خوشبو

سولہ برس پُرانی خوشبو 
زندہ ہوئی ہے 

سینے میں جو اک چراغ جلتا تھا

جہاں اب کارخانۂ زیست چلتا ہے

اُس بنیاد سے اُٹھی ہے

 یہ دلگیر افتاد

میری روح کا پہلا مظہر

میری ذات کا پہلا کشف تھی

اسی خوشبو میں وداع کیا تھا 

میں نے حجاب کا پہرہ 

اس خوشبو کا تعویذ

میرے لبوں کی رنگت بدلتا تھا

میری شفافیت میں گھُلی تھی

اس خوشبو کی تسبیح

اس خوشبو میں لپٹے تھے

سجدے میری خواہش کے

اب اُٹھی ہے پھر 

اپنا یکتا جمال لیے

بھوُلا ہوا آزار لیے 

میری وحشت کی گلیوں میں

ناز سے چلتی ہوئی 

تنفس کی معمول زدہ سیلن میں 

شعلہ رکھتی ہوئی

میرا گُریز پامال کرتی 

صحیفۂ ابدیت پر لکھے اقرار سے

اُٹھی ہے یاد کے نامہرباں دیار سے

سولہ برس پُرانی خوشبو ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s