپنے آثار ظاہر کرتا ہے اور اگر آپ دیدۂ بینا رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ کافی بہترین انتظام ہو گا دیدۂ بینا کا استعمال تو میں نے کیا مگر اتنا نہیں کہ ان آثار کی تصاویر بھی لیتی ۔۔ ماحول کی قدامت کا اثر ہو گا یقیناً ۔۔

ایسی کئی روزن ہیں جنہیں ہم سمجھ نہیں سکے۔۔ ایک بچہ مگر سمجھنے کی کوشش میں یہاں چھلانگ لگانے ہی والا تھا کہ اپنی اماں اور ابا کی پکڑ میں آ گیا اور خاطر خواہ دھلائی سے فیض یاب ہوا ۔۔۔ بیجا تجسس اکثر ایسے ہی نتائج دیتا ہے۔۔ ہم بڑوں کے لیے یہ عموماً مان یا دل ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے

خیر اب جو سیماب صفت ہیں وہ کیا کریں ۔۔۔ ہماری طرح ہر تجسس کی انگلی تھامے چلیں۔۔ سو ہم بھی چلتے چلے


)جاری ہے (

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s