Pitfall

I’m drawn to ruins,

which are more compact than life.

I’m summoned by the wild darker nights,

which travel from heaven to the petals of jasmine,

Nights which live in the irises of thirsty tribal women.

I live for that moment, that regular opening of miracle,

When the sun blooms on the eastern horizon,

Heralding the beginning of the magic

Which withers as a day walks by to the western shores,

I merged my joy & sorrows into that sea of fleetingness.

I’m into small moments of openness

Which build a mirror between two souls

Which don’t bow to set patterns & stale language.

I’m that ephemeral who nurtures her own features

Who isn’t seduced by the culture of one life & death.

Do you know what’s ephemeral ?

It’s the sense of having all,

Feeling & touching all,

Yet travelling to new essences & meanings.

I’m to write an odyssey of all that can’t be caught in words

And I’m to write life, its cunning & capitulation,

And I told you I’m drawn to ruins!!

Advertisements

بچا کیا ہے وضاحتوں کے سوا

بچا کیا ہے وضاحتوں کے سوا

تعلق نہیں رہا قباحتوں کے سوا

دل کی دربدری ہی اچھی تھی

وصل ملا ہے راحتوں کے سوا

کوئی پڑاؤ مستقل نہیں رہتا

ٹھہراؤ نہیں ہوا آفتوں کے سوا

خاموشی کو فراموشی نہ کہہ

اپنا کیا ہے رفاقتوں کے سوا؟

حقِ جنوں تو زباں بندی ہے

کلام نہیں کرتا علامتوں کے سوا

کیا داستاں پڑھیں ہمنواؤں کی

کچھ نہیں درج رقابتوں کے سوا

شعور کو شوق ہے تنہا اڑان کا

کوئی چارہ نہیں حمایتوں کے سوا

وہ محبوب سے خدا ہوا تو ہم

دامن جھاڑ چلے حاجتوں کے سوا

تھکن

کسی دن بیٹھ کر صبح کے چوراہے میں

اپنی خاموش کڑھتی

گرم سیل بہاتی آنکھوں کا طوق اتاریں گے

اور ساری روشنی

تمھارے خد و خال پر نچھاور کریں گے

زباں بندی سے جو

روح پر آبلے ہیں

اُن کی سرکش دہائی بادِ صبا میں لپیٹ کر

ہر حد کے پار بھیجیں گے

اور تمھارا نام مرہم کی طرح

پکاریں گے

قبائے انا کے سب تار

کھول کر

تمھارے لیے رقصِ جنوں کریں گے

تمھیں، تمھاری محفل میں انجان کریں گے

اپنے سلاسل سے نکلیں گے

تمھارے اپنے ممکنات یکجا کریں گے

دو کنارے ، ایک کشتی میں بھر کر سمندر پار کریں گے

مگر اس لمحے، اس زندگی میں

تم سے پناہ چاہتے ہیں

نباہنے والے اب نجات چاہتے ہیں

شکست کے ملال کو بوسہ

مسافت کی طوالت ہے ایسی

کہ وصل کا پارس تو کیا میسر ہو

ہجر بھی کامل خسارہ نہیں

میں خود اپنی تلاش میں ہوں

زمانے کو یہ اہتمامِ شوق گوارا نہیں

تمھارے جسم کا ساحر چراغ ہو

یا روح کی پشیمان کرتی سادہ لوحی

میری طلب یک پہلو نہیں

میری حد کو گناہ ثواب کا گوشوارہ نہیں

ساتھ چلنا ہو یا الگ بھٹکنا ہو

کنارا ڈھونڈنا ہو وحشت کا

یا منجدھار میں جنوں اچھالنا ہو

ہنستے ہوئے خاک بر ہونا ہو

کہ راکھ میں نارِ جہنم پالنا ہو

کسی بہشت کو تو سلیقۂ انتہا ہو

کوئی گھڑی تو آئے پوری شان سے

کسی افق سے کوئی بولے

میرے دامن میں کوئی ٹوٹتا تارہ نہیں

گورنشیں کو ازبر ہے گریۂ آرزو

یا زندگی بنجر خواب ہے

میرا راز مجھ پر نہیں کھلتا

میرا اذنِ کُن بھی رائیگاں ہے

میری صدائے فغاں بھی زیاں کوش

کیا کہوں کہ

جیون جال تنگ ہوتا جاتا ہے

اور مزاجِ اجل رسم آرا نہیں

ہو سکتا ہے میری بنیاد دہل گئی ہو

یا میرا آسماں قیامت پکارا ہو

کچھ ہار گیا ہے مجھ میں

و گرنہ میں تو کبھی ہارا نہیں

دھندلکا

‫ممکن ہے‬
وقت کا سحر تمھارے انتظار نے باندھا ہو 

ممکن ہے

معمول کی کلائی پر

ویران دل درگاہ کی دیوار پر

کسی نئے منتر کا

کسی نئی منت کا

سُرخ دھاگہ لہلہاتا ہو 

ممکن ہے

‫جس کو تم اپنی اسیری کہتے ہو

اس کی گرفت میں

خاموش رہتا راز ہمارا ہو

‫ممکن ہے 

حُسن کا، ادا کا شجر ہرا بھرا بس یونہی ہو

اور دھیان میں اُسکے سایہ تمہارا‫ ‬ہو

ممکن ہے

گلی کوچوں میں، زندگی میں 

بھاگتے رہنامحض دکھاوا ہو

ممکن ہے

ہر قدم اپنی آمادگی میں

ہر ٹھہراؤ اپنی سادگی میں

تمھارے ‫د‬ر تک آیا‫ ‬ہو


خوشبو

سولہ برس پُرانی خوشبو 
زندہ ہوئی ہے 

سینے میں جو اک چراغ جلتا تھا

جہاں اب کارخانۂ زیست چلتا ہے

اُس بنیاد سے اُٹھی ہے

 یہ دلگیر افتاد

میری روح کا پہلا مظہر

میری ذات کا پہلا کشف تھی

اسی خوشبو میں وداع کیا تھا 

میں نے حجاب کا پہرہ 

اس خوشبو کا تعویذ

میرے لبوں کی رنگت بدلتا تھا

میری شفافیت میں گھُلی تھی

اس خوشبو کی تسبیح

اس خوشبو میں لپٹے تھے

سجدے میری خواہش کے

اب اُٹھی ہے پھر 

اپنا یکتا جمال لیے

بھوُلا ہوا آزار لیے 

میری وحشت کی گلیوں میں

ناز سے چلتی ہوئی 

تنفس کی معمول زدہ سیلن میں 

شعلہ رکھتی ہوئی

میرا گُریز پامال کرتی 

صحیفۂ ابدیت پر لکھے اقرار سے

اُٹھی ہے یاد کے نامہرباں دیار سے

سولہ برس پُرانی خوشبو ۔۔۔

سرِ ہجر جیا جا سکتا ہے

سرِ ہجر جیا جا سکتا ہے 

یہ شوق جھیلا جا سکتا ہے

مائل بہ سُخن نہیں وہ، گر

اُنہیں شعر کیا جا سکتا ہے

اُن سے کیسی بازی گری؟

اُن سے ہارا جا سکتا ہے

وہ چشم، سحرِ سیاہ ہے

خوُد کو بھوُلا جا سکتا ہے

جُنوں، تشنہ لب ضدی ہے 

صبر اثیر پیا جا سکتا ہے

قلب نہاں تحت پائے جاناں

خاک است ہوا جا سکتا ہے

آزَرِ آرزوُ ہے عشق، خُدایا

اِسے رام کیا جا سکتا ہے؟