“You”

Reason of my being

Rhyme of my soul

You propel me against my odds

You catch & cure me when I fall like leaves

You nourish me with the Spring of your love 

You, my anchor, my disruptor

You command the sun to set on my lips

You, in the rise of the colour of my cheeks

You’re the mirror I pour myself into

You’re the gaze I recollect my shape from 

You’re my elements, I’m whole in you

You, my beyond, my enclosed 

You’re my fiery dark, hidden from all

You’re the light, singing below my neck

In the gleam of my jewellery you’re my youth

In the flush of my skin you speak warmth 

You, my inebriety, my sobriety  

Heaven has showered me with fertile rain 

Threads of bliss have sewn my wounds

In your touch I feel my resurrection 

In your kisses I have my resuscitation

You, my eternal kin, my holy sin

Advertisements

“I’ll not write to you”

The womb of patience stretches darkly,
In the manner of an anxious ocean,

Ready to devour the fallen moon. 

If my words could’ve a soul,

While I am writing to you;

She will renounce her cloak of shyness.

Like someone recovered from dyslexia, 

She will be with a sharp euphoric taste of clarity.

There, you will see me at my pinnacle, 

Every piece & breath set & torn for you.

You will touch the gashes, silence had inflicted.

You’ll see;

How in a day centuries walk by,

How the waiting soil of hopes trembles.

You’ll learn,

The pointed heels of time have no mercy.

You, my canvas, have no mercy,

You don’t let me spread in all my colours,

You don’t let me complete my picture.

I’m incoherent like a thirst-riddled man,

For whom, there is no configuration of peace,

On his parched tongue, a new language emerges

It’s fear coated in yearning before everything turns blank.

Yet, How you’ll know? 

How you’ll know?

I’m not going to write to you; 

You’re a fabled home in a magic land,

There’s no secret door to you

Except my heart.

But,

The womb of patience has burst 

And devoured me.

ام قیس ۔ جدارا (حصہ دوم (


​​

 جیسے نگاہوں کے سامنے پردہ یک دم گر جائے اور سوال و جواب مجسم سامنے آ جائیں 

سوال۔ وقت کیا ہے کدھر جاتا ہے

جواب۔ بے نوا دوست ہے۔ جسکا کوئی پڑاؤ ٹھکانہ نہیں

اور سامنے ایک بھرپور دور کے تاراج کھنڈر اپنی زمانہ ساز نگاہوں سے مجھے ٹٹولتے تھے اور کہتے تھے کیسا لگ رہا ہے ؟

ہم کبھی اوج تھے، عبادات و رسومات کے شاہد، اب خود نظارہ ہیں، پُر شکوہ مگر شکستہ ۔۔ تو کیسا لگ رہا ہے؟


یہ معبد اور اس سے ملحقہ میدان ہے جس کے اردگرد سفید پتھر کی ستون ہیں مگر آٹھ ستونی معبد نما گرجا سیاہ بسالٹ سے بنا ہے اور جُدا نظر آتا ہے اس کے فرشی پتھر بھی اپنے آرائشی نقوش میں جُدا ہیں 



‏یہ سُرخ، سفید اور پیلے پھولوں کے گچھے معبد شروع ہونے سے پہلے بالائی دالان پرچوکور پتھروں کے بنے فرش اور دیواروں سے جھانکتے ہیں 

اور لگتا ہے 

Gustav Klimt کا زندہ شاہکار ہیں



میں اس معبد کے بیچ سیاہ ستونوں کے بیچ کھڑی ٹائم ٹریول کے بارے سوچنے لگی ۔۔۔’اے کاش ‘



‘ہزاروں خواہشیں ایسی ‘ ایک ایسا فلسفہ ہے جو ہر انسان سمجھتا ہے کیونکہ خواہش کی کوئی لگام نہیں، ارمان پہ کوئی اختیار نہیں۔۔ 


میں نے چہار اطراف نظر دوڑائی، لوگ خوش گپیوں میں مشغول تھے کوئی تصاویر کھینچتا تھا اور کوئی اپنی خوبصورت ساتھی کے کان میں مُسکرا کر سرگوشی کرتا تھا تو کوئی بچوں کی شرارتوں پہ بگڑتا تھا۔



پیشتر اسکے کے آگے بڑھتی مجھے ہجوم کا کچھ حصہ مغربی تھیٹر جو دیکھ آئے تھے کی جانب جاتا محسوس ہوا
وقت کی دولت ہی تو ہوتی ہے ہم جیسوب کے پاس لٹانے کو ۔۔ سو ہم بھی پلٹے کیونکہ

‏اگر آپ کسی قدیم منہدم شہر میں گھوم پھر رہے ہیں اور اچانک وہاں کے روایتی گیت کی آواز سُنتے ہیں جس میں ترنگ ہےاور قدم سے قدم ملانے کی آواز تو آپ فورًا لپکتے آگے بڑھتے ہیں اور آواز کے ماخذ تک پہنچتے ہیں وہاں پہنچے تو چند اردنی نوجوان مقامی رقص کر رہے تھے، گیت کے بول قدیم عربی میں تھے۔۔ وہ مُسکراتے ناچتے ایک دائرے میں گھومتے تھے اور ایک نوجوان اپنے کیمرہ سے یہ منظر محفوظ کر رہا تھا۔۔


‏یہ جنگل میں منگل والا کام ہو گیا تھا ۔۔ خود کو 

Roman nobility سمجھتے ہوئے ہم نے یہ پرفارمنس دیکھی ۔۔ 

سورج ابھی بام پر روشن تھا۔ پرانے تھیٹر میں نئے دور کا انسان ناچتا گاتا تھا ۔۔ زندگی باقی ہے رواں ہے۔۔ میرا دل بھی ایک انجانی مسرت سے بھر گیا اور آنکھیں کسی انجانے خیال سے بھیگ گئیں۔ قبل اسکے دو متضاد ایک وجود میں کھلبلی مچاتے میں اس منظر سے الگ ہو گئی۔ مزید ٹھہرنا راکھ کریدنے سا تھا


زینہ طے کرتے ساز عود کی آواز نے سماعت کو گدگدایا زینہ طے کرتے ساز عود کی آواز نے سماعت کو گدگدایا ‏آواز کی سمت میں گئے تو دیکھا کہ ذینے کی جانب دو حضرات مدھم تانیں اور سُر بکھیرتے سامعین کو محظوظ کر رہے تھے زینہ سرد تھا اور لکڑی کی سلاخوں سے جھانکتی میں اس الاپ کی کشش سے مجسمِ بُت تھی اور لوگ جو لطف اندوز ہو رہے تھے وہ بھی چُپ تھے

مکمل خاموشی میں مفتوح احساس و دل لیے ہر کوئی مسکراتا تھا۔۔ اور یہ وہ مُسکراہٹ تھی جسکی خوشی یا حُزن میں درجہ بندی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے ان دو عرب تان سین حضرات کو ‏تالیوں اور کے نعروں  کے زریعے اپنی پسندیدگی سے آگاہ کیا جس سحر نے قدم، دل اور کلام جکڑا تھا اس سے خود کو آزاد کیا اور سچے تماش بین کیطرح اگلی منزل کو چلے

منزل تو نہیں کہنا چاہیے ۔۔ راستہ کہنا چاہیے ۔۔مجھے اس جگہ کی چاشنی اور کٹھور پن، دونوں کو محسوس کرنا تھا ۔۔ جس کے لیے مجھے نسبتاً کم رش والے یا تنہا مقام کی تلاش تھی 



یہ بھری دوپہر تھی اور حدت وحشی تھی بعض کونے تو باقاعدہ وحشت تھے اور کچھ اپنی ذات کا ویرانہ بھی تھا۔ دونوں کا اختلاط حواس پر چھاتا تھا ۔۔ اسی نشے کو پورا کرنے ہم ہجوم سے الگ بھٹکتے تھے

کچھ کونے کھدرے تنہا تھے۔۔ اور ہمیں پیارے تھے۔ لوگ یہاں اتنی دلچسپی نہیں لے رہے تھےگرمی یا شکست و ریخت کے سبب یہاں خوبصورت سیلفیز کے مواقع نہ ہونا ایک وجہ ہو سکتی ہے۔



 سو ہم 

نے ‏یہاں سے گُزرتے ‘گلیاں ہو جان سُنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے’ میں اپنے حساب سے ردو بدل کرکے ‘گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ ہیر سلیٹی پھرے’گایا

یہ غالباً ٹوٹا ہوا مکان تھا ۔۔ کبھی کسی کا گھر رہا ہو گا


‏اس قدیم، متروک مگر ہُمکتے شہر کو تقریباً اسکی اصلی حالت میں رکھا گیا ہے، بنی کُنانہ کے زیر انتظام اسکی دیکھ بھال ہے کچھ ویران کونوں میں ‏جب آپ تنہا کھڑے ہو کے اس شہر کی اجڑی شان، اونچائی، تخلیقی پہلو سے عمدہ نقوش اور فنِ تعمیر کو محسوس کرتے ہیں تو وقت سرگوشی میں کہتا ہے ‏”کون ہے جو میرے قدم سے قدم مِلا کر چل پایا ہے، کس نے میرے اتارے زوال سے شکست نہیں کھائی؟ اور انسان اپنی ہست پر سوالیہ نشان محسوس کرتا ہے


حدت اور بادلوں کے سائے اٹھکیلیاں کرتے تھے اور دھوپ چھاؤں کا کھیل چلتا تھا ہم بھی چلتے تھے اور ایک شعر کی تفسیر کو اپنے آس پاس دم سادھے کھڑا دیکھتے تھے

‏اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا 

‏سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا


‏یہ اُداسی اور چُپ کی بھول بھلیاں ہیں، ایسی خامشی تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی بات کر کے سکوت توڑنا نہیں چاہتا تھا


‏کچھ دیر کے لیے میرے منتشر خیال بھی اس لُکن مٹی کھیلتی گزشتہ شان و شوکت کی جھلکیوں اورموجودہ ویرانی پر مرتکز ہو گئے۔۔اس ماحول کی اپنی بولی ہے

اس شہر سے ایک معجزہ بھی جُڑا ہے جو حضرت عیسی کے دور میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں انہوں نے یہاں ردِ آسیب و شیطان کیا۔ ایک مخبوط الحواس شخص جو یہاں رہتا تھا اسکو شفایاب کیا اور بُرے سائے، خنازیر کی صورت بھاگ کھڑے ہوئے

فی الوقت ہم اس شہر کی باقیات کھنگالتے چلتے تھے اور اس شہر کے لکھاریوں اور فلسفیوں کے بارے سوچتے تھے جن  کا شمار اپنے وقت کے بہترین اور مشہور میں کیا جا سکتا ہے۔شنید ہے کہ یہاں سے بہت تجارتی راستے گُزرتے تھے اور یہ شہر مختلف سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ رومن فنِ تعمیر کے نمایاں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس شہر نےاپنا عروج رومن دور میں دیکھا۔ ۶۳ بی سی میں رومن یہاں آئے۔ بعد ازیں یہ شہر زلزلے سے تباہ ہوا اور تب سے تقریباً بے آباد ہے یہ جنگ ِ یرموک کے بعد کا واقعہ ہےاس کے طرزِ تعمیر کی ایک اور خاص بات پانی کی فراہمی و ترسیل ہے۔یہ مربوط نظام اب بھی اپنے آثار ظاہر کرتا ہے اور اگر آپ دیدۂ بینا رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ کافی بہترین انتظام ہو گا دیدۂ بینا کا استعمال تو میں نے کیا مگر اتنا نہیں کہ ان آثار کی تصاویر بھی لیتی ۔۔ ماحول کی قدامت کا اثر ہو گا یقیناً ۔۔

ایسی کئی روزن ہیں جنہیں ہم سمجھ نہیں سکے۔۔ ایک بچہ مگر سمجھنے کی کوشش میں یہاں چھلانگ لگانے ہی والا تھا کہ اپنی اماں اور ابا کی پکڑ میں آ گیا اور خاطر خواہ دھلائی سے فیض یاب ہوا ۔۔۔ بیجا تجسس اکثر ایسے ہی نتائج دیتا ہے۔۔ ہم بڑوں کے لیے یہ عموماً مان یا دل ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے

خیر اب جو سیماب صفت ہیں وہ کیا کریں ۔۔۔ ہماری طرح ہر تجسس کی انگلی تھامے چلیں۔۔ سو ہم بھی چلتے چلے


)جاری ہے (

ام قیس – جدارا (حصہ اوّل (

‎قدیم تاریخی جگہوں پر جانا میرے لیے، میری ذات کا کاشفِ انوار ہے، اپنے اندر کے بچے کے تحیر سے ملنا سرخوشی ہے اور روح کے جمود پر پسندیدہ مِضراب کے لمس سے اُٹھنے والے سُر سننا خوشبختی۔۔ اور یہ سب مجھے ایسی جگہوں پر جا کر ملتا ہے جو نحیف آواز میں ہی سہی، مگر پُرانے پامال گیت گاتی تو ہیں۔ تو پھر ام قیس جانے کا کوئی بھی موقع کیوں ضائع کیا جائے؟ ‎ام قیس کیا ہے؟ یہ اردن کے شمال مغرب میں ایک قصبہ ہے۔ جہاں وہی دن سا دن اور رات سی رات ہوتی ہے تو پھر اس میں مجسم ‘میں اُڈی اُڈی جاواں ہوا دے نال’ ہونے کی ضرورت؟
کیونکہ اس شہر کی ایک تاریخ ہے جو میں آپکونہیں بتاؤں گی۔ اس لیے کہ یہ میرا کام نہیں، مجھے تو یہ معلوم ہے کہ یہاں رومن ثقافت کی معراج کے دنوں کی ایک جھلک ہے ۔۔ زلزلے اور وقت کی بے رحمی کے باوجود ایک عظیم الشان شہر کی باقیات پھر بھی جیتی ہیں ۔۔ یہاں اپنی ذات سے ماورا کر دینے والا نظارہ ہے اور اپنے آپ سے ملنے کرنے کے لیے بیشمار کونے ۔۔تو بس پھر، جدارا ہم آرہے ہیں۔ یہ اس شہر کا پُرانا نام ہے اور یہ ڈیکاپالیز کے دس شہروں میں سے ایک ہے

‎ یہاں ابھی تک جو میں نے دیکھا ہے، اس میں ایک مغربی تھیٹر، رومن چرچ اور اس کے ستون، رومن بازار و دُکانیں اور فوارہ نما غُسل گاہ ہے۔ ایک رومن سڑک ہے جس کے دو اطراف تباہ حال ستون ایستادہ ہیں۔ پھر جدارا کی خوبی اس کے چہار اطراف سے نظر آنیوالا نظارہ ہے۔ جولان کا منظر ہے۔ طبریا یا الجلیل کو دیکھا جا سکتاہے ۔۔ فلسطینی اور شامی ‘اپنا’ مُلک دیکھ سکتے ہیں۔ اسرائیل تو نظر آتا ہی ہے۔۔ مگر یہ صاف آسمان اور موسم پر منحصر ہے
سیاحوں کے رش کے باوجود یہاں سکون کا احساس ہوتا ہے۔ میں نے یہاں مختلف قومیتوں کے لوگوں کو بڑے سکون اور پُر اشتیاق انداز سے گھومتے اور تصویریں کھینچتے دیکھا۔

 
جدارا جُوں جُوں قریب ہوتا جاتا ہے، اُتنا ہی پیلے پھولوں کے تاج بیچتے بچے بڑے جا بجا دکھائی دیتے ہیں اور اکثریت یہ ہار نما تاج خرید کر اور سر پر جما کے جدارا میں گھومتی نظر آتی ہے۔ ہمارا شُمار چونکہ نا بچوں میں ہوتا ہے نا سیاحوں میں اور نہ ہی سولہ سالہ کسی الہڑ حسینہ میں تو اس لیے ہم نے اس سے اجتناب کیا۔۔ ویسے اسے پہننے میں عُمر کی کوئی قید نہیں۔
داخلی راستہ ایک بڑے صحن نُما میدان میں لے جاتا ہے جو کہ اصل میں پارکنگ بھی ہے، یہاں کھانے پینے کے سٹالز بھی ہیں اور کچھ اور مقامی طور پر تیار کی گئی چیزیں۔ اردنی لوگ عموماً خاندان کے ساتھ آتے ہیں اور گھوم پھر کر قریبی جنگلات میں بار بی کیو کرتے ہیں 
اس سٹال گاہ سے زینہ طے 

‎کرتے اوپر جائیں تو ٹکٹ گھر ہے اور سامنے دروازے سے اندر داخل ہونے کا راستہ۔۔ایک چیز جو مشاہدے میں آتی ہے کہ جو بچی کھچی پتھر کی سیڑھیاں یہاں ہیں وہ کافی چوڑی اور اونچی ہیں جو شاید اس بات کا مظہر ہیں کہ ‎

یہاں کے رہائشی قد آور مضبوط ڈیل ڈول کے لوگ تھے
صبح آنے کا فائدہ یہ ہے کہ تمام دن یہاں خانماںِ برباد ہوا جا سکتا ہے، خانماں برباد اس لیے کہ کھنڈرات میں کھِلے رنگین پھولوں سے زیادہ آگہی کیا ہو گی اور آگہی مکمل طور پر آباد نہیں رہنے دیتی۔

‎جدارا کا ایک منظر

    ‎اب چونکہ میں مثلِ عاشق بے چین ہوتی ہوں ایسی جگہوں کے سحر میں کھونے کو تو اکثر تصاویر کھینچنا بھول جاتی ہوں ورنہ کچے راستے پر چلتے نظر اُٹھا کے سامنے دیکھنے پر جو محسوس ہوتا ہے وہ ایسا ہے جیسے آپ اپنی ذات میں جھانکتے ہیں اور کچھ تباہ حال کچھ پُر تمکنت کچھ جلال اور کُچھ شکستگی دکھائی دیتی ہے۔ اور تحیر کی لپک بھی کہیں پہلو میں محسوس ہوتی ہے 

    اس ملے جُلے احساس کی ایک نسبتاً کم اچھے معیار کی تصویر

    آگے بڑھیں تو دائیں اور بائیں

    ‎دیکھیں اور اچانک وقت کے بہتے سیال میں

    خود کو ایک چھوٹا موٹا ذرہ محسوس کریں۔

     نہ بھی کریں تو خیر ہے۔ سچ تو سچ ہی رہے گا

    ‎بائیں جانب سے زیادہ یہاں داہنی جانب نظر

    جاتی ہے۔۔ یہ بلند و بالا سا مقام کیا ہے؟

    ویسٹرن تھیٹر ( مغربی تماشا گاہ)

    یہ رومن ایمفی تھیٹر ہے۔ ‎ایک راستہ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے جو تقریباً نیم اندھیرا زینہ ہے۔ سیڑھیاں پھلانگتے اوپر جائیں تو راستہ ایک نیم روشن راہداری سے ہوتا تھیٹر کی گول نشست گاہ میں کھُلتا ہے



    ‎یہ نسبتاً محفوظ حالت میں ہے یا کم از کم

    خیالات میں اسکے حشمت کے دنوں کا نقشہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ‎

    ذرا پتھروں کی بناوٹ دیکھیں اور ان سے پھوٹتا سبزہ اور ان پر جمی کائی دیکھیں ۔ یہی ہے وہ جگہ جہاں اُمرا کھیل تماشے دیکھنے آتے ہوں گے اور اب ہم اُنکی تاریخ کھنگالتے ہیں اور ہم بھی تو نقشِ پا ہی رہ جائیں گے جو اس شہر میں آئے۔ وقت کے تغافل و تبدل پر چلے اور پھر خود بھی اسی کا شکار ہو گئے



    ‎یہاں ناظر کے لیے نظارہ ہے، داخلی/خارجی دروازے ہیں، اور غرب رُو سڑک ہے جس کے ‏ ‏عین اوپر سورج ڈھلتا ہے اپنے شفق چہرے سے پھوٹتی کرنیں اس عجوبہ شہر پر اچھالتا ہے اور اگر آپ اس تھیٹر کی سب سے بلند نشستی قطار میں ہیں تو ‏ ‏یہ سورج مغرب میں نہیں، آپکے شہرِ دل میں کہیں اُتر جائے گا ۔۔ ہو سکتا ہے ۔۔ اس منظر کی چکاچوند میں آپ اپنی روح میں بھی جھانک سکیں


    ‎یہاں سے نکلے اور قدم آگے بڑھائے تو معلوم ہوا رومن بازار میں ٹہل رہے ہیں۔ دکانیں بیرک نما تھیں جن کے داخلی دروازے محرابی تھے


    ‎اور یہاں گھومتے ان ستونوں نے ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی اور وہی ازلی تجسس جو مہمیز بھی کرتا ہے اور قدم بھی جکڑتا ہے۔ اب ان ستونوں کی کیا کہانی ہے کیا ماضی ہے؟ اس سوچ میں قدم آگے بڑھے۔ 

    کون تھے وہ بیوپاری اور خریدار جو یہاں بھاؤ تاؤ کرتے تھے۔ کہاں ہوئے۔ قیمتیں لگاتے، نفع نقصان سوچتے خود کیا کما لے گئے


    ‎یہاں اختتام پر راستہ دو جانب مڑتا ہے

    ‎ ہار فروش، آئس کریم اور مشروب فروش

    بھی ہجوم کا حصہ ہوتے ہیں اور اگر آپ گھوڑے پر سوار ہو کر اس جگہ کی سیر کرنا چاہیں تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے مگر دینار خرچ کیجئے ورنہ تو مالک محض تصویر بھی نہیں کھینچنے دے گا ۔۔ ہم نے مگر اپنے قدموں پر اکتفا کیا۔

    ‎ یہ ایک کھلی جگہ ہے اور چاہیں تو تھوڑا آگے بڑھ جائیں جہاں اونچے مقام سے آپ جولان دیکھیں اور شام دیکھیں یا اسرائیل دیکھیں اور اگر موسم اسکی اجازت نہیں دے رہا تو سیلفی لیجئے اور پسِ منظر کا تو کیا کہنا ۔۔ مجھے چونکہ منظر نگاری سے زیادہ اس فضا کو محسوس کرنے کی آرزو تھی سو میں منظر سراہتی محسوس کرتی آگے بڑھ گئی۔ اس کی یہ بھی وجہ ہے کہ میں یہاں ایک سے زائد بار آ چُکی ہوں

    ‎داہنی اور باہنی دونوں جانب پتھریلی سڑک ہے۔ مجھے چونکہ رومن گرجے / معبد کی پُراسراریت بُلاتی تھی تو میں دائیں جانب بڑھی 


    یہاں ٹوٹے ستون جا بجا بکھرے ہیں ایک جانب ان پتھروں کے ڈھیرمیں زینہ ہے جو چرچ کے بالائی دالان تک لے جاتا ہے جہاں مجھے جانا تھا اور اسکے سامنے قدیم فوارے کے آثار ہیں 

    فوارے کے باہر موجود نیمفیم کا تعارفی بورڈ

    اب یہاں سمجھ نہیں آتی کہ منقش ستونوں کو سراہا جائے، کاریگر کی مہارت کی داد دی جائے یا امتدادِ زمانہ کو بُرا بھلا کہا جائے جو نہ مُکمل حذف کرتا ہے نہ مُکمل برقرار رکھتا ہے۔ بُلندی سے بہرحال میں نے تصویر نگاری کی


    مندرجہ بالا تصویر میں اگرچہ واضح نہیں مگر طبریا، وادی یرموک اور جولان موجود ہیں اور یہاں سنگِ مرمر، بسالٹ سے بنے ستون بکھرے ہیں اور فوارہ ہے

    بالائی چرچ کی سیڑھیاں میں طے کر چُکی تھی اور یہاں اُلٹ پُلٹ پتھروں کے بیچ ‎

    ایک چکی جو آدھی سے زیادہ وقت کی چکی میں پِس کراپنی صورت کھو چُکی تھی۔ اُس پر نظر پڑی اور ایک خوش پوش خاتون جو دور بین تھامے گھومتی تھیں، ہمارا اشتیاق دیکھ کر شُستہ انگریزی میں گویا ہوئیں۔ بات یہ تھی کہ یہ چکی زیتون کا تیل نکالنے کےکام آتی تھی اور اسے جانور چلاتے یا گھماتے تھے


    ‎اور پھر میں نے نگاہ اُٹھائی تو ۔۔ واللہ ۔۔ اس منظر کا افسردہ فسوُں میرے دل میں بیٹھ گیا۔

    ( جاری ہے )

    “Light is there”

    The crucifying curve of dying moon

    My soul screams in its mouth

    It pierces my throat with the pale flickering of its thin form

    And I find my voice walking on the pyre of hopes

    But there’s a name 

    It can salve the wounds

    It can maim the big body of darkness

    There’s a touch which can gouge the blindness of dreams

    I’ve to con my way to that immortality

    To nourish my thoughts 

    To heal my tiredness

    I want a morsel of beloved’s touch, 

    a feather of his blessed kiss 

    The silence coats my tongue with its sandpapery taste

    This knowing has become a thorny noose 

    And you know;

    This waning moon smells like a butcher’s knife

    I’m a lonesome tree in the desert of its cruel smile

    Though my pride is adamant

    My crown shivers for the nakedness of fear

    My heart could burn the forests of questions

    Yet the hell of distance can’t be doused by tears

    Though my certitude, my answers are meagre 

    In a contrite starved shape of inescapable love

    Light is there

    Light is there 



    فنا فی عشق

    یہ جو نمازِ شوق میں عُمر سے گھرا ہوا ہوں

    دُعا کی ہتھیلی میں کلامِ جنوں لیے

    ایک ہی شخص کے سامنے جُھکا ہوا ہوُں

    میں فنا فی عشق ہوا ہوں

    یہ جو مکینِ عیون ہیں، جگنو نمدار سے 

    خاکِ جان میں تو رواں رہتے ہیں نار سے

    ہجر کی سخاوت سے کنارے تک بھرا ہوا ہوں 

    میں فنا فی عشق ہوا ہوں

    یہ جو وحشی سی کمی ہے، کیا کمی ہے؟

    وجود کی بے ثباتی میں یہی تو کھری ہے

    عدم کی چاہ میں میسر کا مُنکر ہوا ہوں

    میں فنا فی عشق ہوا ہوں

    اب جُدائی ممکن نہیں رہی ہے

    اب میں کو تُم لکھ رہا ہوں

    اب تُم کو میں پڑھ رہا ہوں

    میں فنا فی عشق ہوا ہوں

    پردیس میں۔۔۔

    ہر تیرگی سے اُلجھ کر جیتا ہے تیرے چہرے کا نور


    ہر بزم میں چراغاں ہے تیرے خیال کے سائے کا

    ہر خلوت میں رُوبرو ہے تیری چشم کی اُکساتی لو

    ہر رُخسار پہ جگمگاتا ہے تیری جدائی کا آنسو 

    ہر خمِ لب پر چھلکی ہے تیری پیاس کی ضیا

    ہر جسم سے اُٹھا ہے تیری جانب کوئی بانہیں پھیلائے

    ہر روح کے دشت میں تیرے ساون کی پیاس ہے

    گلیاں تیرے قدموں کی امید سے مخمل ہیں

    ہوا تیری خوشبو کے بوسے کھوجتی دیوانی ہے

    آسمان تیرے لیے شمس و قمر کی نیاز لیے جھکتا ہے

    میں یہاں بھی تیرے عشق میں تونگر ہوں

    میں یہاں بھی تیرے لیے سر تا پا کشکول ہوں

    تُو یونہی میرا محرم و غنی ہے

    میں یونہی تیرا محروم و مفلس ہوں

    تجھ سے کچھ بھی مبرا نہیں 

    اور میں تجھ سے ابھی بھی بھرا نہیں