استثنا 

وقت کے مور پنکھ 
کتاب کے پسندیدہ اوراق میں

تا ابد بچھا سکتے ہو؟

کچی دیوار پر جب

بارش کا کانچ ٹوٹے

یا قدحِ شب میں

مئے نجوم چھلکے

تو ٹوٹنے اور چھلکنے کے 

کوئی آداب بتا سکتے ہو؟

خوشبو کے پہلے مست قدم کو 

وصل کے جنوُں کو

کیا قرینہ سکھا سکتے ہو؟

پہلی محبت کی شکست کو

کُچھ مداوا سمجھا سکتے ہو؟



Advertisements

فنا فی عشق

یہ جو نمازِ شوق میں عُمر سے گھرا ہوا ہوں

دُعا کی ہتھیلی میں کلامِ جنوں لیے

ایک ہی شخص کے سامنے جُھکا ہوا ہوُں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

یہ جو مکینِ عیون ہیں، جگنو نمدار سے 

خاکِ جان میں تو رواں رہتے ہیں نار سے

ہجر کی سخاوت سے کنارے تک بھرا ہوا ہوں 

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

یہ جو وحشی سی کمی ہے، کیا کمی ہے؟

وجود کی بے ثباتی میں یہی تو کھری ہے

عدم کی چاہ میں میسر کا مُنکر ہوا ہوں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

اب جُدائی ممکن نہیں رہی ہے

اب میں کو تُم لکھ رہا ہوں

اب تُم کو میں پڑھ رہا ہوں

میں فنا فی عشق ہوا ہوں

پردیس میں۔۔۔

ہر تیرگی سے اُلجھ کر جیتا ہے تیرے چہرے کا نور


ہر بزم میں چراغاں ہے تیرے خیال کے سائے کا

ہر خلوت میں رُوبرو ہے تیری چشم کی اُکساتی لو

ہر رُخسار پہ جگمگاتا ہے تیری جدائی کا آنسو 

ہر خمِ لب پر چھلکی ہے تیری پیاس کی ضیا

ہر جسم سے اُٹھا ہے تیری جانب کوئی بانہیں پھیلائے

ہر روح کے دشت میں تیرے ساون کی پیاس ہے

گلیاں تیرے قدموں کی امید سے مخمل ہیں

ہوا تیری خوشبو کے بوسے کھوجتی دیوانی ہے

آسمان تیرے لیے شمس و قمر کی نیاز لیے جھکتا ہے

میں یہاں بھی تیرے عشق میں تونگر ہوں

میں یہاں بھی تیرے لیے سر تا پا کشکول ہوں

تُو یونہی میرا محرم و غنی ہے

میں یونہی تیرا محروم و مفلس ہوں

تجھ سے کچھ بھی مبرا نہیں 

اور میں تجھ سے ابھی بھی بھرا نہیں

چوتھا بعد

‎میں تمھارے ساتھ
‎وہ آنسو رو سکتی ہوں

‎وہ آہیں کراہ سکتی ہوں

‎جو روح کے آئینے میں

‎درِ جسم سے جھانکتی ہیں

‎جو خاموش تازیانہ ہیں

‎ہجر کا ہرجانہ ہیں

‎میں تمھارے لیے

‎وہ حاشیے مٹا سکتی ہوں

‎وہ گرہیں کھول سکتی ہوں

‎جو وقت نے راستوں پر

‎نوکِ جبر سے کھینچیں

‎جو فیصلوں کے نطق میں

‎لکھی گئیں

‎جو درد رہیں جو دار ہوئیں

‎میں تمھارے ساتھ حجاب بانٹ سکتی ہوں

‎اور ظاہر جھٹلا سکتی ہوں

‎ میں تمھاری ہر حد تک جا سکتی ہوں 

‎میں تمھیں اپنا مرکز بنا سکتی ہوں

‎میں تمھارے لیے پھر سے

‎وجود پا سکتی ہوں

اور چاہو تو عدم تک آ سکتی ہوں 


ایک منظر کا قیدی

سُنہری بوسے اکتوبر کی دھوپ کے

جب اُسکی جل جام

آنکھوں کے رنگ کو

نرم لمس سے سرشار کرتے ہیں

میری روح کی خواہش ادا کرتے ہیں

دل کی آشفتہ مزاجی کو رام کرتے ہیں

تیرگیِ جاں کو منور جہاں کرتے ہیں

سُنہری بوسے اکتوبر کی دھوپ کے۔۔۔۔

وجد

اپنی یکتائی سے بہل

گئی تنہائی 

اک محبوب حُزن سے ملی 

گہری شناسائی

جاں کے ذرے ذرے میں

وافر ہے اب تو

چھومنتر رہی جو پرچھائی 

فاصلہ، انتہا کے

ہاتھ رکھ چُکے ہو، رکھو!

ہم تسلیم کے خیمے

سی چُکے ہیں، دیکھو!

کوئی نئے پانیوں کا ناسمجھ خوش پوش 

کوئی گھر میں بھی خانہ بدوش

ہر آرزو سے روپوش

سپردگی

تفصیل سے، بنا ترمیم کے

چھو لوں، چوم لوں پردے

اپنے حسیں کے

لکھ دوں اُس کے نام

سارے سچ آسماں و زمیں کے

جُرعہ جُرعہ اتاروں خود میں

جُز جُز اس میں رواں ہو جاؤں

آغاز کے،اختتام کے 

حد کے، انتہا کے

جھمیلوں سے

جُدا رہوں

ترتیب کے، اختصار کے

ربط کے، روانی کے

سب سبق بُھلا رہوں

میں نہ سوچوں منزل

میں نہ جانوں رستہ

میں نہ چاہوں اُڑان

میں نہ مانگوں حلقہ

منہا کردوں گزشتہ حوالے 

منتشر کر دوں فکری پیمانے

لوٹ جاؤں اس میں

سمیٹ کر لے آؤں خود میں

تفصیل سے، بنا ترمیم کے

چھو لوں چوم لوں پردے

اپنے حسیں کے

لکھ دوں اُس کے نام

سارے سچ آسماں و زمیں کے